جعلساز مافیا بے لگام،اب نقلی انڈے بھی مارکیٹ میں بکنے لگے

ویب ڈیسک : 21اکتوبر2019
کراچی:پاکستان میں ملاوٹ اور جعلساز مافیا نے ہر جگہ اپنے پنچے گاڑھ لئے ہیں،کہیں شہریوں کو کیمیکل ملا دودھ پلایا جارہا ہے تو کہیں جعلی گھی اور آئل تیار کرکے عوام کی صحت سے کھیلا جارہا ہے،ملاوٹ مافیا اس قدر بے لگام ہوچکا ہے کہ عوام کے کھانے پینے کی کوئی بھی چیز ملاوٹ سے پاک نہیں رہی،عوام کو اب مزید چوکنا ہونے پڑے گا کیونکہ مرغی کے انڈے بھی اب جعلی تیار کرکے مارکیٹ میں فروخت کئے جارہے ہیں ،کراچی کے علاقے ڈیفنس میں شہری کی نشاندہی پر پولیس اور سندھ فوڈ اتھارٹی حکام نے جنرل اسٹور پر چھاپہ مار کر مبینہ نقلی انڈوں کو قبضے میں لے لیا ۔
اس ضمن میں دکاندار سمیت چار افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔پولیس نے نقلی انڈوں سے بھرا ایک ٹرک بھی قبضے میں لے لیا۔
کراچی کے ایک شہری کی شکایت پر سندھ فوڈ اتھارٹی نے ڈیفنس خیابان سحر فیز 6 میں ایک دکان میں کارروائی کی اور درجنوں نقلی انڈے برآمد کر لئے۔
سندھ فوڈ اتھارٹی حکام نے بتایا کہ مصنوعی انڈے صحت کے لئے مضر ہیں ،نمونے ٹیسٹ کے لئے بھجوا دیئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ نقلی انڈا دکھنے میں چمکدار جبکہ اصلی کھردرا ہوتا ہے۔ نقلی انڈے کی زردی باآسانی مکس ہوجاتی ہے جبکہ اصلی انڈے کی زردی اچھی طرح پھینٹنے پر مکس ہوتی ہے۔
کراچی پولیس کے مطابق اس معاملے میں دکاندار،2ہول سیل ڈیلر زاورفارم ہاؤس سے تعلق رکھنے والے ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ کے مطابق ایک انڈے کو ٹیسٹ کے لئے محکمہ صحت کو بھیج دیا ہے۔ انڈوں کے35کارٹن سے بھرا ٹرک ضبط کرلیاہے ۔ انڈے بنانے کے عمل اور اس میں صداقت سے متعلق تحقیقات جاری ہیں ۔
واضح رہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے مبینہ جعلی انڈوں کی فروخت کے الزام میں گرفتار ملزم سید جمیل احمد کو ضمانت پر رہا کردیا۔کراچی پولیس کا عدالت میں مؤقف تھا کہ ذاتی شکایت پر نقلی انڈے برآمد کر کے دکاندار کو تحویل میں لیا ہے۔ انڈے کہاں بنتے ہیں اور کون سپلائی کرتا ہے تفتیش جاری ہے۔
عدالت کو ملزم نے کہا کہ یہ انڈے اس کی دکان سے نہیں خریدے گئے۔ جس شاپر میں انڈے لائے گئے ۔ وہ ہم استعمال نہیں کرتے۔ عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے