عمر قید کا مطلب 25 سال قید نہیں بلکہ تاحیات قید ہے،چیف جسٹس

ویب ڈیسک : 17جون 2019
اسلام آباد : چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعیدخان کھوسہ کا کہنا ہے کہ عمر قید کا مطلب 25 سال قید نہیں بلکہ تاحیات قید ہے۔کسی مناسب موقع پرعمر قید کی درست تشریح کریں گے، اگر ایسا ہو گیا تو پھر دیکهیں گے کون قتل کرتا ہے، اسکے بعد ملزم عمر قید کی بجائے سزائے موت مانگیں گے۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ اہم ریمارکس قتل کے مجرم عبدالقیوم کی سزائے موت کیخلاف نظرثانی درخواست پر سماعت کے دوران دیے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔عدالت نےفریقین کے دلائل سننے کے بعد مجرم کی سزائے موت برقرار رکھی، ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے بھی ملزم کو سزائے موت دی تھی۔
دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ عمر قید کا یہ مطلب نکال لیا گیا کہ 25 سال قید ہے،جو کہ غلط ہے،عمر قید کا مطلب ہوتا ہے تا حیات قید۔انہوں نے کہا کہ کسی مناسب موقع پر عمر قید کی درست تشریح کریں گے، اگر ایسا ہو گیا تو پھر دیکهیں گے کون قتل کرتا ہے، اسکے بعد ملزم عمر قید کی جگہ سزائے موت مانگیں گے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بھارت میں جس کو عمر قید دی جاتی ہے اس کے ساتھ برسوں کا تعین بھی کیا جاتا ہے کہ مجرم کتنے سال سزا کاٹے گا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے