اوباڑو: سرکاری ریسٹ ہاؤس میں آگ لگ گئی،10گاڑیاں جل کر خاکستر

رپورٹ: این اے ملک: بدھ 12جون 2019

اوباڑو: سرکاری ریسٹ ہاؤس میں کھڑی ایکسائز پولیس کی طرف سے پکڑی گئی گاڑیوں میں اچانک آگ لگ گئی جس کے باعث‌ دس گاڑیاں جل کر خاکستر ہو گئیں
تین گھنٹے کی جدوجہد کے بعد میونسپل کمیٹی اوباڑو، ڈہرکی اور شوگرملز کی پانچ فائر برگیڈ نے آگ پر قابو پایا ۔آگ لگنے سے جلنے والی گاڑیوں سے مبینہ طور پر ایکسائز پولیس نے سپیئرپارٹس اور قیمتی سامان پہلے ہی نکالا کر فروخت کر دیا تھا، ایکسائز ذرائع
تفصیل کے مطابق اوباڑو شہر کے وسط میں واقع سرکاری ریسٹ ہاؤس میں کھڑی گاڑیوں کو اچانک آگ لگ گئی۔دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے تیزی سے ریسٹ ہاؤس میں کھڑی گاڑیوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا اطلاع ملنے کے باوجودٹاؤن کمیٹی اوباڑو کی واحد فائر بریگیڈ تاخیر سے پہنچی اور نامکمل مشینری اور آلات نہ ہونے کے باعث آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا جس پر اسسٹنٹ کمشنر اوباڑو فیاض احمد شیخ،مختیار کار اوباڑو امان اللہ ڈہر، ٹی ایم او اسد اللہ ڈہر، ایس ایچ او جمن خان کھوسو نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں کا جائزہ لیا۔قبل ازیں اسسنٹ کمشنر اوباڑو فیاض احمد شیخ نے فوری طور میونسپل کمیٹی اوباڑو، ڈہرکی، نجی شوگرملز سے مزید فائر بریگیڈز طلب کی جس کے بعد تین گھنٹے کی جدوجہد کے بعد پانچ فائر بریگیڈز نے آگ پر قابو پایا، ریسٹ ہاؤس میں گذشتہ کئی سالوں سے کھڑی گاڑیاں ایکسائز پولیس نے منشیات اسمگلنگ اور دیگر کارروائیوں میں تحویل میں لے رکھی تھیں۔ ایکسائز ذرائع کے مطابق جلنے والی گاڑیوں سے ایکسائز پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے قیمتی سامان اور اسپیئرپارٹس نکال کر آگ لگائی گئی ہے تاکہ مبینہ طور پر لاکھوں روپے مالیت کے فروخت کئے گئے سامان کی تحقیقات سے خود کو بچا سکیں۔ایکسائز انسپکٹر قمرالدین سیال نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ریسٹ ہاؤس کی دیواریں چھوٹی ہیں اور گند کچرا بھرا ہونے کے باعث کسی نے سگریٹ پھینکا ہے جس کے باعث آگ لگی آگ لگنے سے آٹھ گاڑیاں مکمل طور پر جل گئیں جبکہ دو کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ 1990 سے مختلف مقدمات میں حراست میں لی گئی گاڑیاں ریسٹ ہاؤس میں موجود ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے