آزادی مارچ سے قبل مولانا فضل الرحمان کی ممکنہ گرفتاری زیرغور

ویب ڈیسک : 13اکتوبر2019
لاہور: وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے وزیراعلیٰ، گورنر، وزیر قانون، وزراء اور اتحادیوں سے تجاویز طلب کرلیں۔ذرائع کے مطابق سربراہ جے یو آئی ایف مولانا فضل الرحمان کی ممکنہ گرفتاری بھی زیر غور ہے۔بتایا جارہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان، بھائیوں اور قریبی ساتھیوں کے پرانے کیسز بھی کھولنے کا امکان ہے۔حکومتی وزیر ڈیرہ اسماعیل خان میں زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کو نیب سے تحقیقات کروانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو پنجاب کے کن کن مدارس سے مدد مل سکتی ہے، وفاق نے اس حوالے سے بھی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے والی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور رہنماوں کی فہرستیں بھی وفاق نے طلب کرلی ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت کی پہلی ترجیح میں آزادی مارچ کو بیک ڈور کے ذریعے ناکام بنانا شامل ہے۔چوہدری پرویز الٰہی، گورنر پنجاب سمیت دیگر رہنماؤں کا حزب اختلاف جماعتوں سے جلد رابطے کا امکان ہے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی بیک ڈور ڈپلومیسی کا ٹاسک دے دیا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے