وفاقی بجٹ پر تاجروں کا ملاجلاردعمل

ویب ڈیسک | 11جون 2019
لاہور : مالی سال 20-2019 کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ پر ملک بھر کی تاجر برادری نے ملا جلا رد عمل دیا ہے۔

لاہور:

لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر الماس حیدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی بجٹ 20-2019 کو مناسب قرار دے دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘مشکل معاشی حالات میں یہ بجٹ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے’انہوں نے کہا کہ بجٹ میں خام مال پرڈیوٹی زیروریٹڈ کرنا اچھا کام ہے اس سے بر آمدات میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں نجکاری کا اعلان خوش آئند ہے، منصوبوں کو چلانا حکومت کا کام نہیں، اس کے لیے کاروباری برادری کو موقع دیا جانا چاہیے، مزدوروں کے لیے کم ازکم تنخواہ 17 ہزار 500 کرنا بھی اچھا اقدام ہے۔انہوں نے بجٹ پر حکومتی اقدامات کو سراہا تاہم گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے پر تحفظات کا اظہار کیا لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر، سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے وفاقی بجٹ تقریر کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ یہ میزانیہ مشکل معاشی حالات کی نشاندہی کرتا ہے لیکن موجودہ حالات میں اسے متوازن کہا جاسکتا ہے، ، حکومت کو آئندہ سال کے لیے مقررہ معاشی اہداف حاصل کرنے کے لیے غیرمعمولی کوششیں کرنا ہونگی۔ لاہور چیمبر کے سابق صدور افتخار علی ملک، میا ںانجم نثار، شاہد حسن شیخ، محمد علی میاں، ملک طاہر جاوید، سابق سینئر نائب صدور عرفان اقبال شیخ، میاں طارق مصباح، امجد علی جاوا، خواجہ خاور رشید، سابق نائب صدر ذیشان خلیل اور ایگزیکٹو کمیٹی ممبران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ خام مال سمیت سولہ سو آئٹمز پر ڈیوٹیوں کو زیرو کرنا بہت اچھا قدم ہے، یہ تمام چیمبرز کی مشترکہ تجویز تھی اور اس سے کاروباری لاگت میں کمی آئے گی، اصلاحات کی بدولت کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بارہ ارب ڈالر سے کم ہوکر دس ارب ڈالر تک آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں آبی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر سو ارب روپے مختص کرنا حکومت کی سنجیدگی ظاہر کرتا ہے، اس سے پانی کی قلت پر قابو پانے اور سستی بجلی کی پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ نقصان دہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز ٹیکس دہندگان سے حاصل ہونے والا ریونیو کھارہے ہیں، ان کی نجکاری بہتر قدم ہوگا۔ انہوں نے کم از کم اجرت ، فصلوں کی انشورنس اور کیبنٹ اراکین کی تنخواہوں میں کٹوتی کے اقدامات کو سراہا۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ ریفنڈز کی جلد سے جلد ادائیگی یقینی بنائی جائے کیونکہ اس کی وجہ سے کاروباری برادری کے مالی مسائل بڑھ رہے ہیں اور اعتماد کا فقدان بھی پیدا ہورہا ہے، انہوں نے کہا کہ اثاثہ جات ظاہر کرنے کی سکیم لاہور چیمبر کا آئیڈیا تھا، تاجر ردری کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے سے گاڑیوں کی قیمت بڑھے گی جس سے آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ پلان متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو 5550ارب روپے کا محاصل ہدف حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانا اور کاروباری برادری کو سہولیات دینا ہونگی۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ اشیائے ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ سے عام آدمی متاثر ہوگاجس سے اس کی قوت خرید میں کمی آئے گی، ان اعلانات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

کراچی:

وزیر مملکت حماد اظہر کی جانب سے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے کے بعد کراچی کے معروف تاجر سراج قاسم تیلی نے کراچی چیمبر آف کامرس میں دیگر تاجروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں کئی اقدامات خوش آئند اقدامات کیے ہیں اور 5 ہزار 550 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف طے کیا گیا جو گزشتہ سال سے 1550 سے 1600 ارب زیادہ ہے تاہم ایسا کرنا بہت مشکل ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘بجٹ میں چینی کی قیمتوں پر لگنے والے ٹیکس میں اضافے سے حکومت کا عام آدمی کو ریلیف دینے کا دعویٰ غلط ثابت ہوا جبکہ سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ کرکے اپنا گھر بنانے کے خواہش مند افراد کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘تاجر برادری نے جو عمران خان سے امیدیں رکھی تھیں اس پر وہ پورا نہیں اترے ڈالر کی وجہ سے صنعتوں کا پہلے ہی برا حال ہے صنعت کار اتنا ٹیکس کہاں سے دیں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس صنعت پر وہ ٹیکس لگارہے ہیں کیا اس کی اتنی استطاعت ہے کہ وہ اضافی ٹیکس ادا کرسکے’۔انہوں نے تجویز دی کہ بجٹ میں تبدیلیاں کرنی چاہیے۔

پشاور:

سرحد چیمبر آف کامرس نے وفاقی بجٹ 20-2019 مسترد کردیا اور کہا کہ بجٹ میں صرف ٹیکس لگائے گئے ہیں جبکہ آمدن کے ذرائع بڑھانے کا کوئی طریقہ نہیں بتایا گیا۔معروف تاجر فیض محمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ‘جس شرح سے ٹیکس لگائے گئے ہیں مزید مہنگائی ہوگی، حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو 5 سال کے لیے ٹیکس سے استثنیٰ کا مطالبہ نظر انداز کردیا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘بجٹ میں کراچی اور کوئٹہ کو پیکج دیا گیا لیکن پشاور کو نظرانداز کردیا گیا’۔

کوئٹہ:

کوئٹہ چیمبر آف کامرس نے بھی مالی سال 20-2019 کا بجٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں انڈسٹریز کے قیام سے متعلق بات نہیں کی گئی۔معروف تاجر جمعہ خان بادیزئی کا کہنا تھا کہ ‘تاجروں اور صنعتکاروں کے لیے وفاقی حکومت نے کسی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا اور تاجروں کے لیے ریلیف کے بجائے مزید مشکلات پیدا کی گئیں ہیں۔تاجر بدرالدین کا کہنا تھا کہ اس بجٹ سے صوبے میں موجود صنعتیں مزید بدحالی کی جانب جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے برآمدات کی مد میں صرف 40 ارب روپے رکھے ہیں جو ناکافی ہیں، خام مال کی قیمت بڑھنے کا واضح اثر صنعتکاروں پر ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘ وفاقی حکومت نے بجٹ میں ہمسایہ ممالک سے کاروباری روابط سے متعلق حکمت عملی وضع نہیں کی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے