آٹھ جماعتیں پڑھی عورت کا اخبار

تحریر:اسلم ملک

آٹھ جماعتیں پڑھی عورت کا اخبار


آج سے 56 سال پہلے 16 ستمبر 1963 کو لاہور سے ایک نیا اخبار نکلا اور تھوڑے ہی عرصے میں لاہور کا نمبر ایک اخبار بن گیا۔ بعد میں یہ تمام صوبائی دارالحکومتوں سے شائع ہونے والا واحد قومی اخبار بنا۔
روزنامہ ’مشرق‘ منفرد سوچ رکھنے والےصحافی عنایت اللہ نے جاری کیا۔ وہ 1953 میں نسیم حجازی کے ساتھہ مل کر راولپنڈی سے ’کوہستان‘ نکال چکے تھے لیکن مشرق خالصتاََ ان کا اور ان کے چند قریبی ساتھیوں کا منصوبہ تھا۔ انہوں نے اس کیلئے انگریزی ، عربی اور فارسی کے مقبول اخباروں کو سامنے رکھہ کر ایک نیا ’ لے آؤٹ‘ اختیار کیا۔عنایت اللہ کہتے تھے کہ گھر میں اخبار لگوانے کے فیصلے میں خاتونِ خانہ اور بچوں کی مرضی سب سے زیادہ چلتی ہے۔ اس لئے نہ صرف عورتوں اور بچوں کی دلچسپی کا زیادہ سے زیادہ مواد روزانہ چھاپا جائے بلکہ اخبار کی زبان ’’ آٹھہ جماعت پاس گھریلو عورت‘‘ کو مدِ نظر رکھہ کر استعمال کی جائے۔ مشکل الفاظ کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ مثلاََ ’متضاد‘ کا لفظ ممنوع تھا ، ’الٹ‘ لکھنے کی ہدایت تھی۔
عنایت اللہ نے مستقل پالیسی دی کہ تعلیمی اداروں کی تقریبات کی اچھی کوریج کی جائے۔ ان کی بڑی بڑی تصاویر لگائی جائیں جن میں تمام شرکأ پہچانے جاسکیں۔ خبر میں بچوں کے نام زیادہ سے زیادہ دئیے جائیں ، تاکہ جس بچے کا نام یا تصویر چھپے، اس کے پورے محلے میں ’مشرق‘ کا تذکرہ ہو۔
’خاتون کی ڈائری‘ ،’آج کیا پکائیں‘ ،’اسے بھی پڑھئیے‘ وغیرہ جیسے بے شمار کالم شروع کئے گئے۔ ادبی حلقوں میں انتظار حسین کی ڈائری ’’لاہور نامہ‘‘ موضوعِ گفتگو ہوتی تھی۔ ان کالموں کا انتخاب چھپا ہے، جو ایک طرح سے لاہور کی ادبی و ثقافتی تاریخ ہے۔ قریباََ روزانہ دو،دو صفحے کے باتصویر سوشل فیچر مقبولِ عام ہوئے۔ استادِ محترم ڈاکٹر عبدالسلام خورشید دو کالم مشرق میں لکھتے رہے، ایک واقعاتِ عالم اور دوسرا افکار وحوادث۔ حسین احمد شیرازی کسٹم گائیڈ کے عنوان سے لکھتے رہے، حکیم نور احمد کا طب وصحت پر کالم مقبول تھا۔
مشرق میں ریاض بٹالوی کے پورے صفحے ( اور بعض اوقات دو صفحات کے) فیچر بہت مقبول ہوئے۔ ایک بار ریاض بٹالوی نے چیلنج کیا کہ وہ بھیس بدل کر شہر میں گھومتے رہیں گے ، جو مجھے ڈھونڈ لے گا ، انعام پائے گا۔ وہ روزانہ اپنی مختلف مقامات پر موجودگی کی تصاویر چھاپتے رہے لیکن شاید کوئی نہیں ڈھونڈ سکا ۔
مشرق سے ابو صالح اصلاحی، مکین احسن کلیم،اقبال زبیری، حسن عابدی ، عالی رضوی، ضیأالاسلام انصاری،عزیز مظہر، فرہاد زیدی ، نذیر حق ، اسحقٰ چودھری، سرفراز سید، محبوب سبحانی، توصیف احمد خاں، حسن رضا خاں ،سرور مجاز، خالد مسعود، طاہر قریشی، محمد یحیی خاں، سعادت خیالی، طلعت محمود رانا، خالد سعید، طارق فہیم، غلام محی الدین نظر،انور شعور، اورنگ زیب، نسیم ہاشمی،عبدالرؤف ظفر ، ممتاز احمد سید ، تسلیم احمد تصور، نذرالاسلام ، اکرام الحق، ذوالفقار مہتو جیسے صحافی اور شریف گلزار، محمد عباس اور عرفان احمد جیسے خطاط منسلک رہے۔ ارشاد احمد خاں ، ولی رضوی وسعت اللہ خان، نعیم آروی ، شہریار جلیس ، نادر شاہ عادل، نسیم شاد ، فاروق عادل ،شاہد حسین بخاری ، ہمایوں عزیز، مشتاق سہیل، قمر نقوی امروہوی ، شکیل حسنین ، افضل ندیم ،حمزہ علی ، ایس ایم نقی ، بشیر صدیقی ، اختیار حسین اخلاق احمد آفاق فاروقی،حمیرہ اطہر،جنید رضوی، سلیم ارشد ،وقار ہاشمی ، یامین جعفری، مشرف حسنی ، مشرق کراچی میں رہے۔
نثار فاطمہ محسن، مسرت جبیں ، فریدہ حفیظ نے بھی مشرق میں نام پیدا کیا۔
میر صاحب کے نام سے میر حمید کے کارٹون بھی مقبول ہوئے۔ صفحہ 2 پر ایک کارٹون شہری مسائل پر اورصفحہ اول یا آخر پر ایک قومی معاملات پر ہوتا تھا۔
ادارہ مشرق نے خواتین کیلئے ایک الگ ہفت روزہ بھی ’’اخبارِ خواتین‘‘ کے نام سے جاری کیا۔ جسے فرہاد زیدی، حسن عابدی، مسرت جبیں، شمیم اختر ، ش. فرخ، ریحانہ حکیم نے پروان چڑھایا. فرہاد زیدی کو دلہن مسرت جبیں بھی شاید یہیں سے ملی ۔ زاہدہ حنا نے اخبارِ خواتین میں کالم کا آغاز کیا ۔ اس ہفت روزے نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی۔عنایت اللہ کی ہدایت تھی کہ کوئی بھی بھی شخص جو بھی خبر، مطالبہ، اپیل، اطلاع لے کر آئے، وہ ضرور چھاپی جائے۔
میں پانچویں جماعت میں تھا جب مشرق کے بچوں کے اخبار میں میری چھوٹی سی تحریر ، تصویر کے ساتھہ چھپی۔ پھر ساتویں جماعت میں تھا جب ریوے بکنگ کلرک کی اوور چارجنگ کے بارے میں میرا مراسلہ مشرق میں چھپا اور فوری کارروائی ہوئی۔عنایت اللہ کی کامیابی میں اس بات کا بھی بڑا دخل تھا کہ انہوں نے تمام کارکنوں میں ایک فیملی ہونے کا احساس پیدا کیا۔ جب عنایت اللہ کا انتقال ہوا توان کا یا ان کے خاندان کا ’مشرق ‘ کی ملکیت سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن مشرق کے ملازمین بانیٔ مشرق کی ہر برسی پر بہت بڑا اجتماع کرتے رہے، اتنا بڑا کہ کہ آج جن اخباروں کے مالک ، بانیٔ کی اولاد ہیں ، وہ بھی اپنے بانیٔ ادارہ کی برسی پر اس کا دسواں حصہ بھی جمع نہیں کرپاتے۔
سرفراز سید بتاتے ہیں عنائت اللہ صاحب ہرماہ دفتر کے اکاؤنٹس آفس میں کھڑے ھوکرایک ایک کارکن کو تنخواہ دلاتے- پھر سب سے پانچ پانچ روپے لےکر اور اپنے پاس سےبھی پیسے ڈال کر گوال منڈی سے کھانا منگوایا جاتا اور عنائت صاحب، چیف ایڈیٹر، ایڈیٹر، ھم سب لوگ اکٹھے ایک ھی میز پر کھانا کھاتے-
رضا علی عابدی صاحب فرماتے ہیں ’’صرف ایک پھیپڑے پر زندہ تھے۔غضب کی توانائی تھی‘‘۔۔۔ اسی بیماری نے جان لی۔
بانیٔ ادارہ سے محبت اور احساسِ تشکر کی ایک اور مثال ’امروز‘ اور ’ پاکستان ٹائمز‘ شائع کرنے والے ادارے پروگریسیو پیپرز لمیٹڈ میں دیکھی، جہاں میاں افتخار الدین کے زمانے سے پی پی ایل میں آنے والے الماس عرف ماچھو پہلوان اور ان کے ساتھی ،ادارے کے ختم ہونے تک ہر ماہ میاں صاحب کا ختم دلواتے رہے۔زاہد کاظمی صاحب نے ایک دلچسپ بات بتائی ہے کہ اخبار خواتین سے وابستہ کئی خواتین نے آپ بیتیاں بھی تحریر کیں جو بہت اہم اور دلچسپ ہیں، ان خواتین میں راشدہ نثار(آپ اپنی تماشائی) انیس ہارون(کب مہکے گی فصل گل) ش فرخ (جینے کا جرم) اور شمیم اختر(دل میں چبھےکانٹے) شامل ہیں علاوہ ازیں حسن عابدی نے بھی اپنی یادداشتیں بشکل انٹرویو ریکارڈ کروائی تھیں جو "جنوں میں جتنی بھی گزری ہے” کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوئیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے