مکمل اختیار دیں، تین ہفتوں میں سب واپس لاؤں گا،چیئرمین نیب

ایک طرف نیب اور دوسری طرف طاقتور مافیا ہے

ویب ڈیسک : 03اکتوبر2019
لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ٹیکس سے بچنا اور منی لانڈرنگ مختلف معاملات ہیں، یقین دلاتا ہوں کہ ٹیکس سے بچنے کا کوئی مقدمہ نیب کے پاس نہیں ہو گا۔لاہور میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب کو اپنی حدود سے تجاوز کرنے کا کوئی شوق نہیں، ٹیکس معاملات کے تمام مقدمات ایف بی آر کو بھیج دیے گئے ہیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ پانامہ کیس کی معلومات جلدی آ گئیں تو اس پر فیصلہ بھی جلد ہو گیا، باقی مقدمات بھی چل رہے ہیں، سزا و جزا عدالتوں کا کام ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک نہیں بلکہ بہت سے مافیا کام کر رہے ہیں، ان کی بہت سی داستانیں ہیں، ایک طرف نیب اور دوسری طرف طاقتور مافیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بدعنوان افراد کے جو کارروائی کی اس کا بہت ذکر ہوتا ہے، انہوں نے بڑے افراد کو چار ہفتے ہوٹل میں قید رکھا اور سب واپس لیا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں بادشاہت ہے، وہ جو کہتے ہیں وہی قانون بن جاتا ہے، مجھے تو دو روز بھی کسی کو قید رکھنے کا اختیار نہیں۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ مجھے اختیار دیں پھر دیکھیں گے، سعودی عرب نے بڑے افراد کو چار ہفتے قید میں رکھا اور سب واپس لیا، مجھے تو دو روز بھی کسی کو قید میں رکھنے کا اختیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے اختیار دیں پھر دیکھیں، سعودی عرب نے چار ہفتے لیے ہیں، میں تین ہفتوں میں ہی سب کچھ واپس لاؤں گا-چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ پلی بارگین رضاکارانہ فعل ہے تاہم سو روپے کی کرپشن پر 10 روپے واپس کرنا زیادتی ہے، جب تک میں منظور نہ کروں پلی بارگین نہیں ہو سکتی-انہوں نے کہا کہ کسی یتیم اور بیوہ کو پیسے واپس دلانا کون سا جرم ہے، جن کے پاس چار گز زمین نہیں وہ 50 فارمز بیچ چکے ہیں، ایسے افراد کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ غریب عوام کے پیسے لوٹ کر بھاگ جانا بڑی ڈکیتی ہے، کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں، جن کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا وہ آج پیشیاں بھگت رہے ہیں۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، عہدہ سنبھالتے وقت تمام کشتیاں جلا دی تھیں۔انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقے کو حق اور سچ کا ساتھ دینا چاہیے، ڈر اور خوف کی بات نہیں، قانون کے مطابق کاروبار کریں۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی کاروباری شخصیت ثابت کر دے کہ اس کے خلاف زبردستی مقدمہ بنایا گیا تو میں ہر سزا کے لیے تیار ہوں۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ غلطی کا امکان کم ہے لیکن اگر ہو گئی تو اس کا ازالہ کریں گے، غلطی کااعتراف کرنا ظرف کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کاروباری طبقے پر اثرانداز نہیں ہو گا، کسی پر مقدمہ نہیں بنایا جائے گا، انصاف کریں گے تو معاشرے، قوم اور ملک کے لیے بہتر ہو گا۔چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ وہ لوگ تقریریں کر رہے ہیں جنہوں نے نیب کی کارکردگی دیکھی تک نہیں، کسی نے کہا کہ نیب کے اخراجات زیادہ ہیں اس لیے بند کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ نیب اپنے اخراجات سے کہیں زیادہ رقم قومی خزانے میں واپس لوٹاتا ہے، نیب کے خلاف بات کرنے والے قوانین پڑھ لیں۔جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کسی کی جیب سے پیسہ نکالنا بہت مشکل کام ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے