کل جوکچھ ہوا وہ پہلے سے طے شدہ ریاستی تشدد تھا، بختاور بھٹو

ویب ڈیسک : 30مئی 2019
راولپنڈی : سابق وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی بختاور بھٹو نے کہا کل جوکچھ ہوا وہ پہلے سے طے شدہ ریاستی تشدد تھا، سلیکٹڈ حکومت پر تمام شہریوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی : سابق وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی بختاور بھٹو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا کل ورکرزپرحملے کے بعد دکھاوے کی سہی مذمت کی توقع تھی، ہیومن رائٹس کی وزیر کو فوری استعفیٰ دینا چاہیے، سلیکٹڈحکومت پر تمام شہریوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کل جوکچھ ہوا وہ پہلے سے طے شدہ ریاستی تشدد تھا۔
Bakhtawar B-Zardari

@BakhtawarBZ
Really expected a condemnation (even pretend) after yesterday’s attack on PPP workers. Human rights minister should immediately resign. This selected gov has a responsibility to all citizens of Pakistan – what happened yesterday was nothing short of pre planned state brutality.
648
11:29 AM – May 30, 2019
Twitter Ads info and privacy
472 people are talking about this

گذشتہ روز بختاور بھٹو نے بلاول بھٹو کی پیشی پر کارکنان کو روکنے کی کوشش اور تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا پی پی پی ورکرزکومارا گیا،گھسیٹا اورگرفتارکیا گیا، ورکرزکےخلاف آنسوگیس اورواٹرکینن کا استعمال کیا گیا، ڈکٹیٹرشپ کے بعدمنصوبہ بندی کے تحت ریاستی تشدد نہیں دیکھا گیا۔
بختاوربھٹو کا کہنا تھا یہ سب اسلام آباد میں نہتے،پُرامن شہریوں کےخلاف ہوا، کارکنوں پرتشددشرمناک اورقطعی طورپرغیرقانونی ہے۔
یاد بلاول کی پیشی کے دوران جیالے اور پولیس اہلکارآمنے سامنے آگئے تھے، ایوب چوک پرپولیس نے پیپلزپارٹی کارکنان کو روکا اور کارکنان کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کا واٹر کینن کااستعمال کیا گیا۔
ایوب چوک پر پیپلزپارٹی کارکنان نے نعرے بازی کی اور پولیس سےہاتھاپائی بھی ہوئی جبکہ حصارتوڑنےکی کوشش والےکارکنان پرپولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا جبکہ پولیس نے پیپلزپارٹی کے40کارکنان کوگرفتارکر کےتھانے منتقل کردیا تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے