سرکاری کالجز میں اساتذہ کی تقرریوں کیلئے نئی پالیسی جاری

ویب ڈیسک : 19جولائی 2019
لاہور : پنجاب حکومت نے سرکاری کالجوں کے اساتذہ کے تقرر و تبادلوں کی نئی پالیسی جاری کردی، کالج پرنسپل کی تقرری کہ مدت 3 سال کر دی گئی، ایک ہی کالج میں تین سال سروس کرنے کے بعد اساتذہ کا دوسرے ضلع میں تبادلہ کر دیا جائے گا۔
حکومت پنجاب نے سرکاری کالجوں کے اساتذہ اور پرنسپل کے تقرر و تبادلوں کی نئی پالیسی کی منظوری دے دی ہے، اس ضمن میں‌ محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے نئی پالیسی کا نفاذ کر دیا ہے۔ اکیڈمک سیشن کے دوران اساتذہ کے تبادلے نہیں کیے جائیں گے، تبادلوں کیلئے درخواستیں جون سے لے کر 15 اگست تک وصول کی جائیں گی۔ نئی پالیسی کی دستاویز کے مطابق لیکچرر کی پہلی تقرری کے تین سال تک کالج سے تبادلہ نہیں‌ ہوسکے گا، تین سال کے بعد استاد کو خالی نشست پر کسی دوسرے ضلع میں تبادلے کے لیے اہل تصور کیا جائے گا۔
دوسری تقرری پانچ سال کے عرصے کے لیے ہوگی، دوسری پوسٹنگ کے پانچ سال کے بعد متعلقہ ڈویژن کے دوسرے ضلع میں ایک سال کیلئے ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔ معذوری اور خاوند یا بیوی کے انتقال کی صورت میں کسی بھی دوسرے ضلع میں خالی نشست پر بغیر کسی دوسری شرط کے تبادلہ کر دیا جائے گا۔ میڈیکل کے انتہائی سنجیدہ نوعیت کے کیسز میں میڈیکل بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں دوسرے کالج یا ضلع میں تبادلہ کیا جاسکے گا، جن اساتذہ کے‌ خلاف ڈسپلنری کارروائی عمل میں‌ لائی جائے گی انھیں دو سال کے لیے کسی دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کر دیا جائے گا تاہم یہ ضلع دوسری ڈویژن سے ہوگا۔
انٹر ڈسٹرکٹ تبادلوں کے لیے صرف خواتین کو اہل تصور کیا جائے گا جبکہ میوچل تبادلوں کے لیے متعلقہ کالج میں نشست کا خالی ہونا ضروری ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے