پنجاب کا بجٹ:حکومت نے شہریوں پرٹیکسوں کا مزید بوجھ لاد دیا

وزیراعلیٰ اور گورنر پنجاب کے اخراجات میں اضافہ

ویب ڈیسک : 15جون 2019
لاہور: پنجاب میں شہریوں سے براہ راست ٹیکس جمع کرنے کے لیے 86ارب روپے کا اضافہ کر دیا گیا،بجٹ میں 10 سیکٹر کے 36 سے زائد کاروبار اور سروسز پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے- حجام سے وکیل، کسان سےلیکر ڈاکٹر،اب سب ٹیکس دینگے، ہیومیوپیتھک ڈاکٹروں، حکیموں پر 3ہزار، وکلاء پر 1ہزار سالانہ ٹیکس عائد کردیا گیا جبکہ جیولرز، الیکٹرانک سٹورز پر 2ہزار، آئس کریم، بیکرز، سویٹس اے سی شاپس پر 5ہزارسالانہ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے
حکومت پنجاب نے نئے مالی سال کے بجٹ میں براہ راست ٹیکسز کی مد میں 294 ارب روپے کا تخمینہ لگایا ہے، جس کے باعث صوبے میں 86 ارب کے اضافی ٹیکس شہریو ں سے وصول کیے جائیں گے ، بجٹ دستاویزات کے مطابق سیلز ٹیکس سروسز میں گزشتہ برس کی نسبت 61 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا، پنجاب انفرانسٹرکچر ڈویلپمنٹ پر 5 ارب روپے، بورڈ آف ریونیوکو 81 ارب، زرعی انکم ٹیکس پر 2 ارب روپے ، لینڈ ریونیو پر 18 ارب ، سٹیمپ ڈیوٹی پر 60 ارب کے ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے۔ ایکسائز اینڈ ٹیکیشن کو39 ارب روپے ، پراپرٹی ٹیکس پر 14 ارب، موٹر وہیکل پر 15 ارب اور صوبائی ایکسائز کو 7 ارب ٹیکس وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے، لگژری ہاؤسز سے ایک ارب کے ٹیکس وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔الیکٹرسٹی ڈیوٹی پر 6 ارب روپے 84 کروڑ روپے، ودہولڈنگ ٹیکس پر 20 ارب اور ٹیلی کمیونیکیشن کو 16 ارب ٹیکس وصولی کی تجویز دی گئی ہے۔10ملازم رکھنے والے فیکٹری مالکان کو بھی اب ٹیکس دینا ہوگا-
ادھر پنجاب حکومت کی بجٹ دستاویزات میں حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ وزیراعلی ٰ پنجاب عثمان بزدار کے دفتر، ہاؤس کے بھی ریکارڈ اخراجات کئے گئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے دفتر، گھر پر 60 کروڑ کے بجائے 78 کروڑ 80 لاکھ خرچ کر ڈالے۔وزیراعلیٰ پنجاب کے ہیلی کاپٹر پر اضافی اخراجات 14 کروڑ 90 لاکھ 37 ہزار روپے کر دئیے گئے۔ ائیر ٹرانسپورٹ کی مرمت کی مد میں 2 کروڑ 21 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ وی آئی پی فلائٹ کی دیکھ بھال اور آپریشن سیل پر کروڑوں روپے اضافی خرچ ہوئے ہیں۔گورنر ہائوس، سیکرٹریٹ نے 9 کروڑ 74 لاکھ روپے اضافی خرچ کر ڈالے، آئندہ مالی سال کے لئے گورنر ہاؤس اور گورنر سیکرٹریٹ کا بجٹ 46 کروڑ سے بڑھا کر 49 کروڑ 31 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز دیدی گئی۔صوبائی وزراء کی رہائشگاہوں کی تزئین و آرائش پر بھی لاکھوں پرخرچ کر ڈالے، باتھ رومز، صحن اور گیٹ کی تزئین و آرائش پر بھی لاکھوں خرچ ہوئے، آئندہ بھی وزراء، افسران کی رہائشگاہوں پر 5 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز مختص کر دئیے گئے۔حکومتی کیسز کا دفاع کرنے کے لئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آفس نے بھی اضافی فنڈز خرچ کئے۔ مختص اخراجات سے ہٹ کر ایک کروڑ 9 لاکھ 29 ہزار روپے اضافی خرچ کئے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال کے لئے وزیراعلیٰ کی رہائشگاہ، آفس اور 90 شارہ کی سیکیورٹی کے لئے 2 کروڑ روپے مختص کرنے کی بھی تجویز دیدی گئی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے