دھرنے،احتجاج اور پالیسی ساز ادارے

اینکرنامہ:وقاص عزیز

دھرنے،احتجاج اور پالیسی ساز ادارے

وقاص عزیَز


پڑھتے، سنتے، دیکھتے آئے ہیں کہ احتجاج جمہوریت کا حسن ہوتا ہے، دنیا کے بڑے سے بڑے ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ ملک میں بھی پرامن طریقے سے احتجاج ہمیں تسلسل سے ہوتے دکھائی دئیے ہیں،چاہے بریگزیٹ کا معاملہ ہو،ٹرمپ کی پالیسیز ہوں یا کشمیر کاز کے لیے امریکہ، برطانیہ سمیت پوری دنیا میں ہونے والے احتجاج ہوں، مظاہرین، پلے کارڈز، پرامن واک، یا زیادہ سے زیادہ نعروں کی حد تک رہتے ہیں لیکن ماضی میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شاہراہ دستور اس ضمن میں عجب نقشہ پیش کرتی رہی ہے،اب اس نقشہ کو دوبارہ سے کھول کر دیکھا جائے اور اس میں منزل مقصود نامی کسی سٹاپ کو ڈھونڈا جائے تو بھول بھلیوں، شور شرابے، وقت کے ضیاع کے سوا ہمیں کچھ نہیں ملے گا۔
پارلمنٹ کا دروازہ پھلانگنا ہو، پی ٹی وی پر حملہ ہو، شہراقتدار کا لاک ڈاؤن ہو، کنٹینرز کی بھرمار ہو،مال روڈ لاہور پر آئے روز کے دھرنا تماشے ہوں، پاکستان میں ہونے والے دھرنے "سیاسی مزار” پر پکنے والی "شب دیگ” کی صورت مسلسل اختیار کیے رکھتے ہیں۔موجودہ حکومت جسے یار لوگوں نے دھرنا حکومت کا نام دیا،ایک طویل دھرنے کی صورت میں سیاسی جدوجہد کر چکی ہے اور اس ضمن میں وسیع تجربہ رکھتے ہوئے دھرنے کو سیاسی حق بھی قرار دیتی ہے مگر معاملہ یہاں پر بھی یوٹرن ہوتا دکھائی دیتا ہے اور یہ بھول بھی نظر آتی ہے کہ ن لیگ کی فراخدلی کے سبب ہی عمران خان سیاسی تاریخ کا طویل ترین دھرنے دینے میں کامیاب ہوئے تھے لہذا جمہوریت و پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھنے والے وزیراعظم اور ان کے مشیران کو مولانا کے دھرنے یا ایوزیشن کے کسی بھی احتجاج کو کھلے دل سے خوش آمدید کہنا چاہیے۔
اگر تصویر کے دوسرے رخ کو دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کچھ مخصوص مطالبات پورے نہ ہونے اور اپوزیشن کی مسلسل”رگڑائی” کے سبب آزادی دھرنے کی کال دینے پر مجبور ہوئے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے کہ مولانا کے "کیسز” جن کا میں آگے چل کر تذکرہ کروں گا کو نہ صرف کھولنا چاہیے بلکہ مولانا کو عدالتوں اور اداروں کا احترام کرتے ہوئے ان کا سامنا کرنے اور ان سے جان خلاصی ہونے کے بعد ہی دھرنا دھرنا کھیلنا چاہیے۔
وائے قسمت کہ جو "آزادی "لاکھوں جانوں اور ان گنت عزتوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل کی گئی تھی اسے اب ڈنڈوں، کنٹینروں، معیشت اور وقت کے ضیاع اور نوجواںوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی صورت میں ایک بھونڈا مذاق بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
میں مولانا فضل الرحمان کی بطور استاد اور عالم کی اتنی ہی عزت کرتا ہوں جتنی اپنے اساتذہ کی، کیونکہ مرے دادا جان علامہ غازی عبدالعزیز اور نانا جان جناب عبدالرحیم نقشبندی اپنے وقت کے جید علمائے کرام میں سے تھے جن کے شاگردوں کا ایک وسیع حلقہ اس وقت ملک و قوم کی خدمت میں مصروف عمل ہے جن کا طریق محبت و امن ہے نہ کہ انتشار و فتنہ و فساد،یہی سبب ہے کہ مولانا فضل الرحمان ایک زیرک سیاستدان ہونے کے باوجود ایک ایسا گڑھا کھودنے جا رہے ہیں جس میں آگ ہی آگ بھری ہوئی ہے۔
اس پر حکومتی طرزعمل اور پالیسی میکرز کو دیکھا جائے تو میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اگر قوم کا لوٹا ہوا پیسہ برآمد نہیں کروا سکتے تو” بند” کیوں رکھا ہوا ہے، کیوں ہمدردی کے ووٹ بڑھائے جا رہے ہیں؟؟؟ قوم کو کیوں انتظار کی سولی پر ٹانگا جا رہا ہے یہی سبب ہے کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے لے کر اب تک ایک بھی فیصلہ یا اقدام ایسا سامنے نہیں آیا جسے قوم کے لیے دور رس نتائج کا حامل قرار دیا جا سکے۔
مثلا زرداری اور نواز شریف کی گرفتاریوں بمعہ اہل و عیال کو ہی لے لیں۔کیا نیب،ایف بی آر و دیگر اداروں کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ ایک مخصوص وقت کے اندر اندر تمام تفتیش مکمل کر کے پیسہ برآمد کیا جا سکے۔
اثاثے ضبط کرنا،بینک اکاونٹس منجمند کرنا پرانی روش ہو چکی ہے، صاحب جدید دنیا کے جدید تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے قوم کو یہ چوسنی دینی بند کرنی چاہیے کہ ستر سال کا گند کیسے اک دم صاف ہو؟
اک دم بالکل صاف ہو سکتا ہے اگر اداروں کو ایک پالیسی اور مخصوص وقت کے اندر کام مکمل کرنے کی ہدایت کی جائے۔جب جھول بھرے اقدامات کیے جائیں گے تو اپوزیشن کجا ہر شخص کو انگلی اٹھانے کا موقع مل جائے گا اور نتیجہ "آزادی دھرنے” یا اس سے کچھ مزید کی صورت میں نکلے گا۔اس پر بات کرنا اس وقت بالکل لاحاصل لگ رہا ہے کہ حکومتی بنچز میں مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کو لے کر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔یہ تشویش نہیں بلکہ اندر کھاتے عوامی مسائل اور تنقید سے توجہ ہٹنے پر مولانا کا شکر ادا کرنا ہے اور یہ شکر یا شکریہ مکمل نہیں ہو گا، بھلے مولانا نے دھرنے کی تاریخ بدلی، ڈنڈا بردار آزادی فورس تیار کی، اس کا معائنہ بھی کیا، جو "ریاست کے اندر ریاست” کا واضح پیغام ہے مگر اس سب کے باوجود بھی یہ دھرنا مقررکردہ تواریخ میں ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔اس کا سب سے بڑا سبب اپوزیشن جماعتوں میں اتحاد کا عنصر نہ ہونا اور پھر حامی قوتوں کا مولانا کا مخالف ہونا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے