جنگ ہوئی تو ایران کا خاتمہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

ایران جوہری ہتھیار بنانے سے باز نہ آیا تو اسے تباہ حال معیشت کے ساتھ رہنا پڑے گا، امریکی صدر

ویب ڈیسک : ہفتہ 2جون 2019
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتے لیکن ایران سے جنگ چھڑی تو وہ اسے نیست و نابود کردیں گے۔امریکی ٹی وی این بی سی سے خصوصی انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران سے جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر ایسا ہوا تو ایران نیست ونابود ہوجائے گا، ہم ایران سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن انہیں جوہری ہتھیار کسی صورت بنانے نہیں دیں گے اور اگر وہ پھر جوہری ہتھیار بنانا چاہتے ہیں تو انہیں ایک عرصے تک تباہ حال معیشت کے ساتھ رہنا پڑے گا۔
….On Monday they shot down an unmanned drone flying in International Waters. We were cocked & loaded to retaliate last night on 3 different sights when I asked, how many will die. 150 people, sir, was the answer from a General. 10 minutes before the strike I stopped it, not….
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) June 21, 2019
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی جانب سے امریکی فوجی ڈرون گرائے جانے کے بعد امریکی فوج ایران کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے تیار تھی لیکن میں نے کارروائی سے صرف 10 منٹ پہلے انہیں روک دیا کیوں کہ مجھے بتایا گیا کہ کارروائی کے نتیجے میں 150 لوگ مارے جائیں گے۔
خیال رہے ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی ڈرون مار گرایا تھا، امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوچکا ہے اور امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرق وسطیٰ میں نہ صرف بحری بیڑے تعینات کررکھے ہیں بلکہ امریکا نے مزید فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے گزشتہ ہفتے خلیج اومان میں جاپان اور ناروے کے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے کی گئی ہے تاہم ایران نے یہ الزام مسترد کردیا تھا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی افواج ایران کے خلاف کارروائی کے لیے پوری طرح سے تیار تھی لیکن صرف دس منٹ قبل انہوں نے ارادہ بدل دیا۔مؤقر امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے گزشتہ روز اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ایران کی جانب سے امریکی ڈرون مار گرائے جانے کے جواب میں صدر ٹرمپ نے پہلے افواج کو جوابی کارروائی کے احکامات دیے لیکن جس وقت طیارے اڑان بھر چکے تھے اور بحری جہازوں نے پوزیشنیں سنبھال لی تھیں عین اس وقت دیا جانے والا حکمنامہ واپس لیا گیا۔امریکہ کے صدر نے گزشتہ روز اس ضمن میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ ایک پیغام میں کہا کہ پیر کو بین الاقوامی پانیوں میں اڑنے والے ایک ڈرون کو مار گرائے جانے کے بعد ہم گذشتہ شب تین مختلف مقامات پر جوابی کارروائی کرنے کے لیے تیار تھے لیکن جب میں نے پوچھا کہ اس کارروائی میں کتنی ہلاکتوں کا خدشہ ہے؟ تو ایک جنرل نے جواباً کہا کہ سر! 150 تو میں نے حملے سے صرف دس منٹ قبل اپنا فیصلہ بدل دیا۔
امریکہ کے صدر نے گزشتہ روز مؤقرنشریاتی ادارے ’این بی سی‘ سے کہا تھا کہ انہوں نے جوابی کارروائی میں تبدیلی کا فیصلہ متوقع ہلاکتوں کے پیش نظر کیا تھا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا تھا کہ مجھے نہیں لگا کہ یہ سب مناسب تھا۔
ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک بنا پائلٹ امریکی ڈرون اس کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا جب کہ امریکی مؤقف ہے کہ اس کا ڈرون طیارہ بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کررہا تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے