سابق مصری صدر محمد مرسی کمرہ عدالت میں انتقال کرگئے

ویب ڈیسک : 17جون 2019
قاہرہ: سابق مصری صدر محمد مرسی کمرہ عدالت میں انتقال کرگئے۔
سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق 67 سالہ مرسی ایک سماعت کے دوران بے ہوش ہوگئے اور بعدازاں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ انتقال کر گئے۔ وہ سماعت کے دوران 20 منٹ تک عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراتے رہے اس دوران وہ بہت متحرک تھے۔مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کی 30 سالہ حکمرانی کے بعد محمد مرسی سال 2012 میں ملک کے پہلے جمہوری صدر منتخب ہوئے تھے۔ انہیں 4 سال کے لیے ملک کا صدر منتخب کیا گیا تھا لیکن وہ ایک سال ہی ملک کے صدر رہ سکے۔
2013 میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد محمد مرسی کو فوج نے صدارت کے عہدے سے ہٹانے کے بعد فوراً ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ گزشتہ 6 سال سے مقدمات کا سامنا کر رہے تھے۔محمد مرسی پر قطر کے لیے جاسوسی کرنے اور 2011 میں اسلامی شدت پسندوں کو جیل سے بھاگنے میں مدد فراہم کرنے کے الزامات تھے۔ جس پر انہیں سزائے موت کا حکم سنایا گیا لیکن ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے سزا کو ختم کر کے ان پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا۔محمد مرسی کو 16 مئی 2011 کو سزائے موت سنائی گئی تھی جس پر عملدرآمد کا فیصلہ 17 جون 2015 کو سنایا گیا تھا۔
گزشتہ سال فوجی عدالت نے معزول صدر کے بیٹے اسامہ کو دس سال قید اور فوٹو جرنلسٹ محمد ابو زید کو پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔2013 میں مصر کے صدر محمد مرسی نے جنرل عبدالفتاح السیسی کو فوج کا سربراہ بنایا تھا اور انہوں نے ہی محمد مرسی کی حکومت کا خاتمہ کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ محمد مرسی 30 جون 2012 سے 3 جولائی 2013 تک مصر کے صدر رہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے