بلاول،شہباز ملاقات،اندرونی کہانی کیا ہے؟

ویب ڈیسک : بدھ 19جون 2019
اسلام آباد : قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) کے لئے 25 یا 26 جون کی تاریخوں پر غور کیا گیا اور اس کے مقاصد اور ایجنڈے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔دونوں رہنماؤں نے بجٹ منظوری روکنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کیا، یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ن لیگ حتمی تاریخ کا فیصلہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے مشاورت کے بعد کرے گی۔
ملاقات میں طے کیا گیا کہ 20 جون کو اے پی سی کے ایجنڈے اور بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیل سے نواز شریف کو آگاہ کیا جائے گا۔اس سے قبل چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہبازشریف سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی، خواجہ آصف، خورشید شاہ اور راجا پرویز اشرف بھی ملاقات میں شریک تھے۔
ملاقات کے بعد بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کی، چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ چاروں اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کر کے نوابشاہ، لاہور اور وزیرستان کے عوام کو حق نمائندگی سے محروم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر پر حکومت کا رویہ غیر قانونی ہے، ہم چاروں اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لۓ نیا خط جاری کر رہے ہیں، حکومتی اتحادی ایم کیو ایم نے بھی خط پر دستخط کر دیے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کیا کہ مسلم لیگ ق نے بھی پروڈکشن آرڈر کی حد تک ہماری حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے، ان کی جانب سے مونس الہی دستخط کریں گے۔اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم حقائق کے ساتھ بجٹ پر بات کریں گے اور حکومت کو بتائیں گے کہ یہ عوام اور غریب دشمن بجٹ ہے۔
واضح رہے کہ عید کے بعد سے جمیعت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں اور مختلف قائدین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔قومی اسمبلی میں بھی حزب اختلاف مسلسل احتجاج کر رہی ہے جس کے باعث اسپیکر کو ایوان کی کارروائی چلانا مشکل ہو رہا ہے۔
حزب اختلاف کے رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں جبکہ اسپیکر کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ اجلاس ہے اس لیے بحث کا مرکز بھی میزانیہ ہی ہونا چاہیئے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے