ائیرایمبولینس سے شالیمار ہسپتال تک،330کلو وزنی نورحسن کی کہانی

فاروق گوہر: جمعہ 21جون 2019


لاہور:صادق آباد کے رہائشی330 کلو وزنی نورالحسن کے شالامار ہسپتال میں میڈیکل ٹیسٹ جاری ہیں،بیریاٹرک سرجن ڈاکٹر معاذالحسن نے قافلہ نیوز کو بتایا کہ نورالحسن کے ہارٹ ٹیسٹ، ہڈیوں کے ایکسرے کئے گئے ہیں، ایک ہفتہ تک نور الحسن کا آپریشن ہوجائے گا جبکہ آپریشن کے بعد مزید 20 دن ہسپتال میں ہی رکھا جائے گا۔واضح رہے کہ صادق آباد کے نورالحسن کو منگل کی شام آرمی ایوی ایشن کی خصوصی ائیر ایمبولینس پر شالا مار ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ نورالحسن کے ہارٹ ٹیسٹ، گھٹنوں کا ایکسرا کیا گیا جبکہ ہڈیوں کے مزید ایکسرے اور دیگر ٹیسٹ تجویز کیے گئے ہیں۔

نورالحسن کے ڈاکٹر معاذالحسن کا کہنا ہے تمام اعضا کے ٹیسٹ کلئیر آنے کے بعد آئندہ ہفتے آپریشن کیا جائے گا، امید ہے کہ نورالحسن اب ہیلی کاپٹر کے بجائے گاڑی میں گھر جائےگا۔

موٹاپے کا شکار نورالحسن کا کہنا ہے کہ انہیں ہسپتال میں تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، تین ماہ سے کھانا نہیں کھا رہا، صرف پروٹین ڈائیٹ پر گزارا کر رہا ہوں۔ آپریشن کے بعد ایک سال تک کھانے کا پرہیز بتایا گیا ہے، صحت یاب ہونے کے بعد اپنا خیال رکھوں گا۔ڈاکٹرز کے مطابق نور حسن کی سرجری کے چھے ماہ بعد پہلے مرحلے میں 100 کلو وزن کم ہوگا جبکہ 2 برسوں میں نورالحسن اپنی نارمل زندگی میں واپس آجائے گا۔


صادق آباد کے رہائشی ٹیکسی ڈرائیور نورالحسن گذشتہ تقریباً 10 برس سے موٹاپے کی بیماری میں مبتلا ہیں-نورالحسن نے بتایا کہ پہلے ان کا وزن نارمل تھا اوروہ ڈرائیونگ کرتے تھے- انہیں کوئی ایسی بیماری بھی لاحق نہیں تھی جس کے باعث ان کا وزن اس قدر غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا-پھراچانک ان کا وزن بڑھنا شروع ہوا جسے انہوں نے سیریس نہیں لیا-وہ کوئی ورزش بھی نہیں کرتے تھے، پیدل نہیں چلتے تھے اور کوئی ایسا کام بھی نہیں کرتے تھے کہ جس سےانہیں پسینہ آتا-ان کا طرز زندگی بہت سست تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی اضافی خوراک بھی نہیں لیتےتھے بلکہ عام معمول کے مطابق گھرمیں جوسادہ کھانا تیار ہوتا وہی کھاتے۔ایک پلیٹ سالن اور دو روٹیاں ان کی خوراک رہی ہے۔ تاہم سست طرز زندگی کے باعث آہستہ آہستہ ان کے وزن میں غیرمعمولی اضافہ ہوتاگیایہاں تک کہ وہ گھر تک محدود ہوکر رہ گئے اورگھر کا چولہا جلانے کے لیے اس کی بیوی کو دوسروں کے گھروں میں کام کاج کرنا پڑا-


نورحسن نے بتایا ان کا وزن مسلسل بڑھتا رہا یہاں تک245 کلو تک پہنچ گیا-میں نے مقامی ڈاکٹروں سے اپنا طبی معائنہ کرایا تو مجھے بتایا گیا کہ میرے علاج پر 10لاکھ روپے خرچ ہوںگے ۔میرے جیسے غریب کے لیے اتنی بڑی رقم کا بندوبست کرنا کسی صورت ممکن نہیں تھا-میں بالکل مایوس ہوچکا تھااور چلنے پھرنے کے لئے جو لاٹھیوں کا معمولی سہارا تھا وہ بھی جاتا رہا-ڈاکٹروں کے مطابق گذشتہ دو برسوں کے دوران ان کا وزن 150 کلو گرام کے قریب بڑھا-بڑھاپے اور مایوسی کے اندھیروں نے مجھے ایک چارپائی تک محدود کردیا۔یہ وہ دن تھے جب میں خود کوقید محسوس کررہاتھا۔انہی دنوں میرے سگے بھتیجے کا انتقال ہوگیا لیکن میری بے بسی کا یہ عالم تھا کہ میں اس کے جنازے پربھی نہیں جا سکا۔ مجھ سے کھڑاتک نہیں ہوا جاتا تھا،میں بیٹھ بھی نہیں سکتا تھا۔ان کی نقل و حرکت ایک ہی کمرے تک محدود تھی اور رفع حاجت کے لیے بھی ایک مخصوص کرسی انہوں نے اسی کمرے میں رکھی ہوئی تھی۔


مجھے کسی نے بتایا کہ موٹاپے کا تو علاج ہی نہیں ہے۔ میں نے اللہ تعالٰی سے دعا کی یا تو مجھے سنبھال لے یا مجھے اس مشکل اور آزمائش سے نکال دے۔
یہ دسمبر 2018 کی بات ہے جب ایک دن صادق آباد کے ایک سماجی کارکن اور صحافی محمد شعبان سمیت کچھ نوجوان خدائی مدد بن کر میرے گھر آئے اور انہوں نے میرا انٹرویو کیا جو نجی ٹی وی چینلز پرچلا۔نورحسن نے بتایا کہ انہوں نے ایک ویڈیو کے ذریعے سوشل میڈیا پربھی تمام صاحبِ استطاعت اورانسانیت کا درد رکھنے والےمخیر افراد سے مدد کی اپیل کی تھی۔میری اس ویڈیو پر مقامی سیاسی شخصیات اورعوامی نمائندوں نے تو کوئی توجہ نہیں دی تاہم لاہور کے انسانیت دوست ڈاکٹر معاذالحسن نے رابطہ کرکے میرا فری علاج کرنے کی پیشکش کی۔اب مسئلہ یہ تھا کہ مجھے لاہورکیسے شفٹ کیا جائے،میرا وزن بڑھتے بڑھتے360کلو تک پہنچ گیا تھا۔


جنوری میں ڈاکٹرمعاذالحسن نے فون پرمیرے لئے کچھ ادویات تجویز کیں جو میں نے استعمال کرنا شروع کیں اور کھانا بالکل چھوڑ دیا۔نورحسن نے مزید بتایا کہ میری ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی جس میں میں نے آرمی چیف سے ائیرایمبولینس کی سہولت دینے کی اپیل کی تھی-

پھرمجھے 17جون کو مقامی انتظامیہ نے یہ خوشخبری دی کہ آرمی چیف نے ان کی اپیل پر ائیرایمبولینس بھجوانے کی ہدایت کی ہےیہ خبر میرے اور میرے اہلخانہ کےلئے عید کی خوشی سے کم نہ تھی۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آرمی چیف مجھ جیسے عام اور دوردراز علاقے میں بسنے والے شہری کی اپیل پراس قدر شفقت اوررحم دلی کا مظاہرہ کریں گے۔مجھے جس طرح ائیرایمبولینس کے ذریعے لاہور منتقل کیا گیا وہ پوری کہانی سے تقریبا سبھی آگاہ ہیں۔

میں اپنے محسن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ،ڈاکٹرمعاذالحسن اوران تمام افراد جنہوں نے مصیبت کی گھڑی میں‌میرا ساتھ دیا کی درازی عمراور صحت و سلامتی کے لئے دعا گو ہوں- شالیمارہسپتال میں میرا بہت زیادہ خیال رکھا جارہا ہے-
نورالحسن لاہور کے شالیمار ہسپتال میں انتہائی درجے کے موٹاپے سے نجات حاصل کرنے کے لیے سرجری کے منتظرہیں۔ہسپتال کے مردانہ وارڈ میں ان کے لیے خصوصی پلنگ تیار کیا گیا جس پر طبی ماہرین کی زیرِ نگرانی وہ تقریباً ایک دہائی بعد پہلی مرتبہ سیدھا لیٹ پائے ہیں۔اب انہیں لیپروسکوپک سرجری کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

330کلو وزنی نورحسن کے معالج عالمی شہرت یافتہ بیریاٹرک سرجن ڈاکٹر معاذالحسن نے قافلہ نیوز کو بتایا کہ علاج کی غرض سے چھ ماہ قبل انہوں نے نورالحسن کو مخصوص پروٹین کی خوراک دینا شروع کی۔ اس سے قبل ان کا وزن 360 کلو گرام تھا۔ لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ انہیں لاہور کیسے لایا جائے۔صادق آباد سے لاہور کا زمینی سفر آٹھ سے نو گھنٹے پر محیط ہے۔ اس میں خطرہ تھا کہ اس قدر زیادہ وزن والے انسان میں خون کا انجماد ہو سکتا تھا۔ اس لیے انہیں ہوائی ایمبولینس میں لایا گیا۔پاکستان میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ موٹاپے کے مریض کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال پہنچنے پر نورالحسن کے تمام تر اہم اعضا معمول کے مطابق کام کر رہے تھے جبکہ ان کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی جس میں مختلف شعبہِ طب کے ماہرین کی آرا لی جا رہی ہے۔ڈاکٹر معاذ الحسن نے بتایا کہ اس سے قبل 300 کلو سے زیادہ وزن رکھنے والے افراد جن کا آپریشن کیا گیا وہ عموماً جوان تھے۔ ‘پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن ہو گا۔نورالحسن کا آپریشن جس عمل کے تحت کیا جائے گا اسے طب کی زبان میں لیپروسکوپک سلیو گیسٹریکٹومی کہتے ہیں۔ اس میں مریض کے معدے کا حجم آپ 80 فیصد کم کر دیتے ہیں۔ کی ہول سرجری ہوتی ہے اس میں مریض کا پیٹ چاک نہیں کیا جاتا۔اس آپریشن کے تقریباً دو سال بعد مریض کا وزن قریباً ڈیڑھ سے دو سو کلو کم ہو جاتا ہے۔ جب نورالحسن کا وزن کم ہو جائے گا اور ان کے جسم پر چربی لٹک جائے گی تو اسے پلاسٹک سرجری کے ذریعے کاٹ کر درست کریں گے۔نورالحسن کو اس عمل کے لیے تیار کرنے کے لیے ایک ہفتے سے کچھ زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ ڈاکٹر معاذ الحسن کا کہنا ہے کہ وہ اس سے قبل موٹاپے کا شکار سینکڑوں افراد کے آپریشن کر چکے ہیں۔ اس میں سعودی عرب کے 600 کلو گرام وزنی شخص بھی شامل ہیں۔ اسی طرح انہوں نے ایک بچے کا آپریشن کیا جس کا وزن صرف 12 سال کی عمر میں 120 کلو گرام ہو گیا تھا۔ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے آپریشنز میں کامیابی کا تناسب 95 فیصد ہے۔ ان کا دعوٰی ہے کہ وہ پاکستان میں باریاٹرک سرجری یعنی معدے کے بائی پاس آپریشن کی صلاحیت رکھنے والے واحد سرجن ہیں۔
نورحسن اپنے خصوصی بیڈ پرپہلی بار سیدھے لیٹ رہے ہیں اور وہ پرامید ہیں کہ علاج کے بعد وہ نارمل زندگی گزار سکیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ صحت یاب ہونے کے بعد اپنا خیال رکھیں گے-

نور حسن کیلئے خصوصی وہیل چئیر تیار

نور حسن کیلئے خصوصی وہیل چئیر(پہیوں والی لوہے کی کرسی) تیارکرالی گئی ہے۔ ڈاکٹر معاذ الحسن نے بتایا کہ خصوصی وہیل چئیر نور حسن کے جسامت کے مطابق بنائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ نور حسن کے لیے تیار کی گئی خصوصی وہیل چئیر 8 فٹ لمبی اور 6 فٹ چوڑی ہےجبکہ عام وہیل چئیر 2 فٹ چوڑی اور 2.5 فٹ لمبی ہوتی ہے ۔ڈاکٹر معاذ کے مطابق یہ خصوصی وہیل چئیر 4 دن کے بعد تیار ہوئی ہے۔ نور حسن کو آپریشن کے وقت اسی وہیل چئیر پر اسپتال کے مختلف وارڈ وں میں منتقل کیا جائے گا۔ڈاکٹرکا کہنا تھا کہ نور حسن کی سرجری اگلے جمعے یا سوموار کو کی جائے گی۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے