پاکستان کی ورلڈ کپ میں بھارت سے ہارنے کی روایت برقرار

بڑے میچ میں شاہینوں کو بڑی شکست

ویب ڈیسک :اپ ڈیٹ 16جون 2019

مانچسٹر: بھارت نے ورلڈکپ کے اہم ترین میچ میں پاکستان کو 89رنز سے شکست دے کر پاکستان کے خلاف ورلڈ کپ میچوں میں ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ برقرار رکھا۔مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلے گئے میچ میں پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی لیکن ان کا یہ فیصلہ تباہ کن ثابت ہوا۔بھارتی بلے باز روہت شرما اور لوکیش راہول نے پراعتماد انداز میں بیٹنگ کا آغاز کیا اور ٹیم کے لیے سنچری پارٹنر شپ قائم کی۔دونوں بلے بازوں نے اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں، تاہم وہاب ریاض نے اپنے دوسرے اسپیل میں 57 رنز بنانے والے لوکیش راہل کو 136 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ کردیا۔تاہم وکٹ کی دوسری جانب روہت شرما نے اپنا روایتی کھیل جاری رکھا اور اپنی سنچری مکمل کی۔پاکستانی فاسٹ باؤلر حسن علی نے 140 رنز بنانے والے روہت شرما کی اننگز کا 234 کے مجموعے پر خاتمہ کیا، تاہم دوسرے اینڈ سے ویرات کوہلی نے تیزی سے رنز بنانے کی ذمے داری سنبھال لی۔بھارت نے تیزی سے رنز بنانے کے لیے ہردک پانڈیا کو وکٹ پر بھیجا جنہوں نے 19گیندوں پر 26رنز بنائے لیکن پھر محمد عامر کی گیند پر بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔مہندرا سنگھ دھونی کا وکٹ پر قیام انتہائی مختصر رہا اور وہ بھی عامر کو وکٹ دے بیٹھے۔اس کے بعد وجے شنکر وکٹ پر آئے لیکن میچ میں بارش نے مداخلت کردی اور تقریباً آدھے گھنٹے کی تاخیر کے بعد میچ دوبارہ شروع ہوا۔
میچ شروع ہوا تو محمد عامر نے ایک اور وکٹ لیتے ہوئے ویرات کوہلی کی 77رنز کی شاندار اننگز کا بھی خاتمہ کردیا۔
بھارتی ٹیم نے مقررہ اوورز میں 5وکٹوں کے نقصان پر 336رنز بنائے، پاکستانی کی جانب سے محمد عامر 3 وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے۔
ہدف کے تعاقب میں امام الحق اور فخر زمان نے ابتدائی اوورز میں محتاظ انداز اپنایا لیکن 13 کے مجموعی اسکور پر وجے شنکر کی گیند پر امام الحق وکٹوں کے سامنے پیڈ لانے کی پاداش میں آؤٹ قرار دیے گئے۔اس کے بعد فخر زمان اور بابر اعظم نے محتاط انداز اپنایا اور بتدریج اسکور کو آگے بڑھاتے ہوئے تمام بھارتی باؤلرز کا ڈٹ کر سامنا کیا۔

فخر زمان نے اپنی نصف سنچری مکمل کی جبکہ بابراعظم نے عمدہ بیٹنگ کی لیکن 48کے اسکور پر کلدپ یادو نے بابر اعظم کی وکٹیں بکھیر دیں۔فخرزمان اور بابر اعظم نے دوسری وکٹ کے لیے 104رنز کی شراکت قائم کی۔فخر سے اپنے ساتھی کی جدائی برداشت نہ ہوئی اور وہ بھی 62رنز بنانے کے بعد کلدیپ کو وکٹ دے بیٹھے اور صرف 3 رنز کے اضافے کے بعد محمد حفیظ بھی آؤٹ ہوگئے۔
شعیب ملک کی تجربہ کاری ایک مرتبہ پھر ٹیم کے لیے سود مند ثابت نہ ہوسکی اور بغیر کوئی رن بنائے پانڈیا کی دوسری وکٹ بن گئے۔کپتان سرفراز احمد اور عماد وسیم نے اسکور 165 تک پہنچایا لیکن اس مرحلے پر سرفراز وجے شنکر کی گیند پر اپنی وکٹیں محفوظ نہ رکھ سکے۔اس کے بعد میچ میں دوبارہ بارش نے مداخلت کردی اور تقریباً آدھے گھنٹے تک میچ شروع نہ ہو سکا۔بارش رکنے کے بعد میچ کو 40اوورز تک محدود کرتے ہوئے پاکستان کو 302رنز کا نظرثانی شدہ ہدف دیا گیا۔پاکستان نے اننگز کے اختتام تک 40اوورز میں 6وکٹوں کے نقصان پر 212رنز بنائے اور بھارت نے میچ میں 89رنز سے فتح حاصل کر لی۔روہت شرما کو 140رنز کی شاندار اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

ٹاس و ٹیم سلیکشن

ٹاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سرفراز کا کہنا تھا کہ موسم کی صورتحال دیکھتے ہوئے پہلے باولنگ کا فیصلہ کیا ہے، ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں، آج شاداب خان اور عماد وسیم کھیل رہے ہیں۔
ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ ٹاس جیت کر ہم بھی پہلے گیند بازی کرتے، مگر بیٹنگ میں کوئی حرج نہیں، ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے، شیکھر دھون کی جگہ وجے شنکر کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
بھارتی ٹیم میں روہت شرما، کے ایل راہول، کپتان ویرات کوہلی، وجے شنکر، کردار یادیو، مہندر سنگھ دھونی، ہارتھک پانڈیا، بھنویشنور کمار، کلدیپ یادیو، چاہل، اور جسپریت بمرا شامل ہیں۔
سرفراز الیون ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے فخر زمان، بابر اعظم، امام الحق، محمد حفیظ، شعیب ملک، عماد وسیم، شاداب خان، حسن علی ، ویاب ریاض اور محمد عامر شامل ہیں۔

تاریخی پس منظر!

دنیائے کرکٹ کا سب سے بڑا سمجھے جانا والا یہ مقابلہ ماضی کے تمام عالمی کپ میں بھارت کے حق میں تقریباً یک طرفہ ہی ثابت ہوا ہے۔
روایتی حریفوں کا پہلا مقابلہ 1992 میں ہوا، بھارت نے اس میچ میں پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 216 رنز بنائے تاہم عظیم کرکٹر سچن ٹنڈولکر کی آل راؤنڈ کارکردگی کے باعث پاکستان کو 43 رنز سے شکست ہوئی۔
1996 کے عالمی کپ میں پاکستان بھارت کے مقابلے میں فیورٹ ٹیم سمجھے جاتی تھی، اس ٹیم میں پاکستان کی تاریخ کے بہترین کھلاڑی موجود تھے، گیند بازی کی بات کی جائے تو وقار یونس، وسیم اکرم، مشتاق احمد اور عاقب جاوید اس وقت دنیائے کرکٹ پر راج کر رہے تھے۔
بلے بازی کی بات کی جائے تو عامر سہیل، سعید انور کی جوڑی کرکٹ سب سے بہترین سلامی جوڑی سمجھی جاتی تھی، مڈل آرڈر میں پاکستان کو انضمام الحق، اعجاز احمد اور لیجنڈری جاوید میاں داد کی خدمات حاصل تھیں۔
اس میچ میں بھارت نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ایک بڑا ہدف پاکستان کے خلاف کھڑا کر دیا، 290 رنز کا ہدف عبور کرنے کے بعد پاکستان سیمی فائل کے لئے کوالیفائی کر سکتا تھا ۔
سعید انور اور عامر سہیل کی سلامی جوڑی نے پاکستان کو بہترین آغاز فراہم کیا دونوں نے پہلی وکٹ کے لئے 84 رنز کی شراکت داری قائم کی تاہم عامر سہیل کی وکٹ گرنے کے بعد قومی ٹیم کے بلے باز ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور بھارت نے پاکستان کو شکست دے دی۔
وسیم اکرم کی قیادت میں 1999 کے عالمی کپ میں اترنے والی پاکستان کی ٹیم بھی کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکی اور اس میچ میں بھی بھارت نے پاکستان کو 47 رنز سے شکست دی۔
2003 میں وقار یونس کی قیادت میں اترنے والی قومی ٹیم سعید انور کی سنچری کی بدولت 273 رنز کا بڑا ہدف دینے میں تو کامیاب ہو گئی مگر سچن ٹنڈولکر اور وریندر سہواگ کی بلے بازی نے میچ کا رخ بدلتے ہوئے قومی ٹیم کو شکست دے دی۔
2011 میں شاہد آفریدی کی قیادت میں کھیلنے والی پاکستانی ٹیم نے عالمی کپ میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا اور سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی مگر ٹاکرا بھارت سے ہوا اور اس میچ میں بھی پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
مصباح الحق کی قیادت میں 2015 کے عالمی کپ میں کھیلنے والی پاکستان کی ٹیم بھی بھارت کو شکست نہ دے سکی۔
میچ سے قبل ورلڈکپ 1992 کی فاتح ٹیم کے کپتان اور ملک کے موجودہ وزیراعظم عمران خان نے ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو بھارت کے خلاف میچ بغیر کسی دباؤ کے کھیلنے اور ’ریلو کٹے‘ کی جگہ اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اترنے کا مشورہ دے دیا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے