بھارت سے کشیدگی بڑھانے میں کبھی پہل نہیں کریں گے، وزیر اعظم

پنجاب میں نئے ہہسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کی منظوری

ویب ڈیسک : 02 ستمبر 2019
لاہور:وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت دو جوہری ممالک ہیں جن کے درمیان کشیدگی بڑھی تو اس سے پوری دنیا کے لیے خطرہ پیدا ہوجائے گا، جبکہ پاکستان کشیدگی بڑھانے میں کبھی پہل نہیں کرے گا۔
لاہور میں سکھ برادری کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘وزیر اعظم بنا تو پہلی کوشش تھی کہ بھارت سے اچھے تعلقات ہوں، بھارتی وزیر اعظم کو پہلا پیغام دیا کہ ایک قدم بڑھاؤ ہم دو قدم بڑھائیں گے، ان سے کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے، نریندر مودی سے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔’انہوں نے کہا کہ ‘بھارتی وزیر اعظم سے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات سے حل کر سکتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے بھارت نے مذاکرات کے لیے شرائط رکھنا شروع کر دیں، کوئی بھی مسئلہ جنگ سے حل نہیں ہوتا لیکن افسوس کی بات ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت اس نظریے پر چل رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان بنا تھا، آر ایس ایس کی حرکتیں انسانیت کے خلاف ہیں جس کی کوئی بھی دین اجازت نہیں دیتا۔’
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں 28 روز سے کرفیو نافذ کر رکھا ہے، 80 لاکھ افراد محصور ہیں اور لوگوں کے پاس ادویات اور کھانے پینے کی اشیا تک نہیں ہیں۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارت میں آج اقلیتوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے مجھے اس پر خوف ہے، جس طرف آر ایس ایس بھارت کو لے کر جارہی ہے اس کے اندر کسی کی جگہ نہیں، آج بھارت میں 20 کروڑ مسلمان خوفزدہ ہیں، ان پر بھی کشمیریوں کی طرح مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ یہاں رکے گا نہیں، دیگر اقلیتوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔’انہوں نے کہا کہ ‘سب کو آر ایس ایس کے اس نظریے کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے، ہم دو جوہری طاقت رکھنے والے ممالک ہیں، اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو اس سے دنیا کو خطرہ ہے، ہماری طرف سے کبھی کشیدگی بڑھانے میں پہل نہیں ہوگی، اگر کشمیری مسلمان نہ ہوتے تب بھی ہم وہاں کے حالات پر آواز بلند کرتے۔’عمران خان نے دنیا بھر سے پاکستان آنے والے سکھوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ‘ ہماری حکومت ویزا کی فراہمی کا عمل آسان بنا رہی ہے، پاکستان آنے والے سکھوں کو ملٹی پل ویزے دیں گے اور کوشش کریں گے کہ آپ کو ایئرپورٹ پر ہی ویزا مل جائے۔
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں صوبہ پنجاب میں نئے ہسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کی منظوری دیدی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں صحت سہولیات کا جائزہ لینے سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس میں ڈاکٹر یاسمین راشد، مومن آغا، سلمان شاہ، نعیم الحق اور فردوس عاشق اعوان بھی شریک ہوئیں۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور سیکرٹری صحت مومن آغا نے وزیراعظم کو صوبے میں سہولیات بارے بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پنجاب میں نئے ہہسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کی منظوری دی گئی جبکہ ہیلتھ سٹی کا قیام بھی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان کا اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا کہ مجھے بہت دکھ ہوتا ہے، جب میں ہسپتالوں میں عوام کا رش دیکھتا ہوں۔ ہمیں عوام کو مزید سہولیات دینی چاہیں۔ غریبوں کے لئے ٹیسٹ اور تمام ادویات فری ہونی چاہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ سابق ادوار میں صحت جیسے اہم شعبے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سروس ڈلیوری پر خصوصی فوکس کیا جائے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے