رانا ثناءالہ نے ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

خصوصی عدالت نے رانا ثناءاللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 9 اکتوبر تک توسیع کردی

ویب ڈیسک : بدھ02اکتوبر 2019
لاہور: انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے رانا ثناءاللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 9 اکتوبر تک توسیع کردی جب کہ لیگی رہنما نے ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔رانا ثناءاللہ کے خلاف منشیات برآمدگی کیس کی سماعت ڈیوٹی جج سینٹرل خالد بشیر نے کی۔رانا ثناءاللہ کی جانب سے ایڈووکیٹ فرہاد علی شاہ نے دلائل دیے جب کہ عدالت نے دوپہر 12 بجے تک ایم ڈی سیف سٹی کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا۔
احاطہ عدالت میں مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنااللہ کا میڈا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرے تمام اکاؤنٹس منجمد کر دئیے گئے ہیں، پارلیمنٹ بلڈنگ میں بطور ایم این اے بھی میرا اکاونٹ فریز کر دیا گیا ہے۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اکاؤنٹ منجمند کرنے کا مقصد یہ ہے وکلاء کو فیس نہ دے سکوں اور روز مرہ کے معاملات نہ چلا سکوں۔
انہوں نے کہا کہ بطور ایم این اے میرے اکاؤنٹ میں موجود رقم کو منشیات کی رقم کہا جا رہا ہے، میرے خلاف اگر کوئی ویڈیو تھی تو وہ بھی پیش نہیں کی گئی۔رہنما ن لیگ نے کہا کہ اس حکومت کو جتنا وقت دیا جائے گا ملک و قوم کا نقصان ہو گا۔انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ کیس کی ویڈیو عدالت میں پیش نہیں کی گئی، ایم ڈی سیف سٹیز اتھارٹی کو عدالت نے طلب کیا لیکن وہ نہیں آئے۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ اے این ایف کہتی ہے مرضی ہے وہ آئیں یا نہ آئیں، ایک معمولی بیوروکریٹ بھی عدالت کے حکم پر حاضر نہیں ہوتاانہوں نے دعویٰ کیا کہ اے این ایف رانا ثناءاللہ کے خلاف کیس بنانے میں ناکام رہا۔
دوسری جانب رانا ثناءالہ نے ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔رانا ثناء اللہ کی جانب سے دائر درخواست میں اے این ایف کے تفتیشی افسر کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ حکومت پر سخت تنقید کرتا رہا ہوں، حکومت کیخلاف تنقید کرنے پر منشیات سمگلنگ کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا، وقوعہ کی ایف آئی آر تاخیر سے درج کی گئی جو مقدمہ کومشکوک ثابت کرتی ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہےکہ ایف آئی آر میں 21 کلوگرام ہیروئن اسمگلنگ کا لکھا گیا، بعد میں اس کا وزن 15 کلو گرام ظاہر کیا گیا، گرفتاری سے قبل گرفتاری کے خدشے کا اظہار کیا تھا، بے بنیاد مقدمہ میں گرفتار کر لیا گیا۔رانا ثناءاللہ نے اپنی درخواست میں عدالت سے ضمانت پر رہائی کی استدعا کی ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے