اے ٹی ایم کارڈ چوری کے ملزم کے قتل کا مقدمہ درج

ایس ایچ او تھانہ سٹی اے ڈویژن محمود خان سمیت تین نامزد پولیس اہلکاروں کیخلاف قتل،اقدام قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا

  • جاوید اقبال|رحیم یارخان

    اپ ڈیٹ|پیر02ستمبر2019


وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب پولیس کی طرف سے اے ٹی ایم کارڈ چور کی پولیس تشدد سے ہلاکت کا سخت نوٹس لیے جانے کے بعد ایس ایچ او تھانہ سٹی اے ڈویژن محمود خان سمیت تین نامزد پولیس اہلکاروں کیخلاف قتل،اقدام قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔بیٹے کی نعش دیکھ کر بوڑھا باپ غم سے نڈھال ہوگیا۔ریٹائرڈ ٹیچرمحمد افضال نے کہا کہ بیٹے کو ناحق قتل کیا گیا، اس کی ہلاکت کا علم میڈیا رپورٹ سے ہوا، جس کی خبر سن کر پورا گھر سکتے میں آگیا، تھانے کئی بار فون کیا لیکن کوئی کچھ بتاتا نہیں تھا اور فون بند کر دیتے تھے۔محمد افضال کا کہناہے کہ پولیس نے ہماری اجازت کے بغیر مقتول کا پوسٹ مارٹم کروا کرزیادتی کی ہے۔پولیس سے انصاف کی توقع نہیں۔معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتا ہوں۔
تفصیل کے مطابق چند روز قبل شاہی روڈ پر واقع بنک کی اے ٹی ایم مشین توڑ کر کارڈ چراکر فرارہونے کی کوشش کے دوران پولیس نے کامونکی(گوجرانوالہ) کے رہائشی صلاح الدین کو گرفتارکیا تھا جس کے بارے میں سوشل میڈیا پر مختلف شہروں میں اے ٹی ایم مشین توڑکر کارڈ چرانے کی ویڈیو وائرل تھیں بظاہر بولنے کی صلاحیت سے محروم صلاح الدین کی زبان کھلوانے کے لیے پولیس نے اس پر روایتی تشدد کیا تو ملزم بول پڑا۔اس دوران تفتیشی افسر اور اہلکار ملزم سے عجیب و غریب سوالات کرتے رہے۔پولیس تشدد کے باعث ملزم حوالات میں اچانک بے ہوش ہوگیا جسے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کردی جس پر پولیس نے اے ٹی ایم توڑ چور صلاح الدین کی نعش پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال کے سرد خانہ منتقل کردی تھی۔کل تک پولیس ترجمان کی طرف سے ملزم کی موت کی وجہ ہارٹ اٹیک بتائی جارہی تھی تاہم ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر خبر آنے اور ویڈیوز کے ذریعے حقائق سامنے آنے پر عوامی،سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کے نمائندؤں کی طرف سے شدید غم و غصے اور بھرپور ردعمل کا اظہار کیا گیا۔اور پولیس پر کئی سوالات بھی اٹھاۓ گئے۔جس کے بعد گذشتہ شام وزیراعلیٰ نے واقعہ کا نوٹس لے کر آئی جی پنجاب پولیس سے رپورٹ طلب کی تھی-
پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے صلاح الدین کا والد کامونکی کارہائشی محمد افضال بیٹے کی نعش وصول کرنے کیلئے آج اپنے وکیل کے ہمراہ رحیم یارخان پہنچا جس نے نعش وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس کے بیٹے کے قتل کا مقدمہ درج کیا جائے جس کے بعد ہی وہ نعش وصول کرے گا جس پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے ہلاک ہونے والے صلاح الدین کے والد محمد افضال کی جانب سے دی جانے والی تحریری شکایت جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ایس ایچ او تھانہ اے ڈویژن محمودالحسن، تفتیشی افسر سب انسپکٹر شفاقت علی،اسسٹنٹ سب انسپکٹر مطلوب حسین سمیت اہلکاروں کے مبینہ تشدد سے اس کے زیر حراست بیٹے صلاح الدین کی موت واقع ہوئی ہے لہذا ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائےجس پر پولیس تھانہ سٹی اے ڈویژن نے معطل کیے جانے والے ایس ایچ او محمودالحسن،تفتیشی افسر سب انسپکٹر شفاقت علی، اسسٹنٹ سب انسپکٹر مطلوب حسین سمیت اہلکاروں کے خلاف زیر دفعہ 302/34کامقدمہ درج کرلیا۔
اس موقع پر مقتول کے والد نے میڈیا سے گفتگو میں مقدمہ کے اندراج پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پیدائشی طور پر ذہنی معذور بیٹے کی مبینہ ہلاکت پر انصاف ملنا اللہ تعالیٰ پر چھوڑتا ہے تاہم پولیس نے بلا اجازت اس کے بیٹے کا پوسٹ مارٹم کرکے زیادتی کی ہے۔اسے یہ بھی خدشہ ہے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اصل حقائق کو چھپایا جاۓ گا۔
بعد ازاں ورثاء صلاح الدین کی نعش وصول کرکے تدفین کیلئے کامونکی گوجرانوالہ روانہ ہوگئے۔ادھر پولیس نے مقدمہ تو درج کرلیا ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔واضح رہے کہ واقعہ کی انکوائری کے لئے ایک انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دے رکھی ہے-
ادھر شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب پولیس کیپٹن(ر)عارف نواز کی طرف سے پولیس کے روایتی تفتیش کے طریقہ کار کو بدلنے کے دعوے اور اقدامات کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا ۔تفتیشی افسروں کی تربیتی کورسز اور نصاب میں تبدیلی کے اثرات محض دکھاوا اور بے سود ثابت ہورہے ہیں۔پولیس آج بھی مارپیٹ کا روایتی تفتیشی طریقہ کار اختیار کیے ہوۓ ہے۔نجی ٹارچر سیلز اور حوالات میں ملزموں پر ظالمانہ تشدد اور ذہنی ٹارچر کی خبریں آئے روز پڑھنے اور سننے کو ملتی ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے