لڑکیوں کو اچھے رشتے کےلیے ڈاکٹر بنایا جاتا ہے:ڈاکٹر یاسمین راشد

پینتیس فیصد لڑکیاں ڈاکٹر بننے کے بعد شعبہ میڈیکل سے وابستہ نہیں رہتیں

ویب ڈیسک : 03جون 2019
لاہور : وزیرصحت پنجاب یاسمین راشد نے کہا ہے کہ35فیصد خواتین ڈاکٹر بننے کے بعد پیشے سے منسلک نہیں رہتیں، بچیوں کو اچھے رشتے کیلئے ڈاکٹربنایا جاتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک ٹی وی کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا، یاسمین راشد نے کہا کہ ملک کے مختلف میڈیکل کالجز سے کامیاب ہونے والی35فیصد خواتین ڈاکٹرز اپنے فرائض انجام نہیں دے رہی ہیں۔
وزیرصحت پنجاب نے کہا کہ میڈیکل کالج میں داخلہ لینے والی لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے،18سال مہنگی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے ہنر کا اظہار نہ کیا جائے تو غلط ہے۔
یاسمین راشد کا مزید کہنا تھا کہ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ بچیوں کو ڈاکٹر اچھے رشتے کیلئے بنایا جاتا ہے اور بد قسمتی سے شادی کے بعد بچیوں کو بطور ڈاکٹرز کردار ادا کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ میڈیکل کے طالب علم کی پڑھائی پر30سے40لاکھ روپے خرچ آتا ہے، پرائیوٹ کالجز میں بھی لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے، اس کے علاوہ میڈیکل طالبعلم پر پرائیوٹ کالجز میں بھی سالانہ 10لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ لیڈی ڈاکٹرز ٹیلی میڈیسن کے ذریعے بھی اپنے ہنر کا مظاہرہ کر کے ملک و قوم کی خدمت کرسکتی ہیں، لیڈی ڈاکٹرز کیلئے ٹیلی میڈسن کو اہمیت دے رہے ہیں۔
وزیرصحت نے کہا کہ سوچ میں تبدیلی کے لئے ہم سب کو شعور اجاگر کرنا ہوگا، آبادی کا51فیصد طبقہ ملکی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا نہیں کرے گا تو معاشرے میں تبدیلی ناممکن ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے