پاکستان میں مہنگائی مزید بڑھے گی،عالمی بینک نے خبردار کردیا

ویب ڈیسک : 14اکتوبر2019
اسلام آباد: پاکستان معاشی مشکلات سے نکلنے کے لیے کوشاں ہے تاہم عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کچھ زیادہ مثبت پیشگوئیاں نہیں کیں۔ساؤتھ ایشیا فوکس: میکنگ ڈی سینٹرلائزیشن ورک‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں بتایا کہ سنگین خساروں اور غیر ملکی زرمبادلہ میں کمی پاکستان کی سست رفتار معیشت کی اہم وجہ ہے۔آئی ایم ایف کے توسیعی پروگرام کے باعث مستقبل قریب میں پاکستان کی شرح نمو 3.3 فیصد ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی سال 2020 میں شرح نمو میں 2.4 فیصد تک کمی کا امکان ہے۔تاہم عالمی بینک نے یہ نوید بھی سنائی کہ شرح نمو سست روی سے بحال ہونے کا امکان ہے جو مالی سال 2021 میں تین فیصد تک بڑھے گی۔
تاہم یہ ریکوری متعلقہ مستحکم عالمی منڈیوں، بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی، سیاسی اور سیکیورٹی خدشات میں کمی سے مشروط ہے۔رپورٹ کے مطابق میکرواکنامک ایڈجمسٹمنٹ کے دوران غربت کے خاتمے میں کمی پر پیش رفت محدود ہوجائے گی۔عالمی بینک نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں گردشی قرضوں کی شرح میں اضافہ، مالی اور بیرونی بفرز کو نقصان پہنچا جس سے معاشی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
2021 میں مہنگائی میں 13 فیصد تک اضافے کا امکان ہے تاہم اس کے بعد اس میں کمی آنا شروع ہوجائے گی۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی شرح نمو 6.9 فیصد سے گر کر 6 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔اسی طرح بنگلہ دیش میں شرح نمو 8.1 تک رہنے کا امکان ہے۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2020ء میں مہنگائی کی شرح 13 فیصد تک رہنے کا خدشہ جبکہ معاشی گروتھ ریٹ ہدف سے بھی آدھا رہنے کا امکان ہے۔ ترقی کا انحصار سیاسی استحکام، سیکیورٹی اور خام تیل کی قیمت پر منحصر قرار دیا گیا ہے۔ق ورلڈ بینک نے پاکستان کی معیشت پر رپورٹ جاری کی ہے جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ملک میں معاشی ترقی کی شرح 2 اعشاریہ 4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔مالی سال 2019ء میں معاشی ترقی کی شرح 3 اعشاریہ 3 فیصد رہی تھی۔ سخت مانیٹری پالیسی کے باعث معاشی ترقی کی شرح میں کمی آئے گی۔ جبکہ مالی سال 2021ء میں معاشی ترقی کی شرح 3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اصلاحاتی عمل سے مسابقت بڑھ رہی ہے۔ معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، تاہم معاشی ترقی کا انحصار سیاسی استحکام، سیکیورٹی اور خام تیل کی قیمت پر ہے۔ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2020ء میں مہنگائی کی شرح 13 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ روپے کی قدر کمی میں سے اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔مالی سال 2021ء میں مہنگائی کی شرح 8 اعشاریہ 3 فیصد تک رہنے اور جاری کھاتوں کا خسارا جی ڈی پی کے 2 اعشاریہ 2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈالر مہنگا ہونے سے درآمدات میں کمی جبکہ برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ مالی سال 2020ء میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 7 اعشاریہ 5 فیصد تک رہنے اور 2021ء میں مالیاتی خسارا جی ڈی پی کا 6 اعشاریہ 2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بیرونی ادائیگیاں پاکستان کے لئے مسئلہ رہیں گی جبکہ معاشی سست روی اور مہنگائی کے باعث غربت میں کمی کا امکان نہیں ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے