آصف زرداری کے جسمانی ریمانڈ میں‌ 11 روزہ توسیع

آپ کیا چاہتے ہیں کہ میں 90 روز تک جیل میں رہوں؟ صحافی کو جواب

ویب ڈیسک : 21جون 2019
اسلام آباد: جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری کا مزید 11 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا. سابق صدر کو آج احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں‌ نیب نے سابق صدر سے تحقیقات کیلئے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی.
نیب کی جانب سے سابق صدر آصف زرداری کا جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں لیا گیا 11 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہو گیا، سابق صدر کو نیب ٹیم نے آج احتساب عدالت پیش کیا اور مزید 11 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ آصف زرداری کو مزید تحقیقات کے بعد 2 جولائی کو دوبارہ عدالت پیش کیا جائے گا۔
کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کی۔ نیب کی جانب سے جب عدالت میں 14 روزہ ریمانڈ کی درخواست کی گئی تو آصف زرداری کے وکیل لطیف کھوسہ نے سوال اٹھایا کہ نیب 14،14 دن کا جسمانی ریمانڈ کیوں مانگ رہا ہے۔ آصف زرداری نے اس موقع پر کہا کہ نیب کو ایک ہی مرتبہ 90روز کا ریمانڈ دے دیں۔آصف زرداری کو ضمانت مسترد ہونے پر 10 جون کو گرفتار کیا گیا تھا ،احتساب عدالت نے آصف زرداری کو11 جون کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا تھا۔ آصف زرداری پر جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کے منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔
احتساب عدالت کی جانب سے 11 روزہ ریمانڈ دیئے جانے کے بعد نیب نے آصف علی زرداری کو قومی اسمبلی منتقل کیا جہاں بجٹ 20-2019 پر بحث جاری تھی۔
اس دوران آصف زرداری سے صحافی نے سوال کیا کہ آپ کے مطالبے پر احتساب عدالت کے جج نے 90 روز کا ریمانڈ نہیں دیا، اس پر آپ کیا کہیں گے؟ جس پر سابق صدر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ میں 90 روز تک جیل میں رہوں؟

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے