قومی سلامتی کا تعلق معیشت سے ہے،آرمی چیف

آرمی چیف سے ملک کے کاروباری رہنماؤں کی اہم ملاقات

ویب ڈیسک : 03اکتوبر2019
راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کا تعلق معیشت ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید کی زیر میزبانی میں آرمی آڈیٹوریم میں معیشت اور سیکیورٹی کے باہمی اثر و نفوذ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں حکومت کی معاشی ٹیم اور ملک کے کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیمینار کے انعقاد کا مقصد ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے تجاویز تیار کرنا تھا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ایسے مباحثوں کا مقصد تمام فریقین کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے، اقتصادی ٹیم نے تاجر برادری کو حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔سیمینار سے خطاب میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کا تعلق معیشت سے ہے اور ملک میں داخلی سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کے اقتصادی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ نجی اور سرکاری اداروں میں بڑھتے ہوئے روابط مثبت اقدام ہیں۔

آرمی چیف نے راولپنڈی کے آرمی آڈیٹوریم میں ’ انٹرپلے آف اکنامک اینڈ سیکیورٹی‘ کے موضوع پر منعقد سیمینار کے اختتامی سیشن سے خطاب کیا جس میں حکومت کی معاشی ٹیم اور مک کی تاجر برادری نے شرکت کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ حکومتی معاشی ٹیم کی کاروباری طبقے تک رسائی اور جوابدہی، سرکاری و نجی اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی معاشی سرگرمیوں کے لیے مثبت عمل ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ قومی سلامتی کا معیشت سے گہرا تعلق ہے جبکہ خوشحالی کے لیے سیکیورٹی ضروریات اور معاشی ترقی میں توازن ضروری ہے.جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ مختلف مباحثوں اور سیمینارز کا مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا اور آگے بڑھنے کےلیے تجاوزیز مرتب کرنا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق حکومتی معاشی ٹیم نے تاجر برداری کو حکومت کی جانب سے کاروبار میں آسانی کے لیے متعارف کیے گئے اقدامات اور ملکی معیشت کے استحکام کی کوششوں کے حوصلہ افزا نتائج سے آگاہ کیا۔
کاروباری شخصیات نے سیمینار میں ملک میں کاروبار میں آسانی کے لیے حکومتی ٹیم کو تجاویز دیں اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد اور ٹیکسوں کی ادائیگی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔
واضح رہے کہ آرمی چیف سے ملاقات کا معاملہ سوشل میڈیا پر اہم موضوع رہا جہاں کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ کاروباری شخصیات نے معاشی معاملات کے لیے سویلین انتظامیہ تک رسائی کے بجائے براہ راست آرمی چیف سے کیوں ملاقات کی۔آج (3 اکتوبرکو ) جاری ہونے والا آئی ایس پی آر کا بیان میڈیا میں زیرگردش ان رپورٹس کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کاروباری شخصیات نے آرمی چیف کے سامنے حکومتی معاشی ٹیم سے اپنی شکایات بیان کیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے