حیدرآباد:ٹرینیں ٹکراگئیں،3افرادجاں بحق،متعدد زخمی

ویب ڈیسک | 20جون 2019
حیدرآباد: صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں ایک ہی ٹریک پر چلنے والی دو ریل گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں جس کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق تین افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کے مطابق حیدرآباد ریلوے سٹیشن کے قریب ایک ہی ٹریک پر چلنے والی دو ریل گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، ٹرینوں کو حادثہ حیدرآباد کے مکی شاہ تھانے کی حدود خاصخیلی گوٹھ میں پیش آیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے، حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی سرگرمیاں شروع کردیں۔جاں بحق ہونے والوں میں جناح ایکسپریس کا ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور اور گارڈ بھی شامل ہیں، حادثہ اتنا شدید تھا ٹرینوں کے ٹکرانے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔حادثے کے بعد ٹرین کے انجن میں آگ لگ گئی جناح ایکسپریس کا انجن مکمل تباہ ہوگیا ،جبکہ ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، حادثے کا شکار مال گاڑی کی دو بوگیاں مکمل اور ایک جزوی طور پر تباہ ہوئی۔
وزیر ریلوے شیخ رشید نے حیدرآباد ٹرین حادثے کا نوٹس لے کر متعلقہ افسران سے رپورٹ طلب کرلی، انہوں نے ہدایت کی کہ چیف ایگزیکٹو ریلوے فوری طور پر جائے وقوعہ پر جا کر صورتحال کا جائزہ لیں اور زخمیوں کو مکمل طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ کسی مسافر کےحادثے میں جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں ہے، تاہم ڈرائیور، اسسٹنٹ ڈرائیور اور گارڈ کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔پولیس اور رینجرز نےجائے حادثہ کی سیکیورٹی سنبھال لی، میونسپل کمشنر اور میئرحیدرآباد بھی جائےحادثہ پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے، ٹریک بحالی میں بارہ گھنٹے لگیں گے۔
یاد رہے کہ وزیرریلوے شیخ رشید نے کچھ عرصہ قبل ہی جناح ایکسپریس کا افتتاح کیاتھا، افتتاح کے بعد سےجناح ایکسپریس کو اب تک چار حادثات پیش آچکے ہیں۔منگل کو بھی ہڑپہ میں جناح ایکسپریس کی ڈائنگ کار میں آگ لگی تھی، ٹرین کی کراچی بن قاسم اور پڈعیدن میں بھی دو بار بوگیاں جلیں، اس حوالے سے ریلوےذرائع کا کہنا ہے کہ20گریڈ کی سی او پی ایس، سی سی ایم پوسٹ پر19گریڈ کےافسران تعینات ہیں، دونوں عہدوں کے افسران ریلوے آپریشن کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ناتجربہ کارافسران کی وجہ سےریلوے آپریشن کئی عرصے بری طرح متاثر ہے، چند ماہ میں متعدد گاڑیوں کے پٹری سے اترنے کےواقعات رونما ہوچکے ہیں۔
ادھروزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حیدرآباد میں ریل گاڑی کے حادثے پر اظہار ِافسوس کرتے ہوئے کمشنر حیدرآباد کو مسافروں کی ہر طرح کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق مراد علی شاہد نے کہا کہ اگر کوئی مسافر زخمی ہے تو فوری اسپتال منتقل کیا جائے۔
انہوں نے اسپتال میں ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ حادثے کے بعد ریلوے کا ڈاؤن ٹریک کلیئر کرلیا گیا ہے، جناح ایکسپریس اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے اورتمام مسافر بھی محفوظ ہیں۔وزیر ریلوے شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ جناح ایکسپریس نے حیدرآباد کے قریب کھڑی مال گاڑی کو ٹکر ماری،24گھنٹے میں حادثےکی تحقیقات کاحکم دے دیا ہے،22جون کو حادثے کےبارے میں فیصلہ دوں گا پاکستان ریلوے عوام کو تکلیف پہنچنے پر معذرت خواہ ہے۔مین ٹریک سے ٹریفک معمول کے مطابق گزاری جا رہی ہے، انہوں نے حادثے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حادثے میں ڈرائیور اور دو اسسٹنٹ ڈرائیور جاں بحق ہوئے، تاہم تمام مسافر محفوظ ہیں اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، حادثے کی تفصیلات تحقیقات کے بعد24گھنٹے میں سامنے لاؤں گا۔اس حوالے سے ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ جناح ایکسپریس شام5بج کر10منٹ پر سامنے سے آنے والی مال گاڑی سے ٹکرائی، حادثے کے فوری بعد وزیر ریلوے نے تحقیقات کا حکم دیا اور سی ای او ریلوے کو جلد کراچی پہنچنے کی ہدایت جاری کی۔
اپوزیشن نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جب سے انہیں وزارت ملی ہے، ٹرینوں کے حادثات بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے حیدر آباد کے قریب ٹرین حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین حادثہ شیخ رشید کی ناکامی ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنااللہ نے ریلوے حادثے پر وزیر ریلوے سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کو جب سے وزارت ملی، ٹرینوں کے حادثات بڑھ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے خلاف بیان کی بہ جائے کام پر توجہ دی ہوتی تو حادثہ نہ ہوتا، وزیر اعظم مغربی جمہوریت پر چلتے ہوئے وزیر ریلوے سے استعفیٰ لیں، نیز ریلوے حادثے پر شیخ رشید کے خلاف مقدمہ بھی ہونا چاہیے۔
ادھر وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ زبان اور ریلوے سنبھالنا شیخ رشید کے بس کی بات نہیں ہے، شیخ رشید کی توجہ وزارت پر کم اور چاپلوسی پر زیادہ ہے، ان کی نا اہلی کی وجہ سے ریلوے خسارے کا شکار ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے