ڈاکٹر انور سجاد اور بھولی بسری یادیں

زاہد ڈار کی محمودالحسن سے گفتگو کا احوال

  • محمودالحسن

زاہد ڈار صاحب سے آج صرف ڈاکٹر انور سجاد کے بارے میں گفتگو ہوئی. ممتاز فکشن نگار سے متعلق ان کی بھولی بِسری یادوں میں سے چند ایک کو بیان کرتا ہوں،باقی باقی۔
ایک دن انور سجاد گاڑی ڈرایئو کر رہے تھے اور ان کے ساتھ انتظار حسین اور زاہد ڈار بیٹھے تھے۔جی پی او چوک کے قریب ایک تیز رفتار مزدہ بس سے ٹکڑ ہوتے ہوتے رہ گئی۔تینوں سوار دم بخود رہ گئے۔اوسان تھوڑے بحال ہوئے تو انور سجاد نے کہا اگر حادثہ ہوجاتا تو کل کے اخبار میں خبر چھپتی کہ دو معروف ادیب اور ایک گمنام شخص (زاہد ڈار) ٹریفک حادثے میں جاں بحق۔
زاہد ڈار نے بتایا کہ ایک روز انور سجاد کی اداکار بیوی زیب رحمان سے انہوں نے کہا کہ شادی کے بعد اداکاری کیوں چھوڑ دی، تو اس نے کہا، زاہد ڈار ویلے رہ کر کھانے میں جو مزا ہے اسے تم سے بہتر بھلا کون جانتا ہو گا.زاہد ڈار کو اس بات سے اتفاق کرتے ہی بنی۔
زاہد ڈار نے بتایا کہ نوجوان ادیبوں میں انور سجاد ہی تھے جو منٹو کا قرب حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے. منٹو کے مرنے کے بعد ان کے خاندان سے انور سجاد کا ربط ضبط رہا.سنگ میل سے منٹو کی کتابیں شائع کرنے کے لیے معاہدہ کرانے میں بھی انھوں نے کردار ادا کیا.سنگ میل کے نیاز احمد, انور سجاد اور زاہد ڈار،منٹو کی بیٹی کو رائلٹی دینے گئے تو وہ حیران ہو کر کہنے لگیں کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ناشر نے منٹو کی فیملی سے یہ حسن سلوک کیا ہے.بات ان کی درست تھی،ہمارے ناشروں کو ازل سے مفت بری کی عادت ہے،منٹو کا استحصال تو دوسروں سے کہیں بڑھ کر ہوا.انور سجاد نے ایک نظم میں بھی اس ظلم کی داستان رقم کی ہے جو ان کے یارِ عزیز بلراج مینرا کے رسالے "شعور” میں شائع ہوئی تھی۔
زاہد ڈار کی انور سجاد سے آخری ملاقات چند ماہ پہلے ہوئی تو وہ انھیں دیکھتے ہی کہنے لگے،زاہد ڈار آگیا,زاہد ڈار آگیا،زاہد ڈار آگیا۔
زاہد ڈار نے بتایا کہ انور سجاد کی پہلی بیوی رتی ادب کا بڑا اچھا ذوق رکھتی ہیں اور انہوں نے کسی زمانے میں جرمن کہانیوں کے اردو میں ترجمے کیے جو کتابی صورت میں بھی چھپے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے