پناہ گزینوں کا عالمی دن

ویب ڈیسک : 20جون 2019
نیویارک: پاکستان سمیت پوری دنیا میں آج پناہ گزینوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ پناہ گزینوں سے مراد وہ افراد ہیں جنہیں جنگی تنازعات، ریاستی جبر اور نقص امن سمیت دیگر عوامل کی بنا پر ترک وطن کرکے دوسرے ممالک میں قائم کیمپوں میں پناہ لینا پڑی ہے۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی سالانہ رپورٹ ’گلوبل ٹرینڈز‘ کے مطابق صرف گزشتہ سال 23 لاکھ افراد نے اپنا گھر بار چھوڑا اور یا انہیں ترک وطن کرنا پڑا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 37 ہزار افراد روزآنہ نقل مکانی کے باعث دربدری کا شکار ہورہے ہیں۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے 15 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے۔پناہ گزینوں کا عالمی دن منانے کا فیصلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرار داد کے ذریعے کیا تھا۔ قرار داد میں کہا گیا تھا کہ ہر سال 20 جون کو پناہ گزینوں کا عالمی دن منایا جائے گا جس کے بعد 2001 سے ہرسال یہ دن منایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے تحت عالمی دن منانے کا مقصد لوگوں کی توجہ ان لاکھوں پناہ گزینوں کی جانب مبذول کرانا ہے جو جنگی تنازعات، نقص امن اور ریاستی جبر سمیت دیگر وجوہات کی بنا پر نقل مکانی کرتے ہیں اور دوسرے ممالک میں قائم کیمپوں میں زندگیاں گزارتے ہیں۔اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے لیے قائم ادارے ’یونائیٹڈ نیشن ہائی کمشنرفاررفیوجیز‘ سمیت مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں دنیا بھر میں اس دن کو اس جذبے سے مناتی ہیں کہ وہ عوام الناس میں پناہ گزینوں کے حقوق سے متعلق آگاہی پیدا کرسکیں گی۔عالمی اعداد و شمار کے مطابق پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد ترکی میں موجود ہے جو 37 لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔ ترکی کے بعد پاکستان میں موجود پناہ گزینوں کی تعداد 14 لاکھ سے زائد کہی جاتی ہے لیکن سماجی ماہرین کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ مملکت خداداد میں موجود پناہ گزینوں کی تعداد بتائی گئی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔
عالمی اعداد و شمار کے مطابق یوگینڈا میں 12 لاکھ ، سوڈان میں گیارہ لاکھ اور جرمنی میں بھی گیارہ لاکھ افراد بطور پناہ گزین قیام پذیر ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین فلپو گرانڈی کے مطابق دستیاب اعداد و شمار اس بات کے غماز ہیں کہ طویل مدتی جنگوں، تنازعات اور جبر سے بھاگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بی بی سی کے مطابق 1992 میں پناہ لینے والوں کی تعداد سب سے زیادہ 3.7 افراد فی ہزار تھی جب کہ 2018 کے اختتام پر یہ تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہوگئی۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ اب یہ تعداد 9.3 افراد فی ہزارہوگئی۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں کے مطابق 2018 کے حقیقی اعداد و شماردستیاب اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہیں کیونکہ ان میں وینزویلا سے نقل مکانی کرنے والوں کی درست تعداد سامنے نہیں آسکی ہے۔بی بی سی نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ پناہ گزینوں کے دو تہائی سے بھی زائد افراد کا تعلق شام، افغانستان، جنوبی سوڈان، میانمار اور صومالیہ سے ہے۔شامی پناہ گزینوں کی تعداد سب سے زیادہ 67 لاکھ بتائی جارہی ہے جس کے بعد افغانستان کے پناہ گزینوں کی تعداد 27 لاکھ کہی جاتی ہے۔
عالمی سطح پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2018 میں 92 ہزار چار سو پناہ گزینوں کو دوبارہ ان کے گھروں میں بسانا ممکن ہوا جو اصل تعداد کا بمشکل سات فیصد ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے