نور حسن کی میت صادق آباد روانہ

آرمی ہیلی کاپٹر سے ایمبولینس تک،نور حسن کی زندگی کا سفر تمام ہوا

ویب ڈیسک | اپ ڈیٹ 08جولائی 2019
لاہور: صادق آباد کے رہائشی موٹاپے کا شکار 330کلو وزنی نورحسن حرکت قلب بند ہونے سے آج صبح لاہور کے شالیمار ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔خاندانی ذرائع نے اس افسوسناک خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرجری کے بعد 10 روز سے آئی سی یو میں زیر علاج تھے۔10سال سے موٹاپے سے لڑتے لڑتے آخر کار نور حسن شالیمار ہسپتال کی انتظامیہ کی بدانتظامی اور لاپروائی کی بھینٹ چڑھ گئے۔
نور حسن کے انتقال کی خبر سے صادق آباد کی فضا سوگوار ہے اور اہل محلہ نے تدفین کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ نورحسن کا آپریشن کامیاب نہیں ہوا تھا اور دس دن بعد بھی ان کی طبیعت بحال نہیں ہوپائی تھی جب کہ ڈاکٹرز نے لواحقین سے جھوٹ بولا تھا۔
ابتدائی طور پر ڈاکٹر نے 28 جون کو ہونے والا آپریشن کامیاب قرار دیا تھا اور ہسپتال انتظامیہ تاحال حقائق چھپا رہی ہے۔ لواحقین نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا ہے کہ آپریشن کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں۔
یاد رہے کہ 330کلو وزنی نورحسن کو آرمی چیف کی ہدایت پر صادق آباد سے لاہور منتقل کرنے کے لیے ائر ایمبولینس کی سہولت فراہم کی گئی تھی اور شالیمار ہسپتال میں ڈاکٹر معاذالحسن کی زیر نگرانی ان کا آپریشن ہوا تھا۔
لاہور میں شالیمار ہسپتال کے ڈاکٹر معاذ بلا معاوضہ ان کا علاج کر رہے تھے اور کامیاب آپریشن کے بعد میڈیکل ٹیم نے بتایا تھا کہ مریض 15 روز میں چلنا پھرنا شروع کردے گا۔
نورحسن کو 18 جون 2019 کو ہسپتال منتقل کیا گیا اور 28 جون کو آپریشن ہوا۔ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد سے لاہور منتقل کرنے سے قبل تین ماہ میں ان کا 30 کلو وزن کم کیا گیا تھا۔
تاحال دنیا میں موٹاپے کی صرف تین کیسز ایسے ہوئے ہیں جن میں مریض کو ائر ایمبولینس کی مدد سے ہسپتال منتقل کیا گیا اور نورحسن ان میں سے ایک ہیں۔نور حسن کی میت ایمبولینس کے ذریعے ان کے آبائی شہر صادق آباد روانہ کردی گئی ہے جہاں ان کی تدفین کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔نور حسن کی نماز جنازہ رات 11بجے مرکزی عید گاہ صادق آباد میں ہوگی۔

ادھر شالیمار ہسپتال کے ڈاکٹر معاذ الحسن نے کہا کہ نورحسن کا آپریشن کامیاب تھا لیکن گزشتہ شب انتہائی نگہداشت کے کمرے(آئی سی یو) میں دوسرے مریض کے لواحقین نے ہنگامہ آرائی کی جس کے سبب ہسپتال کا عملہ چلا گیا اور ان کے پاس دیکھ بھال والا کوئی نہیں تھا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ آئی سی یو میں ایک خاتون مریض کی موت واقع ہوگئی تھی جس کے لواحقین نے مشتعل ہو کر ہسپتال میں توڑ پھوڑ شروع کردی اور عملہ وہاں سے بھاگ گیا۔انہوں نے کہا کہ رات ساڑھے نو بجے ٹیوب میں مسئلہ آیا تھا لیکن اسی وقت ٹیوب تبدیل کر دی گئی، نور حسن کو سینے میں تکلیف کا مسئلہ تھا لیکن ہمارے چیسٹ اسپیشلٹ وہیں موجود تھے اور مریض کی ریکوری ٹھیک تھی۔
ڈاکٹر کے مطابق صبح آٹھ بجے فون آیا کہ مریض سیریس ہے اور سوا آٹھ بجے فون پر نور حسن کی موت کا پتہ چلا۔انہوں نے بتایا کہ مرنے کی وجہ حرکت قلب بند ہونا لکھا ہے۔
شالیمار ہسپتال کے آئی سی یو میں گزشتہ شب جس مریض کی موت ہوئی اس کے لواحقین نے کہا ہے کہ نور حسن واقعہ سے پہلے ہی انتقال کر چکے تھے اور ڈاکٹرز حقائق چھپانے کی خاطر الزام ہمارے اوپر لگا رہے ہیں۔

آرمی چیف کا اظہار افسوس

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے موٹاپے کے شکار نور الحسن کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ڈی جی آئی ایس پی آر کے اکاؤنٹ کے ذریعے کہا گیا ہے کہ نور الحسن کے انتقال پر آرمی چیف نے اپنے گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔
DG ISPR

@OfficialDGISPR
COAS expresses grief on sad demise of Mr Noor Hassan, earlier air lifted to Lahore for treatment at private hospital.
“Will of Allah is to be done while one can only make an effort. May Allah bless the departed soul. Aamen”, COAS.
9,626
5:44 PM – Jul 8, 2019
Twitter Ads info and privacy
2,145 people are talking about this
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں، باقی جو اللہ کی مرضی۔
آرمی چیف نے موٹاپے کے شکار مریض کے لیے دعا بھی کی، کہا اللہ نور الحسن کے درجات بلند کرے۔
ادھر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے نور حسن کی موت کی وجوہات جاننے اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے 3رکنی کمیٹی قائم کردی ہے ۔کمیٹی کے ارکان نے شالیمار ہسپتال کا دورہ بھی کیا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے