آزادی مارچ روکنے کیلئے حکومت کی نئی حکمت عملی

مولانا فضل الرحمان کا احتجاج، حکومت نے اپوزیشن سے رابطے شروع کردیے

ویب ڈیسک : 17اکتوبر2019
اسلام آباد:مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کو روکنے کے لیے حکومت نے نئی حکمت عملی بنا لی اور مذاکرات کےلئے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں بننےوالی کمیٹی میں سینئر سیاست دانوں کو بھی شامل کرنےکا فیصلہ کر لیا۔
وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے حوالے سے وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں 4 رکنی مذاکراتی کمیٹی بنائی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی میں چاروں صوبوں کے پارٹی نمائندے شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن اب کمیٹی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی،اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر،اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالہیٰ اوراسد عمر کو بھی شامل کیے جانے کاامکان ہے -کمیٹی میں نئے ارکان کے ناموں کی حتمی منظوری وزیر اعظم دیں گے۔
حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویزخٹک نے ممکنہ احتجاجی مارچ کیخلاف اپوزیشن سے رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا اپوزیشن سے رابطے کے جلد مثبت نتائج آئیں گے۔ اپوزیشن کے ممکنہ احتجاجی مارچ کیخلاف حکومت نے اپوزیشن سے رابطوں کا آغاز کردیا، جس کی حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویزخٹک نے تصدیق کردی ہے۔
اس حوالے سے وزیردفاع پرویزخٹک نے کہا ہے کہ اپوزیشن سے رابطہ شروع کر دیا ہے جلد مثبت نتائج آئیں گے،ہماری بات چیت شروع ہو چکی ہے، کل سے رابطے مزید تیز کر دیں گے، کب کہاں اور کس سے رابطے ہوں گ ابھی کچھ نہیں کہ سکتا۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ کورکمیٹی نے تمام اپوزیشن جماعتوں سے بات کرنے کی ذمہ داری دی ہے،احتجاج کا حصہ بننے والے تمام جماعتوں سے رابطہ کریں گے، کمیٹی کے ممبران کا فیصلہ آج شام تک کر لیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ کمیٹی 5 یا 6 سینئر رہنماوں پر مشتمل ہو گی،کمیٹی بنانے کا مقصد ان کا ایجنڈا معلوم کرنا ہے، جائز مطالبات ہیں تو حکومت ان کی بات سنے گی،حکومت ملک میں ہنگامہ آرائی اور انتشار کی اجازت نہیں دے گی،جمہوری ملک ہے مولانا سے بات چیت کر کےہی حل نکالیں گے۔
یاد رہے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کورکمیٹی اجلاس میں مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کیلئے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے پرویز خٹک کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کردیا تھا۔
بعد ازاں وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ کور کمیٹی اجلاس میں اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، مولانا فضل الرحمان سے جرگے کے لیے انھیں دعوت دی جائے گی۔
دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے کمیٹی سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ نہ انہیں کسی حکومتی کمیٹی کا علم ہے اور نہ ہی کسی نے ان سے رابطہ کیا ہے، مذاکرات صرف وزیراعظم کے استعفے کے بعد ہوں گے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے