ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں پاکستان کو بدترین شکست

کالی آندھی شاہینوں کو اڑا کر لے گئی

ویب ڈیسک | 31مئی 2019

ناٹنگھم: کرکٹ ورلڈ کپ کے دوسرے میچ میں پاکستانی بیٹنگ لائن کالی آندھی کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پوری ٹیم صرف 105 رنز پر آؤٹ ہوگئی جس کے جواب میں ویسٹ انڈیز نے مطلوبہ ہدف 3 وکٹ کے نقصان پر آسانی سے پورا کرکے پاکستان کو بدترین شکست سے دوچار کردیا۔
ناٹنگھم میں کھیلے جارہے میگا ایونٹ کے دوسرے میچ میں پاکستانی بیٹنگ لائن ویسٹ انڈیز کے خلاف بری طرح ناکام دکھائی دی اور پوری ٹیم 22ویں اوور میں صرف 105 رنز پر پویلین واپس لوٹ گئی جو ورلڈکپ قومی ٹیم کا دوسرا کم ترین اسکور ہے، اس سے قبل قومی ٹیم 2015 کے ورلڈکپ میں 160 رنز پر آؤٹ ہوئی تھی۔
106 رنز کے آسان ہدف کے تعاقب میں کرس گیل نے جارحانہ انداز اپنائے رکھا وہ 3 چھکوں اور 6 چوکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد آؤٹ ہوئے، شائے ہوپ 11 اور ڈیرن براؤ بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس لوٹے۔ قومی ٹیم کی جانب سے تینوں وکٹیں محمد عامر نے حاصل کیں۔
اس سے قبل ویسٹ انڈیز باؤلرز نے پاکستانی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کرتے ہوئے تمام بلے بازوں کو 105 رنز پر پویلین لوٹا دیا۔
ناٹنگھم کے ٹرینٹ برج میں دونوں ٹیموں نے اپنی مہم کا آغاز کیا، جہاں ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔
کالی آندھی کے لقب سے مشہور ویسٹ انڈیز ٹیم کی باؤلنگ لائن پاکستانی بلے بازوں کو لپیٹ میں لے کر تمام ہی وکٹیں لے اڑیں۔
پاکستان کی بیٹنگ کا آغاز اچھا نہ تھا اور امام الحق 2 رنز بنا کر 17 کے مجموعے جبکہ آندرے رسل کی گیند پر فخر زمان 22 رنز بنا کر 35 کے مجموعے پر بدقسمت انداز میں بولڈ ہوگئے۔
ٹیم کے اسکور میں 10 رنز کا ہی اضافہ ہوا تھا کہ حارث سہیل 8 رنز بنانے کے بعد آندرے رسل کی گیند پر وکٹ کیپر شے ہوپ کو کیچ دے بیٹھے۔
سرفراز احمد اور بابر اعظم نے اسکور کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تاہم پہلے بابر اعظم 22 رنز بنانے کے بعد 62 پر آؤٹ ہوئے جن کا اوشین تھومس کی گیند پر شے ہوپ نے ایک بہترین کیچ لیا، جبکہ سرفراز احمد بھی 8 رنز بنا کر 75 کے مجموعے پر جیسن ہولڈر کی گیند پر شے ہوپ کو کیچ دے بیٹھے۔
آدھی ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی، امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ تجربہ کار بلے باز محمد حفیظ ٹیم کا اسکور آگے لے جانے کی کوشش کریں گے، لیکن ایسا نہیں ہوسکا کیونکہ وکٹ کی دوسرے جانب عماد وسیم اور حسن علی ایک ایک جبکہ شاداب خان بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔
محمد حفیظ کی مزاحمت بھی زیادہ دیر نہ چل سکی اور وہ 16 رنز بنانے کےبعد اوشین تھومس کا شکار بنے جس کے ساتھ ہی پاکستانی بیٹنگ لائن 83 رنز پر 9 وکٹوں سے محروم ہوگئی۔
اس مقام پر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ شاید پاکستانی ٹیم 100 کا ہندسہ بھی عبور نہ کر سکے لیکن ایسے میں ٹیل اینڈر وہاب ریاض نے 2 چھکے اور ایک چوکا لگا کر 18 رنز بنائے اور ٹیم کو 105 رنز تک پہنچا دیا جہاں وہ بھی اوشین تھومس کی گیند پر بولڈ ہوگئے اور پوری ٹیم آل آؤٹ ہوگئی۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے اوشین تھومس نے 4، جیسن ہولڈر نے 3، آندرے رسل نے 2 جبکہ شیلڈن کوٹریل نے ایک وکٹ حاصل کی۔
پاکستان ٹیم ورلڈکپ کی تاریخ کے اپنے دوسرے کم ترین اسکور پر آؤٹ ہوئی جہاں قومی ٹیم کے 7 بیٹسمین 10 کے ہندسے میں بھی نہیں پہنچ سکے۔
یاد رہے کہ ورلڈکپ میں پاکستان کا کم ترین اسکور 74 رنز ہے جو اس نے 1992 کے ورلڈکپ میں انگلینڈ کے خلاف اسکور کیا تھا، تاہم وہ میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا اور ٹیم شکست سے بچ گئی تھی۔
ویسٹ انڈیز کی ٹیم وارم اپ میچوں اور اس سے قبل ون ڈے سیریز میں عمدہ بیٹنگ سے اپنے خطرناک عزائم ظاہر کر چکی ہے لیکن پاکستان ٹیم ان دنوں انتہائی ابتر صورت حال سے گزر رہی ہے جسے اپنے گزشتہ 10میچوں میں مسلسل شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
سرفراز احمد اور ان کی ٹیم کے لیے سب سے بڑا چیلنج شکستوں کے اس سلسلے کو بھول کر عالمی کپ کے پہلے میچ میں عمدہ کھیل پیش کرنا ہے لیکن ناٹنگھم میں کالی آندھی شاہینوں کو اڑا کرلے گئی اور پاکستان کو ورلڈ کپ کے پہلے ہی میچ میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے