بجٹ:پنجاب حکومت کی شعبہ صحت پر خصوصی توجہ

ویب ڈیسک | ہفتہ 15جون 2019

لاہور:پنجاب حکومت نے اپنا سالانہ بجٹ گزشتہ روز پیش کردیاہے ،شعبہ صحت بزدار سرکار کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، پنجاب کے سالانہ بجٹ میں محکمہ صحت کے لئے دو سو اناسی ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
بڑے صوبے کے بڑے بجٹ کا بڑا حصہ شعبہ صحت کے ہاتھ لگ گیا ہےسابق حکومت کی نسبت پی ٹی آئی نے محکمہ صحت کا میزانیہ بیس فیصد بڑھا دیا ہے۔گزشتہ روز پیش کیے گئے بجٹ کے مطابق دو سو اناسی ارب کی خطیر رقم سے نئے منصوبے شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔
چالیس ارب روپے کی لاگت سے لیہ، لاہور، میانوالی، رحییم یار خان، اور ملتان سمیت 9 شہروں میں جدید ہسپتال قائم کیے جائیں گے، محکمہ سپیشلائزڈ اینڈ ہیلتھ کئیر کے لیے مختص 22ارب روپے سے تراسی اسکیمیں فائدہ اٹھائیں گی۔
سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر کے بجٹ سے راولپنڈی میں کارڈیک ویسکیولر انسٹی ٹیوٹ، میڈیکل کالجوں کے طلبہ کے لیے ہاسٹلز،لاہور میں چائلڈ ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی، ڈیرہ غازی خان میں کارڈیالوجی ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔پنجاب کے چھتیس اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کی تقسیم کے لیے دو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ دو سو نواسی نئی ڈائلسیز مشینیں، پینتالیس جدید لفٹس اور چار ہسپتالوں کی ایمرجنسی کا منصوبہ بھی رواں سال مکمل ہو گا۔
پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کی ایک سو انسٹھ اسکیموں پر ساڑھے تئیس ارب روپےخرچ ہوں گے، مختلف شہروں میں سات نئے بنیادی مراکز صحت،فیصل آباد اور خانیوال میں تین نئے دیہی مراکز صحت تعمیر کیے جائیں گے۔
میانوالی، راجن پور اور ملتان میں چار زچہ بچہ ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ تمام ضلعی ہیڈکوارٹرہسپتالوں اورتحصیل ہیڈ کوارٹرہسپتالوں کو اپ گریڈ بھی کیا جائے گا۔بجٹ تقریر میں صوبائی وزیر خزانہ نے سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کے ایک اورنج لائن ٹرین منصوبے پر خرچ ہونے والے پیسے سے پنجاب میں پچاس بڑے ہسپتال تعمیر کیے جاسکتے تھے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے