آصف زرداری حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار

حساب کتاب بند کرکے اب آگے کی بات کی جاۓ،قومی اسمبلی میں خطاب

ویب ڈیسک | جمعرات 20جون 2019
اسلام آباد : سابق صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں حساب کتاب کا سلسلہ بند کیا جائے اور آگے کی بات کی جائے، ایک عام آدمی خوفزدہ ہے کہ اگر آصف زرداری گرفتار ہوسکتا ہے تو اس کا کیا ہوگا؟قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران آصف علی زرداری نے اپنے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے پر اسپیکر قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا، جبکہ اس کے لیے کوشش کرنے والی سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کی کوششوں کو سراہا۔اپنے خطاب کے آغاز میں بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ کہیں یہ صداقت نہیں ہے کہ یہ بجٹ محکمہ خزانہ نے ترتیب دیا ہے.انہوں نے کہا کہ خیرپور اور اطراف کے اضلاع میں ‘ماکڑ’ آئی ہوئی ہے جس سے کپاس کی فصلیں خراب ہونے کا خدشہ ہے لیکن اس کا کوئی انتظام بھی نہیں کیا گیا۔آصف علی زرداری نے کہا کہ سعودی عرب سے امداد یا مشینینں آجاتیں تو اس پریشانی پر بھی قابو پالیا جاتا، کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اسے کپاس کو برآمد کرنا ہے۔اپنے دور حکومت میں کپاس کی صنعت کی ترقی سے متعلق بات کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ صنعت 19 ارب ڈالر پر ملی تھی تاہم حکومت کے اختتام تک اسے 27 ارب ڈالر پر چھوڑا گیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں 3 یا 4 ایسے مسائل ہیں جس پر حکومت کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ساتھ بیٹھ کر ایک معاشی پالیسی ترتیب دی جائے جیسے ایک ملکیت دی جائے تاکہ وہ چلتی رہے۔
چیئرمین پی پی پی نے مزید کہا کہ کل ایک جماعت کی حکومت تھی، آج کسی اور جماعت کی حکومت ہے کل کسی اور جماعت کی حکومت ہوگی، تاہم معاشی پالیسی چلتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے تو سب کچھ ہے اگر پاکستان نہیں ہے تو کوئی کچھ نہیں ہے۔سابق صدر نے کہا کہ یہ ملک پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس کے لیے ان کی پارٹی رہنماؤن نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ جب سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل ہوا تو سندھ میں نعرہ لگ رہا تھا کہ ‘پاکستان نہ کھپے’ لیکن میں نے کھڑے ہوکر ‘پاکستان کھپے’ کا نعرہ لگایا تھا۔بجٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ ‘اگر بجٹ اچھا ہے تو پھر صنعتکار کیوں رو رہے ہیں وہ آوازیں لگا رہے ہیں کہ ہمیں بچاؤ، کیوں غریب رو رہا ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ بجٹ میں کچھ مسئلہ ہے۔’تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ ‘جہاں سے میں آرہا ہوں وہاں ایسا خوفزدہ ماحول بنایا ہوا ہے کہ اس سے ایک عام کاروباری شخص کو اتنا خوف ہے کہ وہ کسی کام میں ہاتھ ڈالنے اور کاروبار کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔’انہوں نے کہا کہ اب جس شخص کے پاس 5 لاکھ روپے ہیں اس کو ایف بی آر کا نوٹس جاری ہوجائے گا، اب کون کون پورے ملک میں حساب دیتا پھرے گا؟آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ یہ حساب کتاب بند کیا جائے اور آگے کی بات کی جائے، ایک عام آدمی خوف زدہ ہے کہ اگر زرداری صاحب پکڑے جاسکتے ہیں تو پھر ہمارا کیا بنے گا؟
سابق صدر آصف علی زرداری نے کہاہے کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں اور اگر پاکستان نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہم ملکی معیشت سنبھالنے کے لیے حکومت کے ساتھ بیٹنے کے لیے تیار ہیں۔
آصف زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے نہ کھپے کے نعرے کے وقت پاکستان کھپے کی بات کی ،آئیں ملکر معیشت پرحکومت اپوزیشن ملکرکوئی معاہدہ کرلیں۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں اس سے زیادہ ٹیکس بڑھا دیا گیا۔صنعتکار خوفزدہ ہیں کہ پانچ لاکھ چیک پر حساب دو،کون کون حساب دے گا ؟پروڈکشن آرڈرز جاری ہونے کے بعد قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے بعد بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اتنا اچھا بجٹ پیش کیاہے تو لوگ کیوں رو رہے ہیں؟ انڈسٹری والے اور تاجر رو رہے ہیں۔
آصف زردری نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں کوئی صداقت نہیں کہ یہ آپ کے فنانس ڈیپارٹمنٹ نے بنایا ہو۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کہا جارہاہے کہ جن کے بنک اکاؤنٹس میں 5لاکھ روپے ہیں انکو نوٹسز جاری کیے جائینگے۔ یہ کس کس سے حساب لینگے؟ حساب کتاب بند کرکے آگے کی بات کی جائے ۔سابق صدر نے کہا کہ میرے پکڑنے سے پارٹی مضبوط ہوگی،میرے پکڑنے سے فرق نہیں پڑے گا ،لوگ سوچتے ہیں اگر زرداری کو پکڑا جاسکتا ہے تو پھر انہیں کیوں نہیں ؟میں پہلے بھی جیل سے آتا رہا ہوں۔ جو انہیں لائے ہیں انہیں بھی سوچنا چاہئےایسا نہ ہو مہنگائی سے تنگ عوام نکل آئیں اور سیاسی جماعتیں پیچھے رہ جائیں۔سابق صدر نے کہا کہ موجودہ حکومت کو لانے والوں اور حکومت کو سوچنا چاہیے کہ انکے اقدامات سے ملک چل نہیں پائے گا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کاٹن پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ کاٹن انڈسٹری توجہ طلب ہے۔آصف زرداری نے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر اسپیکر کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان اراکین قومی اسمبلی کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس حوالے سے آواز بلند کی ۔
آصف زرداری کی تقریر کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے فلور اسد عمر کے حوالے کردیا ۔
اسد عمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سزا وجزا کا نظام اگر کسی معاشرے میں نہ ہو تو وہ چل نہیں سکتا۔ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اسے نہ صرف اللہ کے ہاں سزا ملیگی بلکہ حکومت کی ذمہ داری اور مینڈیٹ بھی یہی ہے کہ جرم کو روکیں۔جمہوریت کا مطلب قانون کی حکمرانی ہے۔بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ معیشت کو کئی برسوں تک مختلف مسائل کا سامنا رہا۔ ہمیں جو اقدامات بھی کرنا ہیں اس بات کو مدنظر رکھنا ہوگا کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے کہ مسلم لیگ ن کی پالیسیوں کی طرح ملک پھر پیچھے چلا جائے۔سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہاہے کہ جو نئی سرمایہ کاری آرہی ہے اس پر ٹیکسز کم کرنا ہونگےتاکہ ملک میں سرمایہ کاری آسکے۔اسد عمر نے کہا کہ کھادوں کی قیمت بڑھی ہے اس پر حکومت کو سوچنا چاہیے کسان مشکل میں ہے ہمیں کسانوں کا خیال رکھنا ہوگا۔حکومتی رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے کہا کہ متوسط طبقےکا بھی خیال رکھنا ہے، چینی کی جو قیمتیں بڑھائی گئی ہیں یہ کسی صورت بھی مناسب بات نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی غریب لوگوں کی خوراک اور توانائی کا بھی حصہ ہے۔ اسد عمر نے مطالبہ کیا کہ حکومت اسکی بھی تحقیقات کرے کہ چینی کی قیمتیں کیوں بڑھائی گئی ہیں۔
اسد عمر نے چینی ، خوردنی تیل اور گھی پر لگائے گئے ٹیکس واپس لینے کی تجویز پیش کردی ۔اسد عمر نے کہا کہ جب تک ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی اس وقت تک آپ کی بین الاقوامی طاقتوں سے جان نہیں چھوٹے گی۔مسلم لیگ ن کی غلط پالیسیز کی وجہ ای ایکسپورٹرز کا اعتماد ٹوٹا جس کو ہم نے بحال کیا۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ چھوٹی گاڑیوں پر جو ایف ای ڈی لگایا گیا ہے اس پر بھی نظر ثانی ہونی چاہئیے ہم نے جو ایف ای ڈی لگایا تھا وہ بڑی گاڑیوں پر لگایا تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے