جے یو آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات منسوخ

حکومت کیساتھ اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے،مولانا فضل الرحمن

ویب ڈیسک | 20اکتوبر2019
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حکومت کے ساتھ آج ہونے والے مذاکرات منسوخ کر دیئے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی نے 22 اکتوبر کو رہبر کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا جس میں اس متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
اس سے قبل جے یو آئی (ف) نے حکومت سے مذاکرات کے لیے چار رکنی کمیٹی قائم کی تھی جس میں مولانا عبدالغفور حیدری، اکرم درانی، مولانا عطاء الرحمٰن اور سینیٹر طلحہ محمود شامل تھے۔
اس سے قبل حکومتی کمیٹی کے رکن چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے رہنما جے یو آئی مولانا عبدالغفور کو ٹیلی فون کیا تھا۔حکومتی کمیٹی کی طرف سے جے یو آئی (ف) کے ساتھ پہلے باضابطہ رابطے میں فریقین میں ملاقات طے پائی تھی۔
عبدالغفور حیدری نے کہا تھا کہ وزیراعظم کے استعفے کے بعد ہی باضابطہ مذاکرات ہوں گے تاہم یہ دیکھنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ سے ملاقات میں کیا تجاویز اور سفارشات سامنے لائی جاتی ہیں۔کچھ روز قبل حکومت نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں سات رکنی کمیٹی کا اعلان کیا تھا۔کمیٹی میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، اسد عمر، چوہدری پرویز الٰہی اور وزیر تعلیم شفقت محمود شامل ہیں۔
ادھرجمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اور آج رات کی مذاکرات کی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں۔
مردان میں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ حکومتی وزراء کی پریس کانفرنس میں مذاکرات کی بات کم اور دھمکیاں زیادہ تھی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جس حکومت کا اپنا کوئی آئینی اور قانونی جواز نہ ہو وہ ہمیں کیا آئینی حدود بتائے گی؟
جے یو آئی (ف) کے حکومت کے ساتھ آج ہونے والے مذاکرات منسوخ
انہوں نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اور اس حوالے سے رہبر کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں حزب اختلاف کا متفقہ مؤقف سامنے آئے گا اور اس پر عمل ہوگا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انصار الاسلام رضاکار تنظیم اور ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ ہے، جو حکومت رضاکاروں سے خوفزدہ ہے وہ مسلح تنظیموں کا کیا مقابلہ کرے گی۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ اپوزیشن ایک صفحے پر ہے اور اس کا ایک ہی ہدف ہے، ہم اداروں کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پر مشکل وقت آیا تو ڈنڈا بردار محاز پر ہوں گے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے