دورہ گھوٹکی پر الیکشن کمیشن کا وزیراعظم کو شوکاز نوٹس

ویب ڈیسک : 20جون 2019
اسلام آباد : الیکشن کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کوانتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کر دیاہے۔وزیراعظم عمران خان کو نوٹس حلقہ این اے205 گھوٹکی میں ضمنی انتخا ب کے موقع پرپابندی کے باوجود وہاں کا دورہ کرنے کی بنا پر کیا گیاہے۔گورنر سندھ ، وفاقی وزیر میاں محمد سومرو اور تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اپنے گھوٹکی کے دورے کے دوران علی محمد خان مہر کے انتقال پرانکے اہل خاندان سے تعزیت کی اور جی ڈی اے کے راہنماؤں سے ملاقات بھی کی تھی۔
انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعدوزیراعظم،گورنر، وزراء اور ارکانِ اسمبلی حلقے کا دورہ نہیں کر سکتے۔نوٹس ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار عبدالباری پتافی کی جانب سے شکایت پر جاری کیا گیا۔حلقہ این اے 205 گھوٹکی میں الیکشن 18 جولائی کو شیڈول ہے۔
وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے بھی گزشتہ روز کہاتھا کہ گھوٹکی میں وزیر اعظم کی آمد غیرقانونی ہے،الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت سرکاری عہدوں پر فائز لوگ ایسے علاقوں کا دورہ نہیں کرسکتے جہاں انتخابی شیڈول کا اعلان کردیا گیاہو۔سندھ اسمبلی کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نہ صرف گھوٹکی کا دورہ کررہے ہیں بلکہ علاقے کے لوگوں کو بلایا گیاہے۔ یہ عمل وزیر اعظم کی طرف سے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس عمل سے شفاف انتخاب کی توقع نہیں ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سندھ میں گھوٹکی کے مہر برادران کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کو یہ بات یقینی بنانے کی ہدایت کریں گے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو گھوٹکی کے حلقے این اے 205 میں دھاندلی نہ کرنے دی جائے۔ذرائع کے مطابق گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رکنِ صوبائی اسمبلی علی گوہر مہر نے وزیراعظم کو یہ بتاتے ہوئے کہا کہ سندھ کی حکمراں جماعت پی پی پی آئندہ انتخاب میں دھاندلی کرسکتی ہے اور مطالبہ کیا کہ فوج اور رینجرز اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔جس پر وزیراعطم نے یقین دہانی کروائی اور علی گوہر مہر کو گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کے ساتھ رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
قومی اسمبلی کی یہ نشست وفاقی وزیر برائے انسدادِ منشیات علی محمد مہر کی وفات کے باعث خالی ہوئی تھی۔وزیراعظم عمران خان علی محمد مہر کی وفات پر ان کے بھائیوں سے تعزیت کرنے ضلع گھوٹکی کے علاقے خان گڑھ میں گوہر پیلس پہنچے، اس موقع پر ان کے ہمراہ گورنر سندھ، وفاقی وزیر محمد میاں سومرو، فہمیدہ مرزا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما جہانگیر ترین بھی موجود تھے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چونکہ علی محمد مہر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرچکے تھے لہٰذا پارٹی کے ٹکٹ پر اب ان کے بیٹے کو ضمنی انتخاب میں حصہ لینا چاہیے۔جس پر علی گوہر مہر نے وزیراعظم کو بتایا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ احمد علی مہر ضمنی انتخاب میں آزاد حیثیت سے حصہ لیں گے اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں گے۔
ذرائع کے مطابق مہر برادران نے وزیراعظم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ سندھ میں پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک تشکیل دینے کی کوشش کریں گے۔
وزیراعظم عمران خان کے دورہ سکھر پر پیپلز پارٹی نے ان پر الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 205 کے لیے الیکشن انجینئرنگ کرنے کا الزام عائد کردیا۔
چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو کے ترجمان سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا ایک جاری بیان میں کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کا حلقہ این اے 205 کا دورہ دھاندلی ہے‘۔
انہوں نے الیکشن کمشین سے مطالبہ کیا کہ انتخابی معاملات میں وزیراعظم اور وفاقی وزرا کی ’مداخلت‘ کا نوٹس لیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے جسے حکومت کی دی گئی ہدایات پر عمل کرنے کے بجائے اپنے فیصلے خود کرنے چاہیں‘۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے