آہ کامران فاروقی۔۔!!

تحریر:ریحان رضاخاں لنگاہ

آہ کامران فاروقی۔۔!!

ریحان رضا لنگاہ


کامران فاروقی کی وفات کی اطلاع بڑی ہی غمناک اور دکھ والی خبر تھی، کامران کیساتھ مجھے لگا کہ میں بھی تھوڑا سا مر گیا ہوں، کہیں پڑھا تھا کہ انسان دھیرے دھیرے مرتا ہے، جب اسکے والدین،بہن بھائی، عزیز رشتے دار اور اسکے غمگسار، ساتھی سنگی، دوست احباب مرتے ہیں تو وہ بھی انکے ساتھ ٹکڑوں میں مرتا رہتا ہے اور بعد میں اپنے مقررہ وقت پر خود بھی مر کر مزید ٹکڑوں میں مرنے سے چھٹکارا پا جاتا ہے۔
کامران فاروقی جسے میں کبھی کبھی یار کامی بھی بلا لیا کرتا تھا، سے میری ملاقات 2005 میں بلدیاتی الیکشن کیلئیے جیو نیوز کے الیکشن سیل میں ہوئی، جسمیں مجھ خاکسار سمیت کوئی ساٹھ ستر نوجوان لڑکے لڑکیاں بطور ٹرینی یا انٹرن جیو نیوز میں الیکشن کیلییے رکھے گئے اور یہیں سے باقاعدہ صحافت کا آغاز بھی ہوا۔۔۔
اس الیکشن سیل کو انتہائی متحرک اور نہ تھکنے والے جناب افتخار احمد صاحب ہیڈ کر رہے تھے، انہوں نے اور انکی ٹیم جس میں نوید نسیم، نادیہ صدیق ملک، تصور کریم بیگ، جی ڈی بھائی اور لالہ عطاء کریم الحسینی نے ویلکم کیساتھ ہی کام میں جوت دیا۔
ان نوجوانوں میں جو مجھے یاد رہے گئے ہیں میں کامران فاروقی، فرخ سلیمان اب جیو نیوز، "تکون کی چوتھی جہت” کے معروف خالق اور نامور صحافی اقبال خورشید اب اے آر وائی ، صبیح الدین شعیبی اب سماء ٹی وی، ظفر نظامانی شاید کسی سوشل سیکٹر میں، طاہر ممتاز کسی یونیورسٹی میں لیکچرر، حسام خان، رافع شاید اب اے آر وائی میں، مرتضی شاید ایکسپریس نیوز میں، عدنان زیدی ایک خطیب زاکر اور کسی سیلولر کمپنی میں، عالیہ کریم شاید اسٹیٹ بنک میں اور میرے لالہ عطاء کی اہلیہ، عظمی حیات قاضی شاید کسی یونیورسٹی میں،ناجیہ نذیر اور شہلا بنیاد شاید دونوں جیو نیوز میں ہیں اور بہت سارے نام اور چہرے جو اب آنکھوں میں آ گئے ہی۔

کامران فاروقی کیساتھ پہلے دن سے ہی بہت زبردست اور گاڑھی بن گئی تھی اسکیوجہ میرے اور اسکے درمیان مشترک سگریٹ تھی، وہ بھی پیتا تھا اور میں بھی، پیسے کم ہوتے تھے تو ایکدوسرے سے تعاون بھی خوب چلتا تھا اور دوسرا بریک میں ایکساتھ کھانے پر جانا۔۔۔آہ سب خواب سا ہو جیسے، اس الیکشن سیل کے اختتام پر سب اپنی اپنی پریکٹیکل لائف کی ڈگر پر چل نکلے۔ مگر میرا کامران سے بہت دوستانہ رہا میں اس کے گھر کھانا کھانے سے لیکر مسکن پر اسکی بلڈنگ بھایانی ہائٹس کے بالکل سامنے پٹھان کا چائے کا ہوٹل تو ہمارا کئی بار ڈیرہ بنتا رہا، آخری بار اس سے ملاقات اس کے گھر اس کی والدہ ماجدہ کے انتقال پر ہوئی تھی، وہ بہت بدل چکا تھا کلین شیو حلیئے سے داڑھی سجا کر اور یار باشوں والی گفتگو کے سفر سے خاموشی اور سنجیدگی اختیار کرنے تک، اس میں جیسے ایک ٹھہراؤ آ چکا تھا۔

یار ابھی تو بڑے کام پڑے تھے تمہارے تم تو پکا ہی دل ہار گئے، مبشر علی زیدی صاحب نے اپنی تعزیتی تحریر میں صحافیوں کو درپیش مسائل، بدترین ذہنی دباو، مالکان اور افسران بالا کا جائز نا جائز پریشر، اداروں کا تنخواہیں وقت پر نہ دینا بلکہ مہینوں نہ دینا، یہ سب وجوہات ہیں جو ذہن و دل کو وقت سے بہت پہلے مارڈالتے ہیں۔

میں امریکہ آیا ہوا ہوں تو یہاں جیو نیوز کے سینئیر صحافی عزیز اے خان بھائی سے رابطہ ہوا، ان سے ملاقات بھی جیو کا یہی الیکشن سیل ہی بنا تھا، اس کے علاوہ عزیز خان بھائی کامران فاروقی کے پڑوسی بھی تھے، ہماری گفتگو کے درمیان بھی کسی حوالے سے کامران فاروقی کا ذکر خیر ہوا تھا۔ میں ملک میں نہیں ہوں کاش تمہیں تمہاری آخری آرامگاہ تک پہنچا پاتا۔

بیشک ہم سب نے اپنے رب کے پاس لوٹ جانا ہے، اس سے قبل کہ لوٹ جانے کا اچانک وقت آئے اپنوں سے ملتے رہا کرو، محبتیں بانٹتے رہو، باہمی نفرتوں، کدورتوں اور رنجشوں کو ختم کرو، میرا رب کریم میرے دوست کامران کی اپنی شان کے لائق کامل مغفرت فرمائے، اپنے حبیب عالی مقام کے صدقے و وسیلے سے درجات بلند فرمائے، اور تمام اہل خانہ کو صبرواجر بالخصوص اہلیہ اور تین بیٹیوں کا میرا رب کفیل، حامی ، مددگار اور نگہبان ہو، کامران میرے دوست میرے بھائی اللہ کے سپرد جو بڑی کریم و رحیم ذات ہے، وہ شفیق و مہربان تجھے اگلی منزلوں میں بھی کامیاب ۔و کامران فرمائے، آمین ثم آمین

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے