پنجاب کی آخری تحصیل صادق آباد حکومتی عدم توجہی کا شکار،مسائل کے انبار

ویب ڈیسک : 18اکتوبر2019
صادق آباد:حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی مسلسل عدم توجہی اور میونسپل کمیٹی کی غفلت کے باعث پنجاب کی آخری تحصیل صادق آباد کے بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔شہر اور مضافات میں سیوریج اور صفائی کا نظام انتہائی ابتر ہوچکا ہے۔شہر کے گنجان آباد رہائشی علاقوں میں سیوریج کا پانی اور گندگی کے ڈھیر شہریوں کے لیے وبال جان بنے ہوۓ ہیں۔انتظامیہ کے افسروں نے شہر کے سلگتے مسائل پر توجہ دینے کے بجاۓ چشم پوشی اختیار کررکھی ہے اور پرکشش عہدوں و سرکاری مراعات کے مزے اڑا رہے ہیں۔جگہ جگہ گٹر ابلنے پر سینٹری انسپکٹرکی باز پرس کی جاتی ہے نہ ہی عملہ صفائی کو ڈانٹ پلائی جاتی ہے۔رہائشی کالونیوں کی گلیاں جوہڑ بنی ہوئی ہیں۔جبکہ شہر کے مصروف ترین بازاروں میں بھی گٹروں کا پانی جمع ہے۔صرافہ بازار میں گٹرابلنے سے گندا پانی سڑک پر پھیل گیا جس کی وجہ سے جہاں دکانداروں کو پریشانی کا سامنا ہے وہیں گاہکوں کا گزرنا بھی محال ہوچکا ہے۔تعفن سے ماحول آلودہ ہورہا ہے جبکہ بلدیہ حکام سیوریج کی بحالی کے بجاۓ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے عوام اور تاجروں کے ٹیکسوں سے ملنے والی پرکشش تنخواہوں کے مزے اڑارہے ہیں۔دوسری طرف عوامی سیاسی نمائندوں نے بھی عوام کو وعدوں اور کھوکھلے دعوؤں کے لولی پاپ دے کر بہلا رکھا ہے۔شہر کے مسائل گھمبیر صورت حال اختیار کرچکے ہیں۔آۓ روز گٹر ابلنے سے عوام شدید پریشان ہیں۔شہر کی کئی کالونیوں میں گٹروں کے ڈھکن غائب ہیں۔آرائیں کالونی مین گلی میں کھلے مین ہول موت کے کنویں بن چکے ہیں۔راہگیر اور بچے ان گلیوں میں سے گزرنے سے ڈرتے ہیں۔


آرائیں کالونی مین گلی میں کھلے مین ہولز انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں


شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ صادق آباد کا کوئی والی وارث ہی نہیں ہے۔کوئی بھی حکومتہو یہاں کے مسائل حل ہونے کے بجاۓ جوں کے توں ہیں۔مقامی حکومتوں کے دور میں بلدیاتی نمائندے اختیارات اور فنڈز نہ ملنے کا رونا روتے تھے۔اب پی ٹی آئی کی حکومت ہے لیکن صادق آباد پر کسی کی نظر نہیں۔شہری مسائل حل کرانا مقامی انتظامیہ اسسٹنٹ کمشنر کی ذمہ داری ہے لیکن موصوف نے کبھی شہری علاقوں کا دورہ کرناہی گوارہ نہیں کیا۔ہم کس کے پاس فریاد لے کرجائیں۔ڈپٹی کمشنر بھی رحیم یارخان میں بیٹھ کر صرف اجلاس اجلاس کھیل رہے ہیں۔کھلی کچہری بھی بند کمرے میں لگائی جاتی ہے لیکن ان کے احکامات اور ہدایات پر عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آرہا،شہریوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی مداخلت کے باعث انتظامی مشینری مفلوج دکھائی دیتی ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تبدیلی کے نعرے لگانے والوں کی حکومت میں بھی صادق آباد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،تبدیلی والے بھی کوئی خاطرخواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ملاقاتوں اور دوروں سے عوام کو بہلایا جارہا ہے۔شہر کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔دیہات کو ملانے والی رابطہ سڑکیں کھنڈر بن چکی ہیں۔چندرامی روڈ کو دورویہ بنانے کے اعلانات محض اعلانات ہی ثابت ہوۓ ہیں۔ٹوٹی سڑکوں پر آۓ روز حادثات رونما ہورہے ہیں۔منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے بھی عوام کو شدید مایوس کیا ہے۔صادق آباد کے شہری اور دیہی علاقے مسائلستان بنے ہوۓ ہیں۔عوام ،محرومیوں،مسائل اور پسماندگی کی چکی میں پس رہے ہیں لیکن کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے۔


حبیب کالونی کی مین سڑک کئی سال سے جوہڑ بنی ہوئی ہے،سکول کے بچیاں اور معلمات اسی راستے سے گزرکرجاتی ہیں


ادھر بائی پاس سے ملحقہ حبیب کالونی کے مکینوں نے احتجاج کرتے ہوۓ بتایا کہ حبیب کالونی یونین کونسل فتہ کٹہ میں شامل ہے۔کچی سڑکیں اور سیوریج سسٹم نہ ہونے سے یہاں کے مکین انتہائی مشکلات کا شکار ہیں۔سابق دور میں پیر پگارا کی فنکشنل لیگ اور پھر پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پرحلقہ سے مخدوم سید احمد محمود کے صاحبزادے مخدوم مصطفی محمود یہاں سے ایم این اے اور مخدوم مرتضی محمود ایم پی اے منتخب ہوچکے ہیں۔اس دور میں یہاں سیوریج کا منصوبہ دیا گیا جو مکمل ہونے سے پہلے ہی ناکارہ ہوچکا ہے۔اب صورت حال یہ ہے کہ حبیب کالونی کی مین روڈ مستقل جوہڑ بنی ہوئی ہے۔تعفن سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔بارش کے دنوں میں پانی گھروں میں داخل ہوجاتا ہے۔سماجی کارکن بدر منیر،راسب علی،سابق کونسلر چودھری عبدالستار،دکاندار مقصود احمد نے بتایا کہ بچیوں کے سرکاری سکول کی گلی کچی ہے جس پر گہرے گڑھے پڑے ہوۓ ہیں جبکہ سکول کے اس راستے پر سیوریج کا پانی جوہڑ کی شکل میں موجود ہے جس کی وجہ سے سکول جانے والے بچوں اور بچیوں کو اسی گندے پانی میں سے گزر کر جانا پڑتا ہے جس سے ان کی کپڑے اور بستے خراب ہوجاتے ہیں۔


گورنمنٹ پرائمری سکول حبیب کالونی کا بیرونی منظر،سکول کی گلی کچی اور سیوریج کے پانی میں ڈوبی ہوئی ہے


انہوں نے بتایا کہ وہ کئی بار وزیراعظم کے سٹیزن پورٹل پر بھی تصاویر کے ساتھ شکایات درج کراچکے ہیں لیکن مقامی انتظامیہ کے افسر اس مسئلہ کو حل کرنے پر کوئی توجہ نہیں دے رہے۔حبیب کالونی کے مکینوں نے ڈپٹی کمشنر رحیم یارخان جمیل احمد جمیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خود آکر صورت حال کا جائزہ لیں اور مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرائیں۔گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول کی معلمات نے بھی سکول کی گلی میں سولنگ لگانے اور سیوریج کا پانی ختم کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے