نیب کا آج سے ٹیکس معاملات میں مداخلت نہ کرنےکا اعلان

آرمی چیف کے سامنے نیب سے متعلق تاجروں کے تحفظات بلا جواز تھے، چیئرمین نیب

ویب ڈیسک : 06اکتوبر2019
اسلام آباد:چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو آج کے بعد سے ٹیکس معاملات میں مداخلت اور کسی کسی تاجر یا بزنس مین کو کال نہیں کرے گا۔اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو ( نیب ) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے تاجر برادری اور ٹیکس سے متعلق اہم اعلانات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کا ادارہ آج سے کسی بھی بزنس مین کو فون نہیں کرے گا، نیب آج کے بعد ٹیکس سے متعلق کسی معاملے پر مداخلت بھی نہیں کرے گا۔چیئرمین نیب کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکس بچانے کے معاملات اگلے ہفتے سے ایف بی آر دیکھے گا، بزنس مین کو نیب کی جانب سے نوٹس بھیجا جائے گا۔ ٹیکس بچانے یا بینک ڈیفالٹ کا معاملہ متعلقہ بینک یا اسٹیٹ بینک دیکھے گا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی بزنس مین کو نیب کا افسر کوئی کال نہیں کرے گا، بزنس مین کو نیب کی جانب سے نوٹس بھیجا جائے گا، سوالنامے کے جواب میں بھی تسکی بخش جواب نہ آئے تو پھر زحمت دی جائے گی-اس موقع پر انہوں نے تاجر برادری کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی ماڈل کے اختیارات کی کبھی خواہش نہیں کی، ادارے پر الزام لگیں گے تو بطور چیئرمین جواب دینے کا حق رکھتا ہوں۔ تاجروں کے بعض تحفظات کی نفی کرتا ہوں۔ انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ پالیسیاں بنانے میں نیب کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سامنے نیب سے متعلق تاجروں کے تحفظات کو بلا جواز قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ تاجروں کے وفد نے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کیں اور نیب پر تحفظات کا اظہار کیا۔
چیئرمین نیب نے دعویٰ کیا کہ ’جن احباب نے اجلاس میں نیب سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا انہوں نے خود نیب کے حق میں تعریفی مراسلے لکھے‘۔انہوں نے بتایا کہ ’نیب کی تعریف سے متعلق لکھے گئے مراسلے کو کسی مناسب وقت پر عیاں کیا جاسکتا ہے تاہم تحریر کنندہ کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا تاکہ کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو‘۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ’اگر تاجر برادری کو نیب سے متعلق تحفظات تھے تو وہ بتائے جاتے، کوئی بھی ادارہ یا شخص عقل کُل نہیں اگر کوئی غلطی یا خامی تھی تو اس کا اظہار کیا جاسکتا تھا‘۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ٹیکس لگانے اور اس کے اضافے میں نیب کا کوئی کردار نہیں۔انہوں نے واضع کیا کہ اسٹاک ایکسچینج اور ڈالر کے اتار چڑھاؤ میں نیب کوئی کردار ادا نہیں کرتا لیکن نیب کاروباری طبقے کو مزید فعال کرنے کی متعدد کوششیں کررہا ہے۔
خیال رہے کہ 3 اکتوبر کو آرمی چیف نے راولپنڈی کے آرمی آڈیٹوریم میں ’انٹرپلے آف اکنامک اینڈ سیکیورٹی‘ کے موضوع پر منعقد سیمینار کے اختتامی سیشن سے خطاب کیا تھا، جس میں حکومت کی معاشی ٹیم اور ملک کی تاجر برادری نے شرکت کی تھی۔آئی ایس پی آر کے مطابق حکومتی معاشی ٹیم نے تاجر برداری کو حکومت کی جانب سے کاروبار میں آسانی کے لیے متعارف کیے گئے اقدامات اور ملکی معیشت کے استحکام کی کوششوں کے حوصلہ افزا نتائج سے آگاہ کیا تھا۔
بعدازاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کرنے والے تاجروں کا کہنا تھا کہ اجلاس پُرسکون اور خوشگوار ماحول میں منعقد ہوا جس کا مقصد معیشت کی بحالی سے متعلق توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت اور تاجر برادری کے درمیان اعتماد پیدا کرنا تھا۔
چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ’یہ میرا مینڈیٹ ہے اور نہ ہی میں سیاستدان ہوں لیکن کچھ تحفظات بے بنیاد تھے اور میں ان کی نفی کرتا ہوں اور بلاجواز تنقید کا جواب دینا ضروری ہے‘۔انہوں نے بتایا کہ ’کسی بھی ملک کے زوال میں بدعنوانی کا اہم کردار ہوتا ہے تاہم نیب کی ساری توجہ انسداد کرپشن پر مرکوز رہی’۔ان کا کہنا تھا کہ ’سوچ بھی نہیں سکتے کہ نیب ایسے اقدامات اٹھائے جس سے تاجر برادری کا مورال مجروح ہو‘۔چیئرمین نیب نے کہا کہ لاہور میں چیئرمین آف کامرس کے ایک عہدیدار نے مجھ سے سوال کیا کہ ’اگر سعودی عرب میں لوٹی ہوئی دولت 4 ہفتوں میں واپس لائی جاسکتی ہے تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟‘انہوں نے بتایا کہ ’نیب کی کبھی یہ خواہش نہیں رہی کہ سعودی ماڈلز کے اختیارات دیے جائیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’کیا مجھے علم نہیں کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے جہاں آئین کی بالادستی ہے اور ریاستی ادارے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں تو یہ خواہش بڑی عجیب سی ہوگی کہ مجھے وہ اختیارات دیے جائیں جو صرف بادشاہت اور آمریت میں ہی ممکن ہے‘.جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بتایا کہ ’میں نے عہدیدار کو یہ ضرور جواب دیا کہ اگر نیب کو بھی سعودی عرب کے ماڈلز کے اختیارات مل جائیں تو میں 3 ہفتوں میں لوٹی ہوئی دولت واپس لا کر دکھاوں گا’۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے