حکومت سلیکٹڈ عدلیہ اور سلیکٹڈ میڈیا چاہتی ہے،بلاول

زرداری نے بطور احتجاج گرفتاری دی،پریس کانفرنس

ویب ڈیسک | 10جون2019

اسلام آباد : پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مجھے ایوان میں بولنے کا موقع نہیں دیا گیا، اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتا ہوں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےبلاول بھٹو نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں بھی اسپیکر نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے بولنے دینگے، آج بھی وعدہ کیا گیا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
قومی اسمبلی کے دوسرےسیشن میں بھی بات نہیں کرنے دی گئی، ڈپٹی اسپیکر حکومتی ارکان کی ہدایت پر ایوان چلارہے ہوتے ہیں، لہٰذا اسپیکر اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان اسمبلی پر اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے کر بھی تشدد کا نشانہ بنایا، پہلے میں سمجھتا تھا پولیس ملوث ہے لیکن اس میں حکومت بھی ملوث ہے
وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو ارکان اسمبلی بھی حراست میں ہیں، اسپیکر کو خط لکھا تھا ان ارکان کو پوچھے بغیر گرفتارکیا گیا ہے، اسپیکر سے وزیرستان کے ایم این ایز کے پروڈکشن آرڈرزکا مطالبہ کیا تھا، ہم چاہتے ہیں محسن داوڑ اورعلی وزیرکا فیئرٹرائل ہونا چاہیے، چاہتے ہیں کہ محسن داوڑاور علی وزیر بھی اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھیں۔ایسے اقدامات تو ہم نے مشرف کی قومی اسمبلی میں بھی نہیں دیکھے تھے، نیب اور باقی ادارےارکان اسمبلی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، ارکان اسمبلی کو کسی نہ کسی طریقے سے گرفتار کیا جارہا ہے، ہر شخص کو فیئر ٹرائل کاحق ہے، حکومت جمہوری حق پرحملے کررہی ہے، سندھ اسمبلی کے اسپیکرکے گھرپر حملہ کیا گیا، اس وقت ان کے خواتین اور بچے گھر میں تھے۔بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ نیب اور باقی ادارے ارکان اسمبلی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، ارکان اسمبلی کو کسی نہ کسی بہانے سے گرفتار کیا جارہا ہے، ہرشخص کو فیئر ٹرائل کا حق ہے.حکومت جمہوری حق پرحملے کررہی ہے، ارکان اسمبلی فلور پر گفتگو کرتے ہیں تو اسے بھی سنسر کیا جاتا ہے، یہ حکومت سلیکٹڈ عدلیہ اور سلیکٹڈ میڈیا چاہتی ہے، اب کہا جارہا ہے کہ عدلیہ پر جو حملے ہورہے ہیں اس پر بات نہ کریں، کسی جمہوری ملک میں ایسےاقدامات نہیں ہوتے،نجی ٹی وی کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کا کوئی حکم نہیں دیا بلکہ انہوں نے احتجاجاً گرفتاری دی۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ‘حکومت جمہوری اور انسانی حقوق پر حملے کر رہی ہے، یہ مارتے ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے،حکومت اظہار آزادی پر بھی پابندی لگا رہی ہے، مخالف سیاسی شخصیات کے انٹرویوز نشر نہیں ہونے دیئے جاتے، پارلیمنٹ ہاؤس کے فلور پر بات کرنے والے اراکین کی بات دبا دی جاتی ہے، ایوب خان، ضیاالحق، پرویز مشرف اور نئے پاکستان میں کیا فرق ہے؟ ایوب، ضیا، مشرف کے دور میں بھی بولنے کی اجازت نہیں تھی آج بھی نہیں ہے۔’انہوں نے کہا کہ ‘آج اسمبلی کا اجلاس چل رہا تھا، کل بجٹ سیشن ہوگا، ایسی صورت حال میں آصف زرداری کو گرفتار کیا گیا اور حکومت نے انہیں اسمبلی اجلاس میں شرکت سے روکا، ہمیں آج بھی فری ٹرائل کا حق نہیں دیا جارہا، جمہوریت اور معاشی حقوق کے لیے لڑنا میرا فرض ہے، اس بچے کو کیسے ڈرائیں گے جس کے والد نے 11 سال جیل کاٹی، موت سے اس بچے کو کیسے ڈرائیں گے جس کی والدہ اور نانا کو شہید کیا گیا، جس کے ایک ماموں کو زہر اور دوسرے کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔’چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ‘اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کوئی حکم نہیں دیا بلکہ انہوں نے احتجاجاً گرفتاری دی، نیب ٹیم بغیر آرڈرز کے آصف زرداری کی گرفتاری کے لیے زرداری ہاؤس پہنچی۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘نیا پاکستان عوام کے لیے عذاب بن گیا ہے، چاہتے ہیں پارلیمان اپنی مدت پوری کرے لیکن لگتا ہے حکومت نہیں چاہتی کہ قومی اسمبلی چلے، اپوزیشن حکومت کا احتساب کرتی ہے، حکومت اپوزیشن کے خلاف جو کرتی ہے وہ سیاسی انتقام ہے، علیمہ خان کا احتساب کب ہوگا؟ انہیں اور جہانگیر ترین کو کلین چٹ دی گئی۔’
قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری نے آصف زرداری کی درخواست ضمانت مسترد ہونے اور نیب کی طرف سے ان کی گرفتاری پر کارکنان سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ جیالے اشتعال میں نہ آئیں، متنازع عدالتی فیصلوں کوعوام نے کبھی قبول نہیں کیا اور ہم نے ہمیشہ عدالتوں میں اپنی بے گناہی کوثابت کیا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جانب دارانہ عدالتی فیصلوں کے باوجود قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے