مصباح الحق قومی ٹیم کےہیڈ کوچ اور چیف سیلکٹر،وقار یونس بولنگ کوچ مقرر

جس طرح کرکٹ کھیلی اسی طرح نئی ذمہ داریوں کو بھی نبھاؤں گا، مصباح الحق

ویب ڈیسک : 04 اگست 2019
لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تین سال کے لئے مصباح الحق کو قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ اور چیف سیلکٹر جبکہ وقار یونس کو بولنگ کوچ تعینات کر دیا۔
اس ضمن میں پی سی بی کی جانب سے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قومی ٹیم کے لئے مقرر کردہ دونوں کوچز کے ناموں کی منظوری چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے دی ہے۔پی سی بی کے مطابق مصباح الحق اور وقار یونس کی قومی کرکٹ ٹیم کے ہمراہ پہلی اسائنمنٹ سری لنکا کے خلاف سیریز ہو گی۔اس موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا ہے کہ قائدانہ صلاحیتوں کے حامل مصباح الحق کو قومی ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داریاں دینا ہمارے لئے خوشی کا باعث ہے۔ان کا کہنا ہےکہ آئندہ چند ماہ میں پاکستان کرکٹ کے لئے بہت اہم ہیں۔ قومی ٹیم کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ، آئندہ سال ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی اور آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپس 2020،2021 میں شرکت کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی سی بی کو اعتماد ہے مصباح الحق کی زیر نگرانی قومی کرکٹ ٹیم آئندہ سالوں میں بہترین کارکردگی دکھائے گی۔اس سے قبل ذرائع نے بتایا تھا کہ کپتان سرفراز احمد کو ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا کپتان برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جبکہ ٹیسٹ کی کپتانی مل سکتی ہے۔رواں ماہ سری لنکا کے خلاف محدود اوورز کی سیریز میں سرفراز ہی کپتانی کریں گے۔
دریں اثنا قومی کرکٹ ٹیم کے نو منتخب کوچ و چیف سیلکٹر مصباح الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
پی سی بی کے سی ای او وسیم خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس طرح میں نے کرکٹ کھیلی اسی طرح نئی ذمہ داریوں کو بھی نبھاؤں گا، اور قومی ٹیم کی بہتری کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں خرچ کر دوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں پیشہ وارانہ مہارت لانے کی ضرورت ہے نہ صرف قومی ٹیم میں بلکہ ڈومیسٹک لیول پر بھی اس کا نفاذ کروں گا۔ایک سوال کے جواب میں وسیم خان نے کہا کہ مصباح الحق کا اس سے قبل کوچنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے، انہیں وقت دینے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ریجنل ٹیم کے چیف سیلکٹرز ٹیم سیلکشن میں مصباح الحق کی مدد کریں گے، اس سے قبل رائج سیلکشن کا نظام ختم کر دیا گیا ہے۔اس دوران مصباح الحق نے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ ایسی ٹیم بنائی جائے جو جارحانہ طرز کی کرکٹ کھیلیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ مشکل وقت آنے پر دفاعی کرکٹ کھیلنی بھی جانتے ہوں۔کپتانی کے سوال پر وسیم خان نے کہا کہ قومی ٹیم کے کوچ مصباح الحق اور چیئرمین پی سی بی کے ساتھ مشاورت کے بعد ٹیم کے کپتان کا بھی جلد اعلان کر دیا جائے گا۔
مصباح الحق نے کہا کہ اس بات پر میں یقین رکھتا ہوں کہ فائنل الیون سیلکٹ کرنے کا اختیار کپتان کے پاس ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ میرا اور بولنگ کوچ وقار یونس کا کام کے حوالے سے اچھا تعلق ہے، ہمیں اپنی اپنی حدود کا علم ہے، یہ بات واضح ہے کہ لائحہ عمل ہیڈ کوچ دیتا ہے .کوچ کی تنخواہ کے حوالے سے سوال پر وسیم خان نے بتایا کہ مصباح الحق چیف سیلکٹر بھی ہیں اور کوچ بھی ہیں انہیں اسی لحاظ سے تنخواہ دی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹیم مینجمنٹ کو سیلکٹ کرنے کا اختیار مصباح الحق کے پاس ہے وہ بہتر جانتے ہیں کہ انہیں بیٹنگ کوچ چاہئے یا نہیں ہم ان کے فیصلے کا احترام کریں گے۔ڈیپارٹمنٹل کرکٹ بند کئے جانے کے حوالے سے سوال پر مصباح الحق نے کہا کہ ایک عرصے سے یہی رونا رویا جاتا رہا ہے کہ ہمارا کرکٹ اسٹرکچر بہتر نہیں ہے لہذا اس کی بہتری کے لئے کچھ نہیں کچھ کرنا پڑتا ہے، اس نئے سسٹم کے کچھ اچھے پہلو بھی ہیں اور کچھ برے بھی، اگر ہم اس نظام کو بہتر چلانے میں کامیاب ہو گے تو اس سے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سرفراز احمد نے حالیہ کیمپ کے دوران بہت محنت کی ہے اور اپنی فٹنس کو بھی بہتر بنایا ہے۔
نو منتخب کوچ کا کہنا تھا کہ اپ تب ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جب ہر کسی کے ساتھ ایک جیسا رویہ رکھیں اور اس طرز عمل سے عزت بھی ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب سے میں اور یونس خان ریٹائر ہوئے ہیں تب سے ہماری ٹیسٹ ٹیم کو مسائل کا سامنا ہے، میری کوشش ہو گی کہ لمبے طرز کی کرکٹ میں بہتری لائی جائے اگر اس میں ہم کامیاب ہو گئے تو سفید بال کرکٹ میں بھی کامیاب ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ایمانداری کے ساتھ ٹیم سیلکشن میں فیصلے کروں گا باقی نتائج تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔مصباح الحق نے کہا کہ ہماری کارکردگی ٹیم میں تسلسل نہیں ہے، چاہے کھیل ہو یا فٹنس ایک دن بہت اچھے ہوتے ہیں تو دوسرے دن بالکل نیچے چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کو انگلینڈ ، انڈیا اور آسٹریلیا کی طرح پروفیشنل ٹیم بنانے کی کوشش کروں گا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے