زلزلہ: میرپورآزاد کشمیر میں آفٹر شاکس،جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہوگئی

ویب ڈیسک : 25ستمبر 2019



اسلام آباد:آزاد کشمیر میں گزشتہ روز آنے والے شدید زلزلے کے بعد علاقے میں آفٹرشاکس جاری ہیں، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جبکہ متعدد زلزلہ متاثرین نے رات گھروں سے باہر گزاری۔
منگل کو آنے والے 5.8 شدت کے زلزلے سے سب سے زیادہ آزاد کشمیر کے علاقے متاثر ہوئے اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا جبکہ زلزلے کے باعث جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 30 ہوگئی ہےاور 452 سے زائد زخمی ہیں۔اس زلزلے نے جہاں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی وہی اس کے بعد آنے والے آفٹر شاکس نے بھی شہریوں کو خوف میں مبتلا کردیا۔
رپورٹس کے مطابق علاقے میں زلزلے کے آفٹرشاکس کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ رات اور صبح کے اوقات میں بھی ان شاکس کو محسوس کیا گیا، جس کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کا ورد کرتے رہے۔
زلزلے کے باعث جاتلاں میں مختلف مقامات پر سڑکیں دھنس گئیں جبکہ متعدد عمارتیں بھی تباہ ہوگئیں جس کے باعث مواصلاتی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا۔یہی نہیں بلکہ متعدد زلزلہ متاثرین نے رات گھروں سے باہر گزاری جبکہ خواتین اور بچے بھی مختلف مقامات پر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور نظر آئے۔
آزاد کشمیرانتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اب تک زلزلے کی وجہ سے 30 افراد اپنی جانوں کی بازی ہار چکے ہیں جن میں دو خواتین اور ایک بچی بھی شامل ہے۔ زخمیوں کی تعداد 400 سے زائد بتائی جارہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر میر پور آزاد کشمیر راجہ قیصر کا کہنا ہے کہ پاک فوج ، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور دیگر ریسکیو اداروں نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔ زلزلے سے ہونے والے نقصانات کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ابھی تفصیلات اکھٹی کی جارہی ہیں۔
دوسری جانب زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے پاک فوج، سول انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کا امدادی آپریشن جاری ہے اور مختلف علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔نیشنل ڈیزاسٹر منیجنمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل افضل نے اپنی ٹیم اور امدادی سامان کے ہمراہ میرپور کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔
قبل ازیں آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر نے بھی ہسپتال کا دورہ کیا تھا اور زلزلے سے متاثرہ افراد کی خیریت دریافت کی تھی۔اس کے علاوہ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بھی زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور زخمیوں سے ملاقات کی۔
ادھر این ڈی ایم اے کی جانب سے زلزلہ متاثرین کی بحالی کا کام جاری ہے اور اب تک 200 ٹینٹس، 800 کمبل اور 200 کچن سیٹس فراہم کیے جاچکے ہیں۔علاوہ ازیں این ڈی ایم اے نے بتایا کہ اب تک 452 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی، جس میں 160 افراد شدید جبکہ 292 معمولی زخمی بتائے گئے۔اسی طرح یہ بھی بتایا گیا کہ جتلاں بازار میں عمارتیں تباہ ہونے سے لوگ وہاں پھنس گئے جبکہ بھمبر سے بھی پل کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی۔زلزلے کے باعث ضلع میرپور اور کوٹلی میں بجلی کی فراہمی معطل ہے جبکہ مرکزی جتلاں سڑک کو بری طرح نقصان پہنچا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے