غیر ملکی سفیروں کا ایل او سی کا دورہ، ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ

بھارت مقبوضہ کشمیر اور ایل او سی پر سفرا، میڈیا کو لے کر جائے، ترجمان پاک فوج کا چیلنج

ویب ڈیسک : 22اکتوبر2019
راولپنڈی:پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے دعوے کو بے نقاب کرنے اور حقائق سے آگہی کے لیے غیر ملکی سفرا، ہائی کمشنرز اور میڈیا نمائندگان کو آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے جورا سیکٹر کا دورہ کرادیا اور اس موقع پر بریفنگ بھی دی۔ایل او سی کا دورہ کرنے کے لیے غیر ملکی سفرا، ہائی کمشنرز اور میڈیا نمائندگان وادی نیلم پہنچے، تاہم پاکستان میں متعین بھارتی ناظم الامور گورو اہووالیا ان سفرا کے ساتھ ایل او سی نہیں آئے۔
ایل او سی کا دورہ کرنے والے غیر ملکی سفرا کے ہمراہ وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا و سارک اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی موجود ہیں۔
اس دورے کے دوران سفرا و ہائی کمشنرز نے ان مقامات کا جائزہ لیا جنہیں بھارتی اشتعال انگیزی سے نقصان پہنچا تھا جبکہ ان ہتھیاروں کا بھی معائنہ کیا جو بھارتی افواج نے بلا اشتعال فائرنگ کے دوران شہری آبادی پر داغے تھے۔
ایل او سی کے دورے کے دوران پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے غیر ملکی سفرا اور میڈیا نمائندگان کو بریفنگ دی گئی۔اس دوران غیر ملکی سفارتکاروں کو پیشکش کی گئی کہ جہاں مرضی جائیں اور خود صورتحال کا جائزہ لیں۔


غیر ملکی نمائندوں نے آزادانہ طریقے سے جورا سیکٹر کا دورہ کیا —فوٹو: آئی ایس پی آر

بعد ازاں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 2018 میں بھارت کی جانب سے 3038 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی، جس میں 58 شہری شہید اور 319 زخمی ہوئے۔اسی طرح انہوں نے بتایا کہ 2019 میں بھارت نے اب تک 2 ہزار 608 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں 44 شہری شہید اور 230 زخمی ہوچکے ہیں۔
سفارتکاروں کو بریفنگ میں پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارتی فوج کے درمیان یہ فرق ہے کہ ہم فوجی اقدار پر عمل کرتے ہیں اور صرف بھارتی پوسٹوں کو نشانہ بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں پابندیوں کو 79 دن ہوچکے ہیں، بھارتی آرمی چیف کے جھوٹے دعوے بے نقاب ہوچکے ہیں کیونکہ سفارتی برادری ان کے پیچھے نہیں ہے۔سفرا نے بھارتی شیلنگ سے متاثرہ دکان کے مالکان سے ملاقات بھی کی —فوٹو: آئی ایس پی آر
اپنے دورے میں غیر ملکی سفارتکار جورا بازار بھی گئے، جہاں وہ مقامی آبادی اور دکانداروں سے ملے اور انہوں نے خود دکانوں اور گھروں کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لیا، جن کے بارے میں بھارت لانچ پیڈز کا دعویٰ کررہا تھا جبکہ حقیقت میں یہ تمام شہری ہیں جنہیں بھارت کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔
قبل ازیں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹوئٹ کی اور لکھا کہ کتنا اچھا بھارتی ہائی کمیشن ہے جو اپنے آرمی چیف کے ساتھ ہی کھڑا نہیں ہوسکتا؟
ڈی جی آئی ایس پی آر نے لکھا کہ بھارتی ہائی کمیشن کے عملے میں اخلاقی جرات نہیں کہ وہ پاکستان میں ساتھی سفرا کے ساتھ ایل او سی جائیں، تاہم غیر ملکی سفرا اور میڈیا کا ایک گروپ ایل او سی جارہا ہے تاکہ وہ زمینی حقائق دیکھ سکے۔
قبل ازیں اس دورے سے کچھ گھنٹوں قبل ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کچھ ٹوئٹس بھی کی تھیں، جس میں دورے کے حوالے سے بات کی گئی تھی۔
ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ ‘بھارتی آرمی چیف کا دعویٰ محض دعویٰ ہی رہ گیا، بھارت کا کوئی سفارتکار ایل او سی کے دورے پر نہیں آیا اور نہ ہی بھارت نے مبینہ لانچنگ پیڈز کے کوآرڈینیٹس فراہم کیے’۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ترجمان دفتر خارجہ نے ایک ٹوئٹ کی تھی، جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ‘بھارتی سفارتخانے نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پیش کش کا جواب نہیں دیا، یہ چیز اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ان کے پاس اپنے آرمی چیف کے جھوٹے دعووں کی حمایت کرنے کے لیے کوئی زمینی حقائق موجود نہیں ہیں’۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ بھارتی حکام جلد جواب دیں گے۔
واضح رہے کہ 20 اکتوبر کو آزاد جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال شیلنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک جوان اور 6 شہری شہید ہوگئے تھے۔بعد ازاں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے سماجی رابطے پر کیے گئے ٹوئٹ میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید جبکہ دیگر 2 زخمی ہوئے۔آئی ایس پی آر نے مزید بتایا تھا کہ پاک فوج نے بھارتی جارحیت کے جواب میں بھرپور کارروائی کرتے ہوئے بھارتی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 9 بھارتی فوجی ہلاک جبکہ دیگر 9 زخمی ہوگئے۔بیان میں مزید بتایا گیا تھا کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی کے باعث 2 بھارتی بنکرز بھی تباہ ہوگئے۔

ادھر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کو چیلنج دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر صرف ایک دن کے لیے سفارتکاروں اور میڈیا نمائندوں کو لے کر جائے اور پھر دیکھے کہ وہاں کے لوگوں کے دلوں میں کیسے پاکستان بستا ہے۔
میجر جنرل آصف غفور نے غیرملکی سفرا اور میڈیا نمائندوں کو آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے جورا سیکٹر کا دورہ کرانے کے موقع پر انہیں بریفنگ دی۔
علاوہ ازیں انہوں نے نجی ٹی وی چینل ‘جیو نیوز’ سے وابستہ صحافی حامد میر سے گفتگو کی اور کہا کہ بھارتی آرمی چیف نے جو بیان دیا اس کے بعد پاک فوج کے سربراہ نے مجھے کہا کہ انہیں یہ پیشکش کریں کہ اپنے دعووں کو سچ کرنے کے لیے وہ پاکستان سے اپنے من پسند سفارتکار اور میڈیا کو لیں، ہم انہیں جہاں وہ چاہیں گے انہیں لے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی سفیر اگر یہاں اپنے سربراہ کے پیچھے کھڑے ہونے کو نہیں آسکے تو ان کی کیا اخلاقی جرات ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی سفیر یا میڈیا کو لے کر جائیں۔ساتھ ہی میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ میرا اور پورے پاکستان کا چیلنج ہے کہ جس طرح سفارت کار اور میڈیا نمائندگان آج آزاد کشمیر میں آئے ہیں، اسی طرح بھارت صرف ایک دن کے لیےان لوگوں کو مقبوضہ کشمیر یا وہاں کی ایل او سی کی طرف لے کر جائیں اور پھر دیکھیں کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے دلوں میں پاکستان کیسے بستا ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے اندر جائیں اور وہاں سے حقائق سامنے لائیں اور بتائیں کہ 79 دن سے 80 لاکھ لوگ وہاں کس طریقے سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے