پی ٹی آئی قیادت کا پنجاب کی تنظیم تحلیل کرنے کا فیصلہ

ویب ڈیسک : 03 ستمبر 2019
لاہور:پاکستان تحریک انصاف پنجاب کو وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو دفتر میں طلب کرنا مہنگا پڑگیا ہے۔
نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قیادت نے پنجاب کی تنظیم تحلیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور یہ فیصلہ کور کمیٹی کے اراکین کی مشاورت سے کیا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب میں پارٹی کو چار ریجنز میں تقسیم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔پارٹی قیادت نے وزیراعلیٰ پنجاب کو پی ٹی آئی سیکرٹریٹ طلب کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کورکمیٹی اراکین پر برہمی کا اظہار کیا۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اراکین اسمبلی کو بھی بار بار اسمبلی سیکرٹریٹ آنے کا کہا جاتا ہے جس پر وہ ناخوش ہیں۔
پی ٹی آئی پنجاب کے صدر کے رویے کے خلاف کور کمیٹی میں شکایات درج کروائی گئی تھیں جبکہ کمیٹی کے اراکین اہم اجلاس میں اعجاز چودھری پر برہم ہوگئے۔ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی پنجاب کی تنظیم سازی ختم کردی جائے گی اور چار ریجنز میں تقسیم کیا جائے گا۔پارٹی کے آئین میں ایک مرتبہ پھر ترمیم کی جارہی ہے جبکہ پنجاب کی تنظیم سازی کی تحلیل کا باقاعدہ اعلان ایک سے دو روز میں متوقع ہے۔
دریں اثنا تحریک انصاف کی آئین ساز کمیٹی نے مرکزی اور صوبائی صدور کے عہدے ختم کرنے اور ملک بھر میں ریجنل صدور کے عہدے بحال کرنے کی سفارش کردی۔پی ٹی آئی کی آئین ساز کمیٹی نے اسلام آباد کے تین حلقوں میں تین مختلف تنظیمیں بنانے کی تجویز دیدی، آئین ساز کمیٹی نے متفقہ طور پر تجاویز کی منظوری دیدی، تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عامر کیانی کی زیرصدارت پارٹی کی آئین ساز کمیٹی کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں عامر کیانی، شاہ محمود قریشی، اسد عمر، پرویز خٹک، بابر اعوان اور دیگر شریک ہوئے، کمیٹی نے تحریک انصاف کے آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے پارٹی کی مرکزی صدارت سمیت چاروں صوبوں کیلیے پارٹی صدارت کے عہدے ختم کرنے کی منظوری دیدی۔کمیٹی نے ملک بھر میں ریجنل صدور کے عہدے بحال کرنے کی بھی سفارش کردی جبکہ اسلام آباد میں تین انتخابی حلقوں کیلیے تین الگ تنظیمیں بنانے کی تجویز دی، پارٹی کے جنرل سیکریٹری عامر کیانی کمیٹی کی سفارشات پارٹی چیئرمین عمران خان کے سامنے رکھیں گے۔
کمیٹی کی سفارشات کی حتمی منظوری بطور چیئرمین وزیراعظم عمران خان دیں گے، وزیراعظم کی منظوری کے بعد آئین میں ترمیم ہوتے ہی موجودہ صوبائی صدور کے عہدے ختم ہو جائیں گے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے