مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے طالب علم شہید

ویب ڈیسک : 04 ستمبر 2019
سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیری طالب علم کو شہید کردیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے کرفیو نافذ ہے اور کاروبار زندگی مفلوج ہے۔ سری نگر کے علاقے صورہ میں بڑی تعداد میں کشمیری مظاہرین نے گھروں سے باہر نکل کر بھارت کے خلاف احتجاج کیا اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔بھارتی فوج نے نہتے مظاہرین پر پیلٹ گنز سے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 11 ہویں جماعت کا طالب علم شہید ہوگیا۔
دوسری جانب نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید حریت رہنما یاسین ملک کی طبیعت بگڑ گئی ہے۔ بھارتی فوج نے فروری میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کو جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرلیا تھا۔
ادھربھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کیلیے کام کرنا تقریبا ناممکن بنادیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور مواصلاتی رابطے منقطع ہونے کے باعث صحافیوں کے لیے نہ صرف معلومات فراہم کرنے میں شدید دشواریاں ہیں بلکہ سفر کرنا بھی خطرناک ہوگیا ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق صحافی ریاض مسرور نے بتایا کہ کشمیر کی صورتحال پر رپورٹ کرنا مقامی اور بین الاقوامی اداروں کے لیے کام کرنے والے صحافیوں دونوں کے لیے بہت مشکل ہوگیا ہے، ایک ماہ سے پابندیاں نافذ ہیں، تجارتی اور تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں، انٹرنیٹ اور ٹیلی فون بند ہونے کی وجہ سے صحافی اپنا کام نہیں بھیج پاتے۔
صحافی شون ستیش نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں کام کرنا تقریباً ناممکن ہے اور کوئی آزادی نہیں ہے، ایک روز رپورٹنگ کے دوران ایک کشمیری نوجوان نے اپنی موٹرسائیکل پر مجھے لفٹ دی، تو رستے میں مجھے ہمیں بھارتی سی آر پی ایف نے روکا، انھوں نے روک کر اس نوجوان سے کافی سوال پوچھے اور تلاشی لی تو اس سے صرف ایک صفائی کرنے والا کپڑا ملا، لیکن بھارتی فورس نے نوجوان پر تشدد کرتے ہوئے کہا کہ تم تو پتھراؤ کرنے میں ملوث ہو، اہلکاروں نے مجھے سے کیمرہ اور فون چھین لیا، الٹے سیدھے سوالات پوچھتے رہے اور تھانے لے جاکر پولیس کے حوالے کرکے حراست میں لے لیا، اور کافی دیر بعد چھوڑا۔شون نے کہا کہ انتظامیہ کہتی ہے کہ سب کچھ نارمل ہے اور حالات بہتر ہو رہے ہیں لیکن جب ہم باہر جاتے ہیں تو فوج یا پولیس ہمیں جانے نہیں دیتی، پوچھ تاچھ کرتی ہے اور کوئی چیز فلم بند کرنے کی اجازت نہیں دیتی، اگر مجھے حراست میں لے لیا جائے تو میں کسی کو بتا بھی نہیں سکوں گا۔
فوٹو جرنلسٹ زوہیب کو 2016 میں کام کرتے ہوئے آنکھ میں آہنی چھرہ لگا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہر کام قسطوں میں ہو رہا ہے، کشمیر میں اب قسطوں کی زندگی گزارنی پڑے گی کیونکہ ذرائع مواصلات کی مکمل بندش ہے، جو شون کے ساتھ ہوا وہ ہر مقامی صحافی کے ساتھ روز ہوتا ہے، صحافی جہاں بھی رکیں تو سی آر پی ایف اہلکاروں کے موڈ بگڑ جاتے ہیں۔
شون اور زوہیب نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکار اکثر صحافیوں کو روک کر ان کے میموری کارڈ خالی کروا لیتے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے