آصف زرداری بھی ہسپتال منتقل

جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری اور فریال تالپور کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید توسیع

ویب ڈیسک : 22اکتوبر2019
اسلام آباد: سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) منتقل کردیا گیا ہے۔آصف علی زرداری کو کارڈیک سنٹر میں داخل کیا گیا ہے اور اسپتال کی سیکیورٹی بھی سخت کردی گئی ہے۔
میڈیکل بورڈ نے آصف علی زرداری کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی تھی
پیپلزپارٹی رہنما سے صحافی نے سوال کیا کہ کنٹنیر لگ گئے گرفتاریاں ہو رہی ہیں کیا کہیں گے؟ کیا مولانا صاحب اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے؟
آصف علی زرداری نے کہا کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں، مولانا فضل الرحمان ان شاء اللہ ضرور کامیاب ہوں گے۔
قبل ازیں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہ آزادی مارچ کے لیے پہلےدن سے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ احتجاج سب کا جمہوری حق ہے اور جمہوری حق چھینا نہیں جاسکتا، ہم ظلم سے لڑتے آئے ہیں، آئندہ بھی لڑتے رہیں گے اور اپنی جدوجہد سے اس کٹھ پتلی حکومت کو گھر بھیجیں گے۔بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے تمام آپشنز بند کیے جانے کے بعد ہی سیاسی جماعتوں نے مجبوراً احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔
ادھرجعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے جوڈیشل ریمانڈ میں 12 نومبر تک توسیع کر دی گئی۔آصف زرداری اور فریال تالپور کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔
لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آصفہ بھٹو کی توہین عدالت کی درخواست پر رپورٹ مانگی تھی، جیل حکام سے پوچھا جائے کیوں عمل نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ آصفہ بھٹو آج خود پیش ہونا چاہ رہی تھیں لیکن میں نے انہیں روکا۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ قانون دیکھنا ہو گا کیا توہین عدالت ہے یا نہیں۔
نیب پراسیکیوٹر کے بولنے پر لطیف کھوسہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت جیل حکام نے کی ہے، نیب کیوں بول رہا ہے؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ نیب ریاست کا نمائندہ ہے اور ریاست توہین عدالت کرنے والوں کے ساتھ نہیں کھڑی ہوتی۔میگا منی لانڈرنگ ریفرنس پر دلائل دیتے ہوئے آصف زرداری کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آصف زرداری کو جیل میں ذاتی مشقتی فراہم کیا جائے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جیل میں سے ہی کسی قیدی کو بطور مشقتی فراہم کیا جا سکتا ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایسا نہیں ہوتا کہ باہر سے کسی کو لا کر جیل میں بطور مشقتی رکھ لیا جائے، قانون غیر متعلقہ افراد کو جیل میں بطور مشقتی قیدی کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔احتساب عدالت نے آصف زرداری اور فریال تالپور کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی۔ پارک لین ریفرنس کی سماعت بھی 12 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر سابق صدر آصف علی زرداری سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور آصفہ نے بھی ملاقات کی۔راجہ پرویز اشرف، فیصل کریم کنڈی، رحمان ملک، مہرین بھٹو اور دیگر پارٹی رہنما بھی ملاقات میں شریک تھے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کو کمر درد کی شکایت کے بعد پمز اسپتال اسلام آباد میں انکا طبی معائنہ کرنے اور زیر علاج رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیاہے۔
باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ آصف زرداری کے طبی معائنے کیلئے 4رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیدیا گیا ہے۔میڈیکل بورڈ میں شعبہ نیورو سرجری، قلب، میڈیسن کے ماہرین شامل کیے گئے ہیں۔ پروفیسر شجیع صدیقی چار رکنی میڈیکل بورڈ کے سربراہ مقرر ہوگئے ہیں۔میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر نعیم ملک، ڈاکٹر عامر شاہ اور ڈاکٹر ذوالفقار غوری شامل ہیں۔ میڈیکل بورڈ نے آصف زرداری کا طبی معائنہ کر لیا ہےاور آصف زرداری کو زیرعلاج رکھنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔
پمز اسپتال ذرائع کا کہناہے کہ سابق صدر کا بلڈپریشر، شوگر ٹیسٹ کر لیا گیا ہے۔ سابق صدر کا فشار خون یعنی بلڈ پریشر نارمل جبکہ بلڈ شوگرمقررہ معیار سے کم ہے۔آصف زرداری کے ایکسرے، ای سی جی ٹیسٹ مکمل ہوگئے ہیں جبکہ طبی تجزیے کے لئے خون اور پیشاب کے نمونے بھی حاصل کرلیے گئے ہیں۔ذرائع کا کہناہے کہ آصف زرداری کو کمر میں شدید درد کی شکایت ہے۔
واضح رہے کہ آج سابق صدر آصف علی زرداری کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد طبی معائنے کے لئے پمز اسپتال لایا گیا تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے