بھارتی مظالم سے تنگ کشمیریوں نے سول نافرمانی کرنے کا فیصلہ کر لیا،رپورٹ

ویب ڈیسک : 14اکتوبر2019
نئی دہلی: بھارت کی سول سوسائٹی نے اپنے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کشمیر کی عوام نے سول نافرمانی کا فیصلہ کر لیا ہے۔رپورٹ کے مطابق کشمیر میں کاروبار اور دفاتر نہ کھولنا بھارت کیخلاف احتجاج ہے جو پہلے نہیں کیا گیا۔
سول سوسائٹی کے مطابق کشمیر میں حالات ویسے نہیں ہیں جیسے حکومت پیش کر رہی ہے، وادی میں بھارتی ملٹری لوگوں کو دکانیں کھولنے پر مجبور کر رہی ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت مظلوم کشمیریوں کو جب چاہے حراست میں لے کر ظلم کر رہا ہے اور کشمیریوں نے کاروبار بند کر کے پر امن جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔کشمیری عوام اب بھارتیوں کے ساتھ مزید بات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، بھارت کی ہٹ دھرمی نے بات چیت کے راستے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے، بھارتیوں کے رویے نے کشمیریوں کو پر اسرار خاموش مظاہرین میں بدل دیا ہے۔سول سوسائٹی کے مطابق پر اسرار خاموش احتجاج اور سول نافرمانی طوفان سے پہلے کی نوید ہے۔
خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کرفیو اور پابندیاں 71ویں روز بھی جاری ہیں اور 80 لاکھ افراد کی تاریخ کے سب سے طویل لاک ڈاون کے باعث قید دنیا کی خاموشی پر سوال اٹھا رہی ہے۔
بھارت نے وادی میں پوسٹ پیڈ کی سروس بحال کی لیکن وادی میں انٹرنیٹ سروس ابھی تک بحال نہیں کی گئی۔ مواصلاتی بلیک آؤٹ نے مقبوضہ وادی کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا ہے۔کشمیر میں بھارتی تسلط کی علامت غاصب فوج ہے جسے کشمیریوں کا خون بہانے کی آزادی حاصل ہے جب کہ بھارتی وزیر دفاع راج نا تھ سنگھ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے پاکستان کشمیر کو بھول جائے۔مودی سرکار کی شہہ پر قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں دہشت کا ماحول پیدا کر رکھا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹیجو نے ایک بار پھر مودی سرکار کو بھارت کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خطرناک طوفان بھارت کی طرف بڑھ رہا ہے اور بھارتیوں کی آنکھیں اور کان بند ہیں۔
انہوں نے نریندر مودی کو ایک خالی دماغ کے جوکر سے تشبیح دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا بندہ جس کے دماغ میں صرف نفرت بھری ہوئی ہے اور جو لوگوں کو الگ الگ کرتب کر کے دکھاتا رہتا ہے وہ اس ملک کا سربراہ بنا بیٹھا ہے۔
ادھربھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 73 روز بعد وادی میں پوسٹ پیڈ سروس پر کال کی سہولیات بحال کردیں جبکہ انٹرنیٹ سروس تاحال بند ہے۔خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے 20 لاکھ سے زائد پری پیڈ موبائل کنیکشنز اور انٹرنیٹ سروسز پر عائد پابندی جاری رہے گی۔دو روز قبل مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کے ترجمان روہت کنسال نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ ’پوسٹ پیڈ سروس سے منسلک تمام موبائل فون کی سروسز بحال کردی جائیں گی جو پیر (آج ) سے فعال ہوگی‘۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ سروس بحالی کا مذکورہ اقدام مقبوضہ کشمیر کے تمام اضلاع پر لاگو ہوگا۔ترجمان نے کہا تھا کہ مقبوضہ وادی میں سیکیورٹی جائزے کے بعد موبائل فون سروس کی جزوی بحالی کا فیصلہ کیا گیا۔تاہم روہت کنسال نے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ سروس بحال کیے جانے سے متعلق کوئی عندیہ نہیں دیا تھا۔دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد مواصلاتی روابط کی جزوی بحالی کے بعد مقبوضہ علاقے کے شہری پرسکون دکھائی دیے لیکن مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے اقدام سے متعلق غم و غصہ تاحال موجود ہے۔
اکثر شہریوں نے صورتحال پر برہمی کا اظہار کیا، کچھ نے کہا کہ گزشتہ 2 ماہ سے ایسا معلوم ہورہا تھا کہ مواصلاتی رابطوں کے بغیر ہم پتھر کے دور میں رہ رہے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے