کشمیریوں پر جبر و تشدد کو ایک ماہ گزر گیا: 16 شہید 367 زخمی

مظلوم کشمیری 30 دن سے گھروں میں محصور، کھانے پینے کی اشیا ختم

ویب ڈیسک : 03ستمبر 2019
سری نگر: مقبوضہ وادی کشمیر میں مسلسل کرفیو اور انسانی نقل و حمل پہ عائد ریاستی پابندیوں سمیت بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ایک ماہ مکمل ہوگیا ہے۔21 ویں صدی میں مقبوضہ وادی چنار کو پتھر کے دور میں دھکیلنے والی ہندو انتہا پسند مودی حکومت نے جس طرح مواصلاتی رابطوں کو ختم کیا ہے، اشیائے خور و نوش کی جان بوجھ کر ہمالیائی علاقے میں قحط جیسی صورتحال پیدا کی ہے، مریضوں کو اسپتال جانے سے روکا ہے اور علاج معالجہ کی حاصل سہولتوں پر پابندیاں لگائی ہیں، جدید دنیا کی معلوم تاریخ حکومتی ظلم و ستم کی ایسی دوسری نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران ساڑھے دس ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کرنے والی مودی سرکارنے ساڑھے چار ہزار افراد پر’ پبلک سیفٹی ایکٹ‘ جیسے کالے قانون کا اطلاق کرکے اپنا گھناؤنا چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران قابض بھارتی حکومت کے احکامات پر اس کی درندہ صفت افواج نے گولیاں مار کر ایک خاتون سمیت 16 کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔ فائرنگ، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کی شیلنگ سے 367 معصوم و بے گناہ کشمیری شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔
بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت نے گزشتہ ماہ کی پانچ تاریخ کو مقبوضہ وادی چنار کو ملکی آئین کے تحت حاصل خصوصی درجہ ختم کرکے ہمالیائی علاقے میں بدترین کرفیو نافذ کیا تھا جو تاحال برقرار ہے۔ اس وقت عملاً پوری دنیا سے مقبوضہ وادی کٹی ہوئی ہے، ٹی وی چینلز اوراخبارات پہ پابندی ہے، لینڈ لائنز سمیت موبائل فون سروسز اور انٹرنیٹ کی سہولتیں معطل ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ادویات کی عدم دستیابی نے اسپتالوں میں قلت پیدا کردی ہے جب کہ پیرا میڈیکل اسٹاف کو بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے پہنچنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مظلوم کشمیری گھروں میں محصور ہیں، کھانے پینے کی اشیا ختم ہوگئیں، ادویات کی قلت کا سامنا ہے، مسلسل ایک ماہ کے کرفیو سے زندگی عذاب بن گئی، سری نگر سمیت تمام بڑوں شہروں میں جگہ جگہ بھارتی فوج دندنا رہی ہیں۔
کرفیو، لاک ڈاؤن، جگہ جگہ قابض فوج کے باعث پوری وادی قید خانہ بن چکی ہے۔ سری نگر کے میئر جنید اعظم مٹو بھی بھارتی اقدامات پر پھٹ پڑے اور کہا ساری سیاسی قیادت نظر بند ہے، دلی سے سری نگر واپس جانے پر انہیں بھی حراست میں لے لیا جائے گا۔سری نگر کے مئیر نے کہا بہت بڑی حقیت ہے کہ موبائل فون سروس کام نہیں کر رہی ہے، انٹرنیٹ بند ہے، ڈائلسز کے مریض ہیں، لوگوں کو کیموتھراپی کی ضرورت ہے، وہاں پر حاملہ خواتین مشکلات کا شکار ہیں، یہ بالکل غیر حقیقی ہے کہ کوئی بھی کہے کہ صورت حال معمول کے مطابق ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا وادی یہی کچھ جاری رہا تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے