قومی اسمبلی:بجٹ پر بحث ہنگامہ آرائی کی نذر،اجلاس پیر تک ملتوی

ویب ڈیسک | جمعہ 14جون 2019
اسلام آباد: ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس تیسری مرتبہ شروع ہونے کے باوجود اراکین اسمبلی کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان کی کارروائی پیر تک ملتوی کردی۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان زیریں کے بجٹ سیشن میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے کے تنازع پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی وجہ سے اجلاس 2 مرتبہ ملتوی کردیا تھا۔تیسری مرتبہ شروع ہونے والے اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی لیکن قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ایوان میں خاموشی نہ ہونے کی وجہ سے اپنی تقریر کا باقاعدہ آغاز نہیں کرسکے۔انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے بارہا استدعا کی ہاؤس ان آرڈر کریں اور جو اراکین اسمبلی میں ناموسِ صحابہ کے اہم موضوع پر بات کرنا چاہ رہے ہیں انہیں موقع دیں۔
شہباز شریف کا خطاب شروع ہوتے ہی ارکان اسمبلی نشستوں سے کھڑے ہوگئے، اس دوران حکومتی اراکین نے کہا کہ پوائنٹ آرڈر پر بات کرنی ہے، ڈپٹی اسپیکرنے اپوزیشن لیڈرکو مائیک دیا تو اسعدمحمود اور مولانا واسع کھڑے ہوگئے جس پر شہباز شریف تقریر کیے بغیر دوبارہ نشست پر بیٹھ گئے۔اس دوران ڈپٹی اسپیکر نے تنبیہ کی کہ ارکان اسمبلی اپنی اپنی نشست پر جاکر بیٹھیں اور شائستگی سے ایوان کو چلنے دیں۔
ڈپٹی اسیکر نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال اور رہنما پیپلزپارٹی حنا ربانی کھر کوایوان میں ویڈیو بنانے سے روکا اور تنبیہ کی کہ جو لوگ ویڈیو بنارہے ہیں ان کے موبائل فونز لے لیے جائیں گے۔
قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کے بارہا اصرار پر شہباز شریف نے تقریر کا آغاز نہیں کیا جس پر قاسم سوری نے کہا کہ قانون کے مطابق بجٹ سیشن پر بحث کا آغاز قائد حزب اختلاف سے ہوتا ہے، آپ کا مائیک آن ہے، تقریر کیوں نہیں کررہے ہیں میری سمجھ سے باہر ہے۔
شہباز شریف نے جیسے ہی اظہارِ خیال شروع کیا تو اسمبلی میں ایک مرتبہ پھر شور شرابا شور ہوگیا،انہوں نے کہا کہ کاش یہ اجلاس آج صبح اپنی کارروائی شروع کرتا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔اسمبلی میں اراکین کا شور شرابا جاری رہا، شہباز شریف نے تقریر شروع کرتے ہوئے کہا کہ اس شرط پر تقریر کا آغاز کررہا ہوں کہ اس کے بعد مولانا اراکین کو ناموس صحابہ کے اہم موضوع پر بات کا موقع دیا گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کی سب سے زیادہ دھاندلی زیادہ حکومت ہے جس پر حکومتی ارکان کی جانب سے احتجاجا شور شرابا کیا گیا۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پی ٹی آئی کی دھاندلی زدہ حکومت کا پہلا بجٹ پیش کیا گیا، رواں مالی سال پی ٹی آئی حکومت 2 منی بجٹ لے کر آئی جن کے نتیجے میں معیشت تباہی کا شکار ہوئی ۔
شہباز شریف نے کہا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کے خطاب کت دوران ہم ایسا نہیں کریں، لیڈر آف دی ہاؤس کے آنے پر ہم بھی ایسا کریں گے،ان کا کہنا تھا کہ میں چاہوں گا کہ وزیراعظم تقریر کریں اور ہم انہیں بار بار بیٹھنے پر مجبور کریں۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ 10 ماہ میں پاکستان تحریک انصاف کی کارکردگی کا پول کھل گیا، جس طریقے سے آج سے کچھ عرصے پہلے کنٹینر پر کھڑے ہو کر بلند و بانگ دعوے کرتے تھے اور چیخ چیخ کر قوم کو غلط اور بے بنیاد نعرے لگا کر گمراہ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔اس دوران اپوزیشن بنچوں میں سے بعض اراکین ناموس صحابہ کے معاملے پر بولنے کی اجازت مانگتے رہے اور ڈپٹی اسپیکر شہباز شریف کو اپنی بجٹ تقریر جانے رکھنے پر اصرار کرتے رہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم گزشتہ 45 منٹ سے موجود ہیں اور ڈپٹی اسپیکر کا اختیار ہے کہ آپ ایوان کو ان آرڈر کروائیں،انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے آپ مجھے بار بار اٹھانے اور بیٹھا کر میری کمر کا علاج کرارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے غریب آدمی کے منہ سے نوالا چھین لین، سرمایہ کاری برباد کردی اور ڈالر کو آسمان پرپہنچا کرمعیشت کو برباد کردیا۔
جس پر حکومتی اراکین کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی جبکہ ڈپٹی اسپیکرشبہاز شریف کو اپنی تقری جاری رکھنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی بدترین کارکردگی عوام سے نہیں چھپ سکتی اور بناوٹ کے اصولوں سے سچائی چھپ نہیں سکتی۔اس پر حکومتی اراکین نے ڈیسک بجا کر احتجاج کیا تو شبہاز شریف دوبارہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔بعدازاں خورشید شاہ، راجا پرویز اشرف سمیت دیگر اراکین اسپیکر ڈائس پر پہنچ گئے جس پر ڈپٹی اسپیکر نے ایوان منظم نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس پیر تک ملتوی کردیا۔
قبل ازیں پی پی پی کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو پوائنٹ آف آرڈر پر ڈائس ملنے پر حکومتی اراکن نے شدید احتجاج کیا۔
جب پوائنٹ آف آرڈر کا اعلان کیا گیا تو پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے زیر حراست سابق صدر آصف علی زردری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر احتجاج کیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو خطاب کرنے کا کہا جس شہباز شریف نے راجہ پرویز اشرف کو بات کرنے کا موقع دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔
راجہ پرویز اشرف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پارلیمنٹ سے محض 3 کلومیڑ کے فاصلے پر موجود ہیں اور پارلیمنٹ کے اہم اجلاس میں ان کی عدم موجودگی اچھی روایت تصور نہیں کی جائے گی۔اس دوران حکومتی بینچز سے مسلسل احتجاج جاری رہا اور اسپیکر قومی اسمبلی ایوان میں نظم و ضبط قائم رکھنے کی ہدایت کرتے رہے۔سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومتی بینچوں کی جانب سے رویہ درست نہیں ہے، انہیں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کنٹینرز دینے کی بات کرنے والے اپوزیشن کو ڈائس ملنے پر آگ بگولہ ہورہے ہیں۔
اس دوران وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ’مسلم لیگ (ن) کے رہنما شہباز شریف کی طرح ہمیں بھی آئندہ ڈائس دیا جائے‘۔اس پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ’جس کو ضرورت ہوگی اسے ڈائس دیا جائےگا‘۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی سے استدعا کی تھی کہ راجہ پرویز اشرف کو بات کرنے دیں۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما حکومت کی بینجز پر بیٹھ کر مضحکہ خیز باتیں کررہے ہیں، حکومتی رہنماؤں کے لیے تربیتی پروگرام شروع کیا جائے۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے ایوان کا اجلاس پہلے 10 منٹ کے لیے ملتوی کیا۔جب قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو قومی اسمبلی کا ماحول شور شرابے کی نذر ہوگیا جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس 2 بجے تک ملتوی کردیا۔
خیال رہے کہ 10 جون کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد آصف علی زرداری کو زرداری ہاؤس اسلام آباد سے گرفتار کرلیا تھا۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق آصف زرداری قومی اسمبلی سے اپنی گرفتاری دینا چاہتے تھے تاہم انہوں نے بعد میں اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے زرداری ہاؤس سے ہی گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے