مذہبی درسگاہ کے نگران نے معاوضہ مانگنے پر الیکٹریشن پر پالتو شیر چھوڑ دیا

ویب ڈیسک : 13اکتوبر2019
لاہور: پولیس نے الیکٹریشن پر پالتو شیر چھوڑنے کے الزام میں امام بارگاہ کے نگران کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ دائر کردیا۔
پولیس کے مطابق 9 ستمبر کو پیش آنے والے اس واقعے میں الیکٹریشن کو متعدد زخم آئے۔پولیس کے ذرائع نے تفیصلات بتائیں کہ مقامی امام بارگاہ کے نگران علی رضا کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ الیکٹریشن پر پالتو شیر چھوڑنے کا واقعہ ایک ماہ قبل پیش آیا لیکن شکایت 2 روز قبل درج کرائی گی۔ان کا کہنا تھا کہ ’الیٹرڑیشن گزشتہ ایک ماہ سے اپنے معاوضے کا تقاضہ کررہا تھا‘۔شکایت کنندہ محمد رفیق نے بتایا کہ وہ علی رضا کے خلاف شکایت درج کرانے پر اس وقت مجبور ہوا جب مشتبہ ملزم نے وعدہ خلافی کی اور زخموں کا علاج کرانے اور معاوضے کی ادائیگی سے انکار کیا۔ایف آئی آر کے مطابق علی رضا نے امام بارگاہ میں کام کرانے کے لیے الیکڑیشن کی خدمات حاصل کیں، کام ختم کرنے کے بعد جب رفیق نے معاوضے کا تقاضہ کیا تو علی رضا نے ادائیگی کے لیے چند روز بعد آنے کا کہا۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’نگراں علی رضا نے متعدد مرتبہ رفیق کو بلا کر ادائیگی نہیں کی اور ایک دن جب الیکڑیشن رفیق نے اصرار کیا تو علی رضا نے پالتو شیر اس پر چھوڑ دیا جس کے نتیجے میں الیکٹریشن کے چہرے اور بازو پر گہرے زخم آئے‘۔شکایت کنندہ نے کہا کہ حملے کے دوران مشتبہ ملزم اور اس کے تین ساتھی محض تماشائی بنے رہےاور شیر سے بچانے کے قعطاً کوشش نہیں کی۔رفیق نے بتایا کہ اس دوران چیخنے چلانے کی وجہ سے راہ گیر متوجہ ہوئے اور ان کی مداخلت پر شیر کو پیچھے ہٹایا گیا۔واقعہ کی تصدیق کے بعد پولیس نے علی رضا کے خلاف پاکستان پینل کوڈ دفعہ 324 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے