فائیو جی ٹیکنالوجی ہماری زندگی میں کیا انقلاب لائے گی؟

فائیو جی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا مستقبل

ویب ڈیسک : 15جون 2019
ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی(5 جی) کے حصول کے لیے اس وقت دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اپنا پورا زور لگا رہی ہیں کیوں کہ اس میں کامیابی کا مطلب مسقتبل میں دنیا پر حکمرانی کرنے کے مترادف ہوگا۔اس ٹیکنالوجی کی رفتار موجودہ 4 جی سروس سے کئی گنا تیز ہوگی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے دو گھنٹے کی فلم جو اب 7 منٹ میں ڈاؤن لوڈ ہوتی ہے اس کے لیے صرف چھ سیکنڈ درکار ہوں گے۔مذکورہ ٹیکنالوجی ٹوسٹر سے لے کر ٹیلیفون اور الیکٹرک کار سے لے کر بجلی کے گرڈ اسٹیشن تک ہر چیز کو سپورٹ کرے گی۔فائیو جی کیساتھ سب سے بڑی تبدیلی ذرائع مواصلات میں آئے گی جس سے خودکار گاڑیوں میں محفوظ سفر ممکن ہوسکے گا۔ کاریں اور بسیں ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ بھی کرسکیں گی۔اس ضمن نے چین نے حال ہی میں دو کلومیٹرکی سڑک پر فائیوجی سے چلنے والی گاڑی کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔نئی ٹیکنالوجی شعبہ طب میں بھی انقلاب کا سبب بنے گی جس سے ڈاکٹر ہزاروں میل دور بیٹھ کر مرض کی تشخیص اور علاج کر سکیں گے۔ اس کے استعمال سے اربوں کی تعداد میں لوگوں کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں گی۔ڈاکٹر ہزاروں میل دور بیٹھ کر پیچیدہ آپریشنز انجام دے سکیں گے۔ اس ضمن میں رواں سال چین کے ایک ڈاکٹر نے تین ہزار کلو میٹر دور بیٹھ کر مریض کے دماغ کی کامیاب سرجری کی۔
فائیوجی کی مدد سے صنعتی شعبے میں خودکار مشینوں کا استعمال بڑھ جائے گا اور روبوٹ لاکھوں افراد کی جگہ لے لیں گے۔کیشیئر، سیکیورٹی گارڈز اور ٹیکسی ڈرائیورز کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی اور ٹینکنالوجی کی انڈسٹری میں ملازمتوں کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔اس کی مدد سے مصنوعی ذہانت اور ورچوئل ریالٹی روز مرہ زندگی کا حصہ بن جائیں گے۔ ٹیلی کمیونیکیشن اور بائیوٹیکنالوجی اربوں روپے کی انڈسٹری بن جائے گی۔نئی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے اس وقت امریکہ، چین، جاپان اور جنوبی کوریا سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ چین کی کمپنی ہواوے کا دعویٰ ہے کہ اسے اس معاملے میں دیگر کمپنیوں پر سبقت حاصل ہے۔گزشتہ صدی میں امریکہ کو ٹیکنالوجی میں پوری دنیا پر سبقت حاصل رہی ہے جس کی وجہ سے اس یورپی ملک کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہوا۔ ٹیکنالوجی کی وائرلیس انڈسٹری سے امریکہ کے 47 لاکھ افراد وابستہ ہیں اور سالانہ 47 ارب ڈالر کی کمائی ہوتی ہے۔فائیوجی کے استعمال سے2035 تک 3.5 کھرب ڈالر سالانہ آمدنی ہوگی اور 22 کروڑ ملازمتیں پیدا ہوں گی جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس ٹیکنالوجی دوڑ میں شکست سے کھربوں ڈالر کا خسارہ اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔چین نے 2015 میں اس ٹیکنالوجی کے ڈھانچے پر24 کھرب ڈالر خرچ کیے اور فائیوجی کی سہولت فراہم کرنے والے 3 لاکھ 50 ہزار ٹاور لگائے جب کہ امریکہ کے پاس صرف 30 ہزار ٹاور ہیں۔
بہت سے پرجوش لوگ فائیو جی ٹیکنالوجی کو چوتھا صنعتی دور قرار دے رہے ہیں۔ اس وقت دنیا میں دھڑادھڑ نئی ڈیوائسز آ رہی ہیں جو ایک دوسرے سے منسلک ہونے کی کوشش میں مصروف ہیں تاہم رفتار کی کمی اور تاخیر جیسی رکاوٹیں بہت سی مشکلات کو جنم دے رہی ہیں۔ فائیو جی ٹیکنالوجی ان دونوں مسائل کوحل کر کے ایک نئے دور کو جنم دے گی۔
فائیو جی ٹیکنالوجی کی آمد کے بعد دیگر شعبوں کی طرح سوشل میڈیا بھی کئی اہم تبدیلیوں سے گزرے گا جن میں سے چند کا ذکر یہاں کرتے ہیں۔

1 ۔ خود کار گاڑیوں کی بدولت سوشل میڈیا پر زیادہ وقت صرف کیا جا سکے گا

فائیو جی ٹیکنالوجی کی بدولت خود کار گاڑیوں کا رواج عام ہو جائے گا کیونکہ حادثات کا امکان صفر ہو جائے گا۔ تیز رفتار انٹرنیٹ کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ فوری رابطہ کرسکیں گی۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں، جہاں ڈرائیور خوف سے منجمد ہو جاتا ہے، وہاں خودکار گاڑیاں غیرجذباتی انداز میں فیصلے کر کے حادثات سے بچاؤ کر پائیں گی۔ ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں عام ہوجائیں گی تو ان میں بیٹھے افراد تسلی کے ساتھ سوشل میڈیا استعمال کر سکیں گے۔

2 ۔ رابطے میں تاخیر کا خاتمہ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کرے گا

رفتار میں کمی کے باعث دو ڈیوائسز کے درمیان رابطے میں تاخیر ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر کی جانے والی کالز میں ایک دوسرے تک بات پہنچنے میں تاخیر کا تجربہ ایک معمول کی بات ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے عموماً پراسیسرزکو بہت کام کرنا پڑتا ہے۔ فائیو جی ٹیکنالوجی میں یہ مسئلہ نہیں ہوگا اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی وجہ سے ایک سادہ انٹر فیس کے ذریعے بھی ڈیوائسز ایک دوسرے سے بغیر تاخیر کے منسلک ہوسکیں گی۔ اس کی وجہ سے سوشل میڈیا کو ایک نیا رخ ملے گا اور اس کا عمل دخل زندگی میں بڑھ جائے گا۔ فائیو جی کی مقبولیت کے بعد اسمارٹ فونز کی جگہ عینکیں اور دیگر غیرروایتی ڈیوائسز کا استعمال بڑھ جائے گا۔

3۔ دنیا میں ہونے والی سرگرمیوں سے آگاہی آسان ہو جائے گی

چونکہ فائیو جی سے آراستہ ڈیوائسز بہت کم پاور استعمال کرتی ہیں اس لیے یہ ہر گھر، عمارت اور پلازوں کا لازمی حصہ بن جائیں گی۔ ڈیوائسز میں کام کرنے والے سینسرز ایک بار کسی عمارت میں لگانے کے بعد کئی برس تک ایک ہی بیٹری پر کام کرتے رہیں گے جس کی وجہ سے سوشل میڈیا تک تیز رفتار رسائی ہر جگہ موجود ہو گی۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہوئے ہمیں جس قسم کی سست رفتار انٹرنیٹ کا سامنا ہوتا ہے، وہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور سوشل میڈیا پر متحرک رہنا بہت آسان ہو جائے گا۔

4۔ ویڈیوز کا عمل دخل بڑھ جائے گا

فائیو جی ٹیکنالوجی عام ہونے کے بعد اپنی تیز ترین رفتار کی بدولت ویڈیوز کی مقبولیت میں اضافہ کر دے گی۔ لوگ سوشل میڈیا پر لکھ کر گفتگو کرنے کے بجائے ویڈیو ریکارڈ کر کے ڈال دیں گے یا لائیو بحث کیا جا سکے گی جو ابھی زیادہ مقبول نہیں ہے۔ بہت جلد موبائل فون سے لے کر ٹی وی اسکرینز تک تمام اسٹریمنگ فائیو جی کے ذریعے کی جائے گی۔ چینی کمپنی ہواوے نے فائیو جی ٹیکنالوجی سے آراستہ ٹی وی اسکرین مارکیٹ میں لانے کا اعلان کر کے اس جانب پہلا قدم اٹھا دیا ہے۔

5- ڈیجیٹل دنیا میں حقیقی زندگی کا مزا

فائیو جی کی آمد کے بعد سوشل میڈیا پر انسانوں کے درمیان روابط میں حقیقی زندگی کی جھلک بڑھ جائے گی۔ سست رفتار انٹرنیٹ کی وجہ سے روابط میں دوری کا احساس موجود رہتا ہے لیکن ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ بہت سی ایسی ایپس اور ڈیوائسز کو جنم دے گا جس کی بدولت ایک دوسرے سے دور بیٹھے افراد بھی اس طرح بات کر پائیں گے جیسے قریب بیٹھے ہوں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے