کراچی میں احتجاجی اساتذہ پر لاٹھی چارج،متعدد زخمی

ویب ڈیسک|اتوار15ستمبر2019
کراچی: سندھ بھر کے آئی بی اے ٹیسٹ پاس ہیڈ ماسٹرزاور ہیڈ مسٹریس ( ایچ ایمز) نے مستقل نہ کئے جانے پر سندھ حکومت کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا دیا۔مطالبات کی منظوری کے لئے وزیر اعلی ہاؤس کی جانب پیش قدمی پر پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور واٹر کینن کے ساتھ شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے جبکہ 10 سے زائد ایچ ایمز کو حراست میں لے لیا گیا۔احتجاجی ایچ ایمز نے مطالبات منظور نہ ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔احتجاجی ایچ ایمز کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے 2015 میں بغیر کسی تفریق اور سفارشات کے ایک مکمل شفافیت اور میرٹ کے تحت آئی بی اے جیسے نامور ادارے کی مدد سے ہیڈماسٹرز اور ہیڈمسٹریسز کی خالی آسامیوں کے لئے ٹیسٹ لیا گیا، جس کے بعد چیف سیکرٹری کی جانب سے کمیٹی تشکیل دے دی گئی اور انٹرویو لیے گئے، ڈگریوں اور اسناد کی تصدیق ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے کروائی گئی، زیبسٹ اور پراونشل انسٹیٹیوٹ آف ٹیچرز ایجوکیشن کی مدد سے مسلسل 14 دن کا ٹریننگ کورس بھی کروایا گیا، جس کے بعد 957 اہل امیدواروں کو کنٹریکٹ کے بنیاد پر بھرتی کر کے تقرر نامے جاری کئے گئے، بھرتی کا مکمل عمل وزیر اعلیٰ سندھ کے احکامات اور اجازت کے مطابق ہوا،کنٹریکٹ پر بھرتی اساتذہ کو مستقل نہ کرنا ناانصافی ہے جس کے لیے وہ ہرفورم پر احتجاج جاری رکھیں گے۔پولیس کی طرف سے اساتذہ پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ سے علاقہ میدان جنگ بنا رہا۔ادھر پنجاب ٹیچرز یونین سمیت ملک بھر کی اساتذہ تنظیموں نے سندھ پولیس کی طرف سے قوم کے معماروں پر لاٹھی چارج کی شدید مذمت کی ہے اور اسے آمرانہ طرز عمل قرار دیا ہے۔اساتذہ رہنماؤں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اساتذہ کو مستقل کیا جاۓ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے