مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر و تشدد میں اضافہ،مزید4کشمیری شہید

ویب ڈیسک : 29ستمبر 2019
سری نگر: اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے زبردست انداز میں کشمیر اور مظلوم کشمیریوں کا مقدمہ پیش کرنے کے نتیجے میں عالمی سطح پر ملنے والی خفت مٹانے کے لیے انتہا پسند حکمراں ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے احکامات پر اس کی درندہ صفت قابض افواج نے جاری جبر و تشدد میں مزید اضافہ کرتے ہوئے چار افراد کو شہید کردیا ہے۔
جنونی ہندوؤں کی مودی سرکار کے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے نقشہ نویس (مشیر برائے قومی سلامتی امور) اجیت ڈوول دو دن قبل مقبوضہ وادی کشمیر کا دورہ کر کے وہاں متعین سیکیورٹی افسران و اہلکاروں کو واضح ہدایات دے چکے ہیں کہ وہ حق خود ارادیت کے علمبرداروں اور آزادی کے متوالوں کے خلاف ریاستی طاقت کا اندھا دھند استعمال کرتے ہوئے انہیں پوری طرح سے کچل دیں۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق بھارتی افواج نے ہمالیائی وادی کے علاقے بٹوت میں کارروائی کرتے ہوئے تین حریت پسندوں کو شہید کردیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دل باغ سنگھ نے الزام عائد کیا ہے کہ شمالی علاقے کنگن میں ایک حریت پسند پولیس مقابلے میں شہید ہوا ہے۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مقبوضہ وادی کی پولیس کا کہنا ہے کہ رام بن کے قصبہ بٹوت اور گاندربل کے جنگلی علاقہ ترنکھال میں ہفتہ کی صبح شروع ہونے والی مسلح جھڑپوں میں چار افراد جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ سیکیورٹی فررسز کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق شہید ہونے والے افراد کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے البتہ بھارت کی قابض افواج کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کی رپورٹس پولیس کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر تین مرتبہ دی گئی ہے۔مقبوضہ وادی چنار میں بھارت کی قابض سیکیورٹی فورسز نے وزیراعظم عمران خان کی تقریر سے قبل سیکیورٹی مزید سخت کردی تھی اور مسلمانوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی تک کی اجازت نہیں دی تھی۔بھارتی ذرائع ابلاغ نے سیکیورٹی حکام کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ عمران خان کی تقریر کے بعد مقبوضہ وادی میں ہنگامے پھوٹ سکتے ہیں اور مظلوم کشمیری احتجاج کے لیے سڑکوں پہ نکل سکتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں اقوام متحدہ کو خبردار کیا تھا کہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ تنازع کشمیر پر موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور یہ ایک مکمل جوہری جنگ پر منتج ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے اثرات پوری دنیا پہ مرتب ہوں گے۔
آرٹیکل 370 اے ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 56ویں روز بھی کرفیو برقرار ہے اور مواصلات کا نظام مکمل پر معطل ہے، قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند کررکھی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ پرسخت پابندیاں عائد ہیں۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مواصلاتی نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے باعث لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وادی میں کرفیو کے باعث 3 ہزار 9 سو کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے، وادی میں کھانا میسر ہے اور نہ ہی دوائیں۔ سرینگر اسپتال انتظامیہ کے مطابق کرفیو کے باعث روزانہ 6 مریض لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ پانچ اگست کو مودی سرکار نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کو ختم کردیا تھا۔راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے، بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے تھے۔
بھارت نے پانچ اگست کو مقبوضہ وادی کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی تھی اور وہاں کرفیو نافذ کرکے ہر طرح کے مواصلاتی رابطے معطل کردیے تھے جن کا تسلسل تاحال جاری ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے